إلَّاہو

إلَّاہو

قدیم زمانے سے عرب لوگ خالق کائنات کے لیے ’’اللہ‘‘ کا لفظ استعمال کر رہے تھے۔ دوسرے معبودوں کے لیے ان کے یہاں ’’الہ‘‘ رائج تھا۔ خدائے قدوس جس کو ہم ’’اللہ‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اس میں بے شمار صفات ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے بہت سے ناموں سے خود کو موسوم کیا ہے۔ ان تمام اسمائے الٰہی کو قرآن مبین میں اسماء الحسنی کہا گیا ہے جس کے معنی بہترین اور خوب ترین ہیں۔ ہر نام اللہ تبارک و تعالی کی ایک صفت کا اظہار کرتا ہے۔ قرآن کریم میں آنے والے تمام اسماء الٰہی توفیقی کہلاتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ اسماء الحسنی خود اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمائے ہیں۔ کسی انسان نے تجویز نہیں کیے ہیں۔ اسماء الٰہی میں اپنی جانب سے یا اپنی عقل و خرد اور ذوق سے اضافہ درست نہیں۔ قرآن کے ذریعہ اسماء الحسنی میں الحاد یعنی کج روی سے روکا گیا ہے۔ قرآن کی سورۂ اعراف آیت ۷۹ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
’’وذروا الذین یلحدون فی اسمائہٖ ۔ (ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اسماء الٰہی میں الحاد یعنی کج روی اختیار کرتے ہیں)‘‘ اسماء حسنی کی تعداد کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ اسماء ننانوے ہیں۔ مختلف روایات میں ان ناموں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے۔ مستدرک حاکم نے ایک روایت میں جو اسماء بیان کیے ہیں۔ دوسری روایات میں ان کی تعداد میںاضافہ کردیا ہے۔ اسی طرح ترمذی اور ابن ماجہ نے جو روایات بیان کی ہیں ان میںکمی بیشی پائی جاتی ہے۔ علامہ ابن حزم کی ترتیب کو ترمذی نے نقل کیا ہے۔ مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے بہت سے مقامات پر اللہ کے ناموں کی تشریح کی ہے۔ مگر سارے نام قرآن میں مذکور نہیں۔ حدیث میں ننانوے ناموں کا ذکر آتا ہے۔
اللہ تعالی کا نام ادب و احترام سے لیاجائے۔ اس طرح یا اس حالت میںنہ لیا جائے کہ ذم کا پہلو نکلتا ہو۔ یعنی احترام کے منافی ہو۔ سورہ طہ آیت ۸ میں ارشاد باری ہے:

اللہ لا الہ الا ہو لہ الاسماء الحسنی (وہ اللہ ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ اس کے لیے بہترین نام ہیں)
سورہ حشر آیت ۲۴ میں ارشاد باری ہے:
ہو اللّٰہ الخالق الباری المصور لہ الاسماء الحسنی
’’وہ تنہا ہی ہے جو تخلیق کے منصوبے بناتا اور ان کو نافذ کرتا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے اور اس کے بہترین نام ہیں‘‘
حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالی کے ننانے نام ہیں (ایک کم سو) ہیں۔ جو ان اسماء الحسنی کو یاد کرتا ہے تو سمجھو وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ اللہ تعالی خود و تر یعنی طاق ہے اور وتر ہی اسے پسند ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا:
اللہ تبارک و تعالی کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کو حفظ کرلیا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اور اللہ وتر ہے (طاق) اور طاق اسے پسند ہے۔
(سورۃ النساء آیت: ۱۷)
