اردوحمدیہ شاعری کا مختصر جائزہ

اردوحمدیہ شاعری کا مختصر جائزہ
غلام ربانی فداؔ

حمد دْنیا کی ہر زبان اور ہر صنف میں کہی جا رہی ہے۔وظیفۂ حمد ہر مسلمان اور انسا ن پر فرض ہے۔اْردو میں حمد نگاری کا آغاز اردو کے آغاز میں ہی ہو گیا تھا۔متقدمین اصولِ ثواب کے لیے دوابین کے آغاز میں حمد کا اہتمام کیا کرتے تھے۔چنانچہ اْردو میں سب سے پہلی حمد لکھنے کا اعزاز فخر الدین نظامی کو حاصل ہوا۔اْردو کی پہلی مثنوی قدم رائو پدم رائو ۱۴۱۲ء؁ سے ۱۴۳۵؁ عیسوی کے درمیانی عرصے میں لکھی گئی۔اس مثنوی کا آغاز حمد باری تعالیٰ سے ہوتا ہے۔یہ سلسلہ دراز ہوتا ہوا ولی دکنی،سراج اورنگ آبادی، مرزا رفیع سودا،میر تقی میر، سچل سرمست،نظیر اکبر آبادی،مومن خان مومن،ذوق دہلوی،مرزا غالب، بہادر شاہ ظفر،میر انیس،مرزا دبیر،امیر مینائی،داغ دہلوی،محسن کاکوروی،مولانا حسن رضا بریلوی، الطاف حسین حالی،اسمٰعیل میرٹھی،مولانا احمد رضا خان بریلوی اور علامہ اقبال،مولانا ظفر علی خاں، بہزاد لکھنوی،شاعر لکھنوی،صبا اکبر آبادی،صہبا اختر،ماہر القادری تک جا پہنچتا ہے۔عصر حاضر میں تابش دہلوی،احمد ندیم قاسمی،راغب مراد آبادی، حفیظ تائب،حنیف اسعدی،امید فاضلی،سرشار صدیقی،عاصی کرنالی،راجا رشید محمود، ڈاکٹر ریاض مجید،علیم ناصری،ریاض حسین چودہری،خورشید خاور،شبنم رومانی،ابوالخیر کشفی،ادیب رائے پوری، اعجاز رحمانی،ظفر عمر زبیری ،ابولیث قریشی،ڈاکٹر جمیل عظیم آبادی،سہیل غازی پوری،حیرت الہ آبادی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کچھ شعراء و شاعرات نے حمد پر بھر پور توجہ کی اور مجموعہ ہائے حمد،شائع کیے۔ اْردو میں اوّلین مجموعۂ حمد’’دیوانِ ایذدی‘‘۱۳۷۲؁ہجری میں لکھنو سے شائع ہوا۔اس مجموعہ کے خالق مفتی محمد سرور لاہوری ہیں۔دوسرا مجموعہ حمد مضطر خیر آبادی کا’’نذرِ خدا‘‘کے نام سے ۱۹۸۰؁ء میں کانپور سے شائع ہوا۔تیسرا مجموعہ حمد امتہ اللہ تسنیم کا’’بابِ کرم‘‘۱۹۴۵؁ میں انڈیا سے شائع ہوا۔پاکستان میں پہلا مجموعہ حمد اور ترتیب کے لحاظ سے چوتھا ’’پتھر میں آگ‘‘۱۹۸۰؁ء کو لاہور سے شائع ہوا۔اس مجموعہ کے خالق عبدالسلام طورہیں۔
پانچواں مجموعہ حمد ’’الحمد‘‘ ۱۹۸۴ء مظفر وارثی
چھٹا مجموعہ حمد ’’لاشریک‘‘ ۱۹۸۴ء طفیل دارا
ساتواں مجموعہ حمد ’’صحیفہ حمد‘‘ ۱۹۸۸ء لطیف اثر
آٹھواں مجموعہ حمد ’’سبحان اللہ وبحمدہٖ‘‘ ۱۹۹۰ء حافظ لدھیانوی
نواں مجموعہ حمد ’’بحضور حق تعالیٰ‘‘ ۱۹۹۰ء کاوش زیدی
دسواں مجموعہ حمد ’’قلم سجدے‘‘ ۱۹۹۳ء لالہ صحرائی
گیارہواں مجموعہ حمد ’’خالق ذوالجلال‘‘ ۱۹۹۴ء ابرار کرت پوری
بارہواں مجموعہ حمد ’’حمدیہ قطعات‘‘ ۱۹۹۴ء مسرور بدایونی
تیرہواں مجموعہ حمد ’’خدائے ذوالجلال‘‘ ۱۹۹۶ء محبت خان بنگش
چودھواں مجموعہ حمد ’’نام بنام حمدوثنا‘‘ ۱۹۹۸ء انوار عزمی
