اب دعا کے لئے اٹھائو ہاتھ مانگ لو جو بھی مانگنا ہے تمہیں

عبدالقوی ضیاءؔ

اب دعا کے لئے اٹھائو ہاتھ
مانگ لو جو بھی مانگنا ہے تمہیں
جو بھی کہنا ہے اس سے کہہ ڈالو
سب کی سنتا ہے سب کو دیتا ہے
سب کا مالک ہے سب کا آقا ہے
سب کا ملجی ہے، سب کا ماویٰ ہے
سب برابر ہیں اس کی محفل میں
سبھی یکساں ہیں اس کی نظروں میں
اب دعا کے لئے اٹھائو ہاتھ