’’اللہ تو بس ایک ہی ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔ جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔ سب اسی کی ملکیت ہے۔‘‘
(سورۂ آل عمران: ۱۸)
’’اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘
جیساکہ ہمیں علم ہے اللہ اس ذات والا کا نام ہے جو واجب الوجود ہے اور اس میں تمام صفات کمالیہ موجود ہیں۔ وہ اپنی ذات میں کامل ہے۔ کمال ذاتی کے لیے جن صفات کا اس میں ہونا ضروری ہے اس کے لیے وہ سب ثابت ہیں۔ انہیں تمام صفات کو صفات کمالیہ کہتے ہیں۔ جیسے اللہ کی ایک صفت قدیم ہے۔ یعنی وہ قدیم ہے۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کی تمام صفات بھی قدیم ہیں۔ وہ قادر ہے۔ اس نے اپنی قدرت اور حکم سے آسمان زمین اور تمام چیزیں خلق کیں۔ اپنی کسی بھی صفت میں وہ کسی چیز کا محتاج نہیں۔ جو واجب الوجود ہونے کے لیے لازم ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی کی چند صفات کمالیہ ہیں۔ وحدت قدم یا وجوب وجود، حیات، قدرت، علم، ارادہ، سمع، بصر، کلام، اور تکوین وغیرہ۔ وحدت کامطلب ہے ایک ہونا۔ اللہ کی صفت وہ پنی ذات اور صفات میں یکتا ہے۔ توحید کے معنی اللہ کوایک سمجھنا۔ اس کے ہونے کا اقرار اور یقین کرنا۔ اللہ کی کوئی انتہا نہیں اس یے اس کی صفت ازلی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس صفت کو ہم ابدی کہتے ہیں۔ ’’حیواۃ‘‘ یعنی اللہ تعالی زندہ ہے اور یہ صفت اس کے لیے ثابت ہے۔ وہ عالم ہے یعنی صفت علم رکھتا ہے اور تمام چیزوں کا جاننے والا ہے۔ دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی شے اس کے علم میں روشن ہیں۔ حتی کہ انسانوں کے دلوں میں آنے والے خیالات اس پر عیاں ہیں۔ علم غیب اللہ تعالی کی خاص صفت ہے۔ وہ سمیع و بصیر ہے اور ہر شے کو دیکھتا ہے اور سنتا ہے۔ اور اس کے دیکھنے سننے میں فاصلوں یا ظلمت و روشنی کی کوئی ضرورت نہیں۔ کلام بھی اس کی ثابت صفت ہے۔ لیکن اس کی مخلوق جیسی زبان نہیں۔ وہ خالق اور مکوّن ہے۔ وہ تمام عالم کا پیدا کرنے والا اور وجود میںلانے والا ہے۔ اللہ کی اور بھی بہت سی صفات ہیں جیسے مارنا، جلانا، رزق دینا۔ اس کی تمام صفات ازلی ابدی اور قدیم ہیں جن میں کمی بیشی یا تغیر و تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ اللہ تبارک و تعالی کی ذات والا صفات بے پناہ ہے۔ اس لیے اس کی ہر صفت بھی بیکراں ہے۔ وہ رب ہے اور تمام مخلوق کو پالتا ہے۔ وہ قادر مطلق ہے۔ حاکم الحاکمین ہے۔ خالق کائنات ہے۔ تمام مخلوقات اس کی ہیں۔ اس کے اعلانات کی روشنی میں – ’’وللہ الامر‘‘ اور ’’یدبر الامر‘‘ یعنی مخلوق اس کی ہے تو حکم بھی اسی کا چلے گا۔ اور اس کائنات میں ہر لحظہ اسی کی مرضی کارفرما ہے۔ اللہ تعالی خود بیان فرماتا ہے:
یٰٓا یہا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم و الذین من قبلکم لعلکم تتقون، الذی جعل لکم الارض فراشا والسماء بناء وانزل من السماء ماء فاخرج بہ من الثمرات رزقا لکم فلا تجعلوا للہ اندادا و انتم تعلمون۔ (البقرہ: ۲۱، ۲۲)
’’اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیز گار رہو۔ وہ جس نے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی نازل کیا۔ جس نے تمہارے کھانے کے لیے پھل پیدا کیے۔ پس اللہ کے مد