پندرہواں مجموعہ حمد ’’حمد نامہ‘‘ ۱۹۹۸ء شیبا حیدری
سولہواں مجموعہ حمد ’’اللہ اکبر‘‘ ۱۹۹۸ء گہر اعظمی
سولہواں مجموعہ حمد ’’متاعِ صراط‘‘ ۱۹۹۸ء عابدہ کرامت
سترہواں مجموعہ حمد ’’الرّحمن‘‘ ۲۰۰۰ء جمیل عظیم آبادی
اٹھارہواں مجموعہ حمد ’’حمد میری بندگی‘‘ ۲۰۰۰ء طاہر سلطانی
انیسواں مجموعہ حمد ’’صحیفہ حمد کا‘‘ ۲۰۰۰ء اجمل نقشبندی
بیسواں مجموعہ حمد ’’ربُ العالمین‘‘ ۲۰۰۱ء سجاد سخن
اکیسواں مجموعہ حمد ’’اللہ الصمد‘‘ ۲۰۰۱ء نگار فاروقی
بائیسواں مجموعہ حمد ’’زبور سخن‘‘ ۲۰۰۲ء تنویر پھول
تیئسواں مجموعہ حمد ’’تری ہی حمدوثنا‘‘ ۲۰۰۲ء علیم النساء ثنا
چوبیسواں مجموعہ حمد ’’الحمدللہ‘‘ ۲۰۰۲ء عزیز الدین خاکی
پچیسواں مجموعہ حمد ’’حمدومناجات‘‘ ۲۰۰۲ء منصور ملتانی
چھبیسواں مجموعہ حمد ’’حمدیہ رباعیات‘‘ ۲۰۰۳ء راغب مراد آبادی
ستائیسواں مجموعہ حمد ’’سرچشمۂ حمد‘‘ ۲۰۰۳ء سائرہ حمید تشنہ
اٹھائیسواں مجموعہ حمد ’’محامد باری تعالیٰ ‘‘ ۲۰۰۳ء خطیب گلشن آبادی
اُنتیسواں مجموعہ حمد ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ ۲۰۰۴ء(زیر طباعت) صبا اکبر آبادی
تیسواں مجموعہ حمد ’’ثنائے کبریا‘‘ ۲۰۰۴ء یونس ہویدا
اکتیسواںمجموعہ حمد ’’قسّامِ ازل‘‘ ۲۰۰۴ء ابرار کرت پوری
بتیسواں مجموعہ حمد ’’اِلّاھُو‘‘ ۲۰۰۴ء مشکورحسین یاد
تینتیسواںمجموعہ حمد ’’سجدۂ شکر‘‘ ۲۰۰۴ء ظفرہاشمی
تینتیسواںمجموعہ حمد ’’حریمِ حمد‘‘ ۲۰۰۴ء کعبی بہل پوری
چونتیسواں مجموعہ حمد ’’لاشریک‘‘ ۲۰۰۴ء اعجاز چشتی فیصل آبادی
پینتیسواںمجموعہ حمد ’’نغمۂ حمد‘‘ ۲۰۰۵ء اقبال نجمی
چھتیسواںمجموعہ حمد ’’ارمغانِ حمد‘‘ ۲۰۰۵ء شاعر علی شاعر
سینتیسواں مجموعہ حمد ’’خدائے شہ زمن‘‘ ۲۰۰۸ء راجارشیدمحمود
اڑتیسواںمجموعہ حمد ’’حمدوثنا کی گونج‘‘ ۲۰۰۸ء سراج الدین سراج
اُنتالیسواں مجموعہ حمد ’’تُو خالق ہے تُو مالک ہے‘‘ ۲۰۱۰ء خورشید بیگ میلسوی
چالیسواں مجموعہ حمد ’’حرفِ ناتمام‘‘ ۲۰۱۰ء منیرسیفی
اکتالیسواں مجموعہ حمد ’’کمالِ سخن‘‘ ۲۰۱۱ء منظرعارفی
ہمارے حمدونعت ریسرچ سینٹر میں اس وقت کل ۳۵مجموعہ ہائے حمد موجود ہیں۔ ۲۴ شعراء و شاعرات کے ۵۵ مجموعہ ہائے حمد شائع ہوئے ہیں۔ لطیف اثر کے چار مجموعہ ہائے حمدکراچی سے شائع ہوئے۔حافظ لدھیانوی کے تین مجموعہ ہائے حمد فیصل آباد سے شائع ہوئے۔ راجارشید محمود کے پانچ مجموعہ ہائے حمد لاہور سے شائع ہوئے۔ مظفروارثی کے دو مجموعہ ہائے حمد لاہور سے شائع ہوئے۔ اقبال نجمی کے دو مجموعہ ہائے حمد گوجرانوالہ سے شائع ہوئے۔ سجاد سخن، تنویر پھول، گہر اعظمی، ظفرہاشمی اور طاہر سلطانی کے دو ،دو مجموعہ ہائے حمد کراچی سے شائع ہوئے۔ ترتیب کچھ اس طرح بنتی ہے کہ تقسیم سے قبل دو مجموعہ ہائے حمد شائع ہوئے۔تقسیم کے بعد ۳۵ مجموعہ ہائے حمