احمد صغیر صدیقی (کراچی) ہائیکو حمدیہ نعتیہ

 ہائیکو حمدیہ 
مولا
دے وہ فکر
جگ
مگ چاروں اور
دنیا
جس سے وجد میں آئے
چاندی
جیسے قول ترے سب
یوں
ہو تیرا ذکر
سونے
جیسے طور
  ہائیکو نعتیہ 
میری
کیا اوقات
روشن
روشن ذات
اک
سمندر جیسا تو ہے
پھول
کھلانے والے ہونٹ اور
قطرہ
میری ذات
دیے
جلاتے ہاتھ