مقابل نہ بنایا کرو اور تم جانتے ہو۔‘‘
یہاں اللہ تبارک و تعالی کی توحید اور اس کی الوہیت کا بیان ہے۔ اس نے اپنے بندوں کو عدم سے وجود عطا کیا۔ زمین کا فرش بنایا۔ پہاڑوں کی میخیں گاڑیں اور آسمان کو چھت بنایا۔ آسمان سے پانی اتارا۔ یعنی بادلوں کے ذریعہ بارش کی۔ پھر اس پانی سے طرح طرح کے پھول پھل پیدا کیے۔ تاکہ لوگ ان سے فائدہ اٹھائیں اور ان کے جانور بھی۔ پس سب کا خالق، رازق اور مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس وجہ سے وہی ہر قسم کی عبادت اور شریک نہ کیے جانے کا مستحق ہے۔ اسی لیے تاکید فرمائی گئی ہے کہ اللہ تعالی کا شریک نہ ٹھہراؤ حالانکہ تم جانتے ہو۔
سورہ (بنی اسرائیل : ۱۱۱) میں ارشاد ہے:
و قل الحمد للہ الذی لم یتخد ولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک و لم یکن لہ ولی من الذل و کبرہ تکبیرا۔
’’اور کہو سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے۔ اور نہ اس وجہ سے وہ عاجز و ناتواں ہے۔ کوئی اس کا مددگار ہے۔ اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو۔‘‘
اس فقرہ میں ایک لطیف طنز ہے ان مشرکین کے عقائد پر جو مختلف دیوتاؤں اور انسانوں کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنی خدائی کے مختلف شعبے یا اپنی، سلطنت کے مختلف علاقے ان کے انتظام میں دے رکھے ہیں۔ اس بیہودہ عقیدے کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی خود اپنی خدائی کا بار سنبھالنے سے عاجز ہے۔ اس لیے وہ اپنے پشتی بان تلاش کررہا رہے اور اسی بنا پر فرمایا گیا ہے کہ اللہ عاجز نہیں ہے کہ اس کو کچھ نائب اور مددگاروں کی حاجت ہو۔ (تفہیم القرآن)
شاعری اظہار خیال کا مؤثر ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ اس میں مختلف اصناف سخن ہیں۔ ’’حمد‘‘ ان اصناف سخن میں وہ پاکیزہ اور محترم صنف سخن ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالی کی تعریف و توصیف کی جاتی ہے۔ ’’حمد‘‘ کے لغوی معنی ہیں تعریف – تعریف کرنا ۔ شاعری کی اصطلاح میں ’’حمد‘‘ حق تعالی جل جلالہ کی عظمت اور جلال کا منظوم بیان ہے۔
یوں تو حمد کہنا ’’چھوٹا منہ بڑی بات‘‘ کے مصداق ہے۔ جیساکہ اس سے پیشتر بھی تحریر ہوا ہے کہ اگر تمام شجر قلم بن جائیں اور تمام سمندر روشنائی بن جائیں پھر بھی اس پاک ذات کی صفات بیان نہیں ہوسکتیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا یہ ارشاد حق اور درست ہے تاہم اپنی بساط کے مطابق اللہ تبارک و تعالی کی تعریف و توصیف فرض اور عین سعادت ہے۔
ایک محدود ذہن اس ذات بیکراں کی تعریف و توصیف کرنا چاہے تو اسے سعادت ہی کہیے۔ ہاں یہاں بھی نعت کی طرح یہ خیال رکھنا نہایت ضروری ہے کہ حمد کے اشعار اللہ تعالی کی شان، جملہ صفات کے اظہار میں کسی بھی صفت کی عظمت اور اس کی الوہیت و پاکیزگی و عظمت میں کسی بھی قسم کی کمی کا تاثر پیش نہ کریں۔ یہ معائب میں سے ہے اور شاعری کی اصطلاح میں اسے مذموم قرار دیا جاتا ہے۔
خود اللہ تبارک و تعالی نے توریت شریف، زبور القدس، انجیل مقدس اور قرآن مجید میں اپنی حمد مختلف آیات میں بیان کی ہے۔ قرآن کریم میں سورۂ فاتحہ، سورہ اخلاص، آیۃ الکرسی اور دیگر متعدد قرآنی آیات میں اللہ تعالی کی حمد بیان کی گئی ہے۔ جو یقینا اس پاک بے نیاز کی مکمل اور افضل ترین حمد کا بے مثال نمونہ ہیں۔ علاوہ ازیں احادیث شریف میں بھی جگہ جگہ بصد اہتمام حمد باری تعالی کا ذکر موجود ہے۔ حبیب خدا ﷺ نے جس شان سے اس خالق کائنات کی حمد بیان فرمائی ہے۔ اس کی مثال ملنا غیر ممکن ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی نے اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ کی نعت جس اہمتام اور شاندار طریقہ سے بیان فرمائی ہے اس کی مثال ملنا ممکن ہی نہیں۔
ورفعنا لک ذکرک (سورہ انشراح:۴)
و ما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (سورہ النساء: ۱۰۷)
یہ وہ انداز اور مقام مدحت ہے جو صرف رب العالمین کے لیے ہی مخصوص ہے۔ اللہ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اوصاف عالیہ جس طرح بیان کیے ہیں ان کی مثال نہیں مل سکتی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ جل شانہ کی حمد و ثنا بیان کرنا نہ صرف رسول کریمﷺ کی سنت ہے بلکہ تمام دیگر انبیاء علیہم السلام کی سنت بھی ہے۔ اور اسی صورت میں رسول کریمﷺ کی نعت کہنا اللہ تبارک و تعالی کی سنت ہے۔ چنانچہ حمد و نعت کا ورد ہر مسلمان کے لئے لازمی فریضہ ہے جس میں غفلت خسارہ کا سبب بن سکتی
ہے:
و ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون
’’ہم نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘
خود اللہ عز و جل نے قرآن مبین میں متعدد مقامات پہ حمد کہنے کا حکم فرمایا ہے۔ رسول کریمﷺ کے خطبات کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم رؤف و رحیم نے نہ صرف اپنے قلب و ذہن کو کسی لمحہ بھی اللہ تعالی کی حمد سے غافل نہیں فرمایا بلکہ صحابہ کرام کو بھی اس کی اکثر تلقین فرمائی ہے۔
اللہ تعالی کی حمد ایک پاکیزہ ترین اور عظیم الشان موضوع بھی ہے لہذا ہمیں اسے اپنے لیے اہم ترین فریضہ متصور کرنا چاہیے۔ کوئی عام شخص اللہ کی حمد و ثنا کرے یا شعراء اس کے بے شمار پہلوؤں پر فکر سخن کریں یقینا اسی مبارک عمل سے رب کریم کی خوشنودی اور رضا حاصل ہوگی۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے:
’’اے ایمان والو! تم دین خدا کی مدد کرو گے تو اللہ بھی تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے اندر ثابت قدمی اور مضبوطی پیدا کرے گا۔ (سورہ حمد: ۷) اللہ تبارک و تعالی کے حصار رحمت میں آنا ہے تو مسلمان کو توکل عاجزی انکساری کے ساتھ کسی کام کاآغاز کرنا ہو گا یقینا کامرانی قدم چومے گی۔
آئیے اپنے آپ کو رب العالمین کی حمد و ثنا کے لیے وقت کردیں۔ یقینا اس کی برکت سے ہماری زندگی کے چمن زار سے نور و نکہت کے پھول کھلیں گے۔
’’آج موقعہ ہے کہ تو اپنے رب کو پہچان ورنہ کل بروز حشر پچھتانا پڑے گا۔‘‘
ڈاکٹر تنویر احمد علوی فرماتے ہیں ’’انسانی فکر و خیال کی جتنی جہتیں ہو سکتی ہیں اتنی ہی زبان و بیان کے رشتوں کی وہ اطراف بھی ہیں جو انسانی شعور اور اس کی تخلیقی حسیت کی بالیدگی کے ساتھ اس کے شعر و نغمہ کے پیکر میں ڈھلتی ہیں ان میں سب سے اہم اور قابل احترام جہت جس میں لفظ و معنی کی گوناگوں اطراف سمٹ آئی ہیں وہ شعری تخلیقات ہیں جن کا موضوع حمد و ثنا ہے۔ یعنی خدائے بزرگ و برتر کی وہ تعریف جس میں اس کے دل کی دھڑکنیں اور اس کی تحریکات فکر و عمل کی تمام تہہ نشین لہریں (Undr Currents) محسوس وغیر محسوس طور پر شریک ہوں۔
خدا کی ذات جو خیال و قیاس اور گمان و وہم کی ر یشمی سرحدوں سے بالاتر ہے، تمام نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور تمام صفات جلال و جمال کا مرکزی نقطہ ہے۔ یہی اس کے ایک ہزار ایک یا نوے اور نو ناموں کے مفہوم کو محیط ہے اور اس پر بھی وہ بے نام ہے۔ اکبر نے کشمیر میں جو جماعت خانہ تعمیر کیا تھا اس کے محراب پر یہ شعر لکھا گیا تھا۔
بنام او کہ او نامے ندارد
بہر نامیکہ خوانی سر بر آرد
(’’اس کے نام جس کا کوئی نام نہیں ہے۔ پھر بھی جس نام سے اس کو پکارا جائے گا وہ اسی کے آئینے میں جلوہ گر پیش نظر ہوگا۔ یہاں فراوانی فکر کی نہیں خلوص خاطر اور جوش عقیدت کی ضرورت ہے۔‘‘)
چونکہ بحمد للہ اب ہندوستان میں بھی حمد کہی جارہی ہے یہ سلسلہ کافی دنوں سے جاری ہے۔
میری دلی خواہش ہے کہ حمد و نعت کا یہ سلسلہ نہ صرف جاری و ساری رہے بلکہ ملک کی یونیورسٹیوں کے اردو شعبوں کے سربراہان اور اساتذہ کرام سے درخواست کی جائے کہ ان پاکیزہ اصناف سخن حمد و نعت کو Officially طور پر تسلیم کرائیں اور حمد و نعت کے فروغ میں مثبت کردار ادا کریں۔ ہندوستان میں حمد و نعت مختلف طریقے سے کہی جارہی ہیں ہماری جامعات کے شعبہ ہائے اردو کے ذمہ داران کا یہ فرض بھی ہے کہ ان اصناف پر صحت مند تنقید کا اہتمام کریں اور جلد اس سلسلہ کا آغاز کریں تاکہ حمد و نعت کہنے والے شعراء کی صحیح طور پر رہ نمائی ہو سکے۔ قارئین کو صحیح حمد ونعت پڑھنے کو ملیں۔ اس سلسلہ میں عملی طور پر حصہ لینے والے حضرات نہ صرف ان اصناف کے فروغ اور درست فکر سخن میں رہ نمائی کا سبب بنیں گے بلکہ بارگاہ رب العالمین میں بھی اس کی رحمتوں کے حقدار بنیں گے۔ یہ مسرت کی بات ہے کہ ناگپور انڈیا کے سید رفیع الدین اشفاق نعت کے موضوع پر Ph.D. حاصل کرنے والے پہلے خوش نصیب ہیں اور شمالی ہند میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے بحیثیت جنرل سکریٹری حمد و نعت اکیڈمی دہلی میں اس سلسلہ میں مسلسل کوشش کرتا رہوں گا کہ حمد و نعت کو فروغ حاصل ہو اور ہم صحیح معنی میں حمد و نعت سمجھنے اور کہنے کی سعادت حاصل کرسکیں۔
حمد کے سلسلے میں یہ بھی عرض کردوں کہ حمد کہتے ہوئے شاعر کو اس بات کا خیال
رکھنا چاہیے کہ اس میں اللہ تعالی جل جلالہ کی بھرپور حمد و ثنا اس کی صفات اور عظمتوں کا بیان اس طرح ہو کہ قاری اللہ تعالی کی بزرگی، جملہ صفات اور الوہیت کا نہ صرف دل سے قائل ہوجائے بلکہ اس کی ذات والا صفات کو اپنا سب کچھ یقین کرے کہ وہی ہمارا معبود، مسجود اور رب ہے۔ تمام حمدیہ کلام معائب شعری سے پاک اور محاسن شعری سے مزین ہونا بہت ضروری ہے۔
اللہ تبارک و تعالی کی ذات اقدس بے شمار خوبیوں اور صفات عالیہ کی حامل ہے جب ہم اس کے ذاتی نام سے پکارتے ہیں تو ’’اللہ‘‘ کہتے ہیں اور جب ہم اس کی بے شمار صفات کا علم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے بارے میں ننانوے صفاتی اسمائے حسنی کے ذریعہ مطالعہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیشہ سے ہے اور اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ واحد ہے یعنی ایک ہے۔ اس نے کسی کو نہیں جنا نہ وہ کسی کے ذریعہ جنا گیا۔ وہ قادر مطلق ہے یعنی جب جو چاہے کر سکتا ہے ۔ اس نے کل کائنات تخلیق کی، ارض و سماوات، خلا، بحر، دریا، کوہ، سیارے، چاند، سورج، ستارے سب اس کی مخلوق ہیں۔ جاندار مخلوقات میں چرند، پرند، درندے، حشرات الارض، پانی کے بے شمار جانور وغیرہم۔ جس کو دیکھو اس کی تخلیق کا انوکھا شاہکار ہے۔ نظام کائنات جس صورت سے قائم ہے وہ اس کی صناعی اور قدرت کی جیتی جاگتی تصویر ہے اور اس کے قادر مطلق ہونے کی دلیل بھی۔ شمس و قمر، نجوم، سیارے اور ارض و سماوات کس طرح اپنی اپنی جگہ قائم ہیں۔ دن نکلتا ہے، رات ہوتی ہے، آفتاب ہمیں حرارت دیتا ہے تو ماہتاب سے چاندنی ملتی ہے۔ باد نسیم، سرد ہوائیں، مختلف موسم، تیز دھوپ ٹھنڈی چھاؤں، رحمت باراں، لہلہاتے چمن زار، سرسبز مرغزار، گلستان، صحرا، کوہ، چشمے، دریا اور میدان سب اس کی صناعی اور قدرت کے دلکش مناظر پیش کررہے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالی ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کرتا ہے۔ وہی زندگی بخشتا ہے، موت بھی اس کی دین ہے۔ مسرتیں، غم، افلاس و تمول سب اسی رب کی عطا ہیں۔ ہم اس کی تمام صفات عالیہ سے فیضیاب ہوتے ہیں اور اس اللہ کو پوجتے ہیں۔ اس کے آگے سر خم ہوتے ہیں۔ سجدے کرتے ہیں کہ تمام تعریفیں صرف اللہ کے لئے ہیں۔ وہ تمام عالموں کا پالنے والا ہے۔ نہایت مہربان و رحیم ہے ہم اس کی عبادت کرتے ہیں۔
وہ ہمارا معبود و مسجود ہے۔ ہم ہمہ وقت اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ اسی نے قرآن مجید فرقان حمید رسول کریمﷺ پر نازل فرمایا اور نوع بشر کی ہدایت کے لئے بھیجا۔ قرآن مقدس نوع انسان کی حیات کے لئے معتبر نصاب کی شکل میں عطا فرمایا۔ جس کی عملی تفسیر ہم سیرت رسول کریمﷺ کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں۔ رسول کریمﷺکا عمل اور ارشادات عالیہ (احادیث) قرآن کریم کی تفسیر نوع انسان کے لئے مشعل راہ ہیں۔ اللہ تعالی نے تمام مخلوقات میں انسان کو فضیلت عطا کی اور اس کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف عنایت فرمایا۔ انسان کو عقل سلیم عطا کی جس کے بل بوتے پر انسان ہر مخلوق پر حاوی ہوا۔ آگ، پانی، ہوا، مٹی کی انسان کی زندگی میں بہت اہمیت ہے۔ آگ جو ہمارے لئے مفید ہے وہی ہر شے کو جلا کر خاکستر کرنے کی طاقت بھی رکھتی ہے۔ اور کافی حد تک انسان کے قابو میں ہے۔ پانی جو ہمارے لئے قدرت کا بہت بڑا عطیہ ہے، جو انسانی زندگی کے لئے بہت ضروری ہے (یعنی جس کے بغیر زندگی ممکن نہیں)، پانی عظیم نعمت ہے۔ لیکن یہی پانی جب سیلاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے تو تباہی کا سبب بنتا ہے۔ ہر شے کو بہا کر لے جاتا ہے، نیست و نابود کردیتا ہے۔ یہی پانی تدبر سے ہمیں بجلی فراہم کرتا ہے۔ بجلی کی انسان کی زندگی میں بہت اہمیت ہے۔ تمام کاروبار زندگی آج بجلی کے مرہون منت ہیں۔ ہوا اللہ تبارک و تعالیٰ کا عطیہ ہے جو ہم سب کو بے مول ملتا ہے۔ وہ اللہ تعالی نے بے بہا نعمت بنائی ہے اور اپنی مخلوق پر بے قیمت لٹائی ہے۔ اہم اتنی کہ اگر ایک منٹ نہ ملے تو زندگی کے لالے پڑجائیں۔ ایسی نعمت کہ جس کا ہم شکر بھی ادا نہیں کرسکتے۔ یہی نعمت اگر زحمت بن جائے تو بڑے سے بڑے درخت کو جڑ سے اکھاڑ کر اڑا لے جاتی ہے۔ طوفان بن کر ہر شئے کو فنا کردیتی ہے۔ مٹی ۔ اللہ نے آدم علیہ السلام کا پتلا جس مٹی سے بنایا انسانی جسم، گوشت، ہڈی، بال، ناخون سب اسی مٹی کا ظہور اور خالق کائنات کی صناعی کاشاہکار ہیں۔ یہی مٹی جس سے تمام انسانوں اور جانوروں کی تخلیق ہوئی ہمیں اناج، پھل، میوے، معدنیات اور نباتات فراہم کراتی ہے۔ یہی مٹی اگر نیچے دھنس جائے تو شہر کے شہر تاراج ہوجاتے ہیں۔ انسان مر کر بھی تو اسی مٹی میں مل جاتا ہے۔ اللہ تعالی کی کل صفات اس کی عظمت، بزرگی اور اس کی یکتائی کی دلیل ہیں اس لئے ہمارا ایمان
ہے کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ اس کی جتنی بھی تعریف و توصیف کی جائے کم ہے۔ اللہ تعالی اتنا بڑا اور عظمت والا ہے کہ ہم اس کی عظمت اور بزرگی کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہم اپنی محدود عقل و فہم اور آگہی کے مطابق اس کی ثنا کرتے ہیں۔ اس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ جب ہم شاعری کی زبان میں حسب توفیق اللہ تعالی کی تعریف و توصیف کرتے ہیں تو شاعری کی مقررہ اصناف سخن کے مطابق ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں۔ یعنی حمد اردو شاعری کی اصناف سخن میں ایک نہایت پاکیزہ صنف سخن قرار پائی۔ جس کے اشعار میں صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالی جل شانہ و جل جلالہ کی تعریف و توصیف، پاکی اور ثنا بیان کی جاتی ہے۔ شاعری اصول و ضوابط کے مطابق پاکیزہ صنف سخن ’’حمد‘ چاہے کسی بھی اقسام نظم کسی بھی ہیئت کے ذریعہ کہی گئی ہو یعنی نظم، مثلث، مربع، مخمس، مسدس قصیدہ، مثنوی اور غزل، وہ اقسام نظم ہیں۔ حمد کے لئے لازم ہے کہ وہ تمام معائب شعری سے پاک اور محاسن شعری سے مزین ہو ہر چند اللہ تعالی کی حمد کا حق تو ادا نہیں ہو سکتا تاہم ایک ذرہ بارگاہ ایزدی میں حسب توفیق اس کی تعریف و توصیف اور اس کی رفعت و عظمت کا اقرار و اظہار کرتا ہے۔
اردو زبان و شاعری میں حمد گوئی کا یہ سلسلہ قلی قطب شاہ اور ولی دکنی سے آج تک کے شعراء میں جاری ہے۔ اگر ہم بزرگ شعراء کے دواوین کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان شعراء حضرات نے اپنے اپنے دیوان میں حمد بطور برکت شامل کی ہیں یعنی دیوان میں ایک حمد شروع میں ضرور موجود ہے۔ صرف اسی صنف سخن کواختیار کیا ہو یا حمد یہ دیوان بھی شائع ہوئے ہوں ایسا نظر نہیں آتا۔ پاکیزہ اصناف سخن حمد و نعت سے تعلق رکھنے والے حضرات نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ تقریبا پچیس سال سے ا ن پاکیزہ اصناف بالخصوص نعت کی طرف شعراء کا رجحان بہت تیزی سے بڑھا ہے۔ بر صغیر میں پاکستان میں حمد پر اب کافی کام ہو رہا ہے۔ حمد یہ مجموعے بھی چھپ رہے ہیں۔ جناب طاہر سلطانی کامجلہ ’’جہان حمد‘‘ اس سلسلہ میں معلومات کا خزانہ ثابت ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں بھی حمد کہی تو جارہی ہے لیکن یہاں دیوان یا مجموعوں کی شکل میں حمدیہ کلام کی پیش رفت نہیں ہورہی ہے۔
کراچی میں جناب طاہر سلطانی نے اس کے بارے میں اظہارخیال کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میںکوئی دوسرامجموعۂ حمد ’’الحمد‘‘ سے پہلے شائع ہوچکا ہے۔ چنانچہ گورنمنٹ کالج لاہور کے علمی و ادبی مجلے ’’اوج‘‘ کے نعت نمبر (۹۳-۱۹۹۲) کے اطلاعی مضمون پاکستان میں مطبوعات حمد و نعت از جناب غوث میاں میںصفحہ ۳۴۲ پرلکھا ہے…
’’حمد
۱۹۸۰ : پتھر کی آگ، عبد السلام طور، لاہور
۱۹۸۴ : الحمد، مظفر وارثی، لاہور
اللہ کے لغوی معنی ذات واجب الوجود یامعبودحقیقی کے ہیں۔ اللہ تعالی جل جلالہ ہمیشہ سے ہے اور اپنی کل صفات کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ (اللہ باقی من کل فانی)
اللہ تعالی کی شان معبودیت کوالوہیت کہتے ہیں۔ علماء کی کثیر تعداد کے مطابق اللہ اسم عام یعنی ذاتی نام ہے لیکن لغت کے بعض عالموں نے الہ پر لام تعریف ’’ال‘‘ داخَل کرکے بتایاہے۔ یعنی خاص الخاص اور معبود حقیقی واجب الوجود ہونا اللہ تعالی کا افضل ترین وصف ہے۔ واجب الوجود کے معنی ہیں ایسی ہستی یاموجود شے جس کا ہونا ضروری ہے اور جس کا عدم غیر ممکن ہو۔ اور جس میں یہ صفت ہوگی اس کا ہمیشہ سے موجود ہونا یقینی ہے اوراس کا عدم غیر ممکن ہے۔ یعنی ہو ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالی جل شانہ جل جلالہ کی نہ کوئی ابتدا ہے نہ انتہا۔ واجب الوجود کی یہ صفت بھی مخصوص ہے کہ اس کو کسی نے تخلیق نہیں کیا۔
انسانوں کی ہدایت کیلئے اتاری گئی تمام کتابوں، صحیفوں کے علاوہ دیگر آثار اور قرائن سے یہ ثابت ہے کہ اس کائنات کا صرف ایک ہی معبود ہے جس کو ہم ’’اللہ‘‘ کہتے ہیں۔ اس کے آگے سر جھکا تے ہیں۔ اس کا نام جپتے ہیں، اسی کو آواز دیتے ہیں۔ جس کا ہمارے دلوں پر تسلط ہے۔ جس کی محبت تمام دوسری محبتوں کو مغلوب کردیتی ہے اوریہ کہ وہ انسانوں کا منتہائے آرزو بنجائے۔ قرآن مبین جو اللہ کاکلام ہے اور جس کو ہم دل سے اپنا نصاب حیات مانتے ہیں۔ اس میں ارشاد ہے۔
وما من الہ الا الہ واحد اور معبود حقیقی تو صرف ایک ہی ہے
انما اللہ الہ واحد یقینا اللہ ہی اکیلامعبود ہے
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالی کل کائنات کا اصلی اور واحد معبود ہے۔ اور صرف اس کی ہستی ہی ہے جس کی صفات میںمبالغہ نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم کی سورہ (الکہف) میں ارشاد ہے:
’’اے (نبی) کہہ دیجئے اگر میرے رب کی صفات لکھنے کے لئے سمندر سیاہی بن جائیں تو بھی میرے رب کی صفات ختم نہ ہوں۔ بلکہ سمندر ختم ہوجائیں، اگرچہ اتنے ہی سمندر آ شامل ہوں‘‘۔
سورہ (لقمان: ۲۷) میں ارشاد ہے:
’’اگر روئے زمین کے تمام درختوں کے قلم بن جائیں اور اللہ کی صفات لکھی جائیں تو صفات ختم نہ ہوں‘‘۔
اللہ تبارک و تعالی کی ذات والا صفات اتنی وسیع اور بیکراں ہے کہ اس کو سمجھنا ہم جیسے انسانوں کے بس کی بات نہیں اور عقلی طور پر بھی یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ تاہم اپنی محدود عقل کے مطابق جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اللہ تعالی کو ننانوے ۹۹ اسمائے صفات سے موسوم کرتے ہیں۔ ہر صفت پر اگر لکھاجائے تو کتابیں ہی کتابیں تیار ہوجائیں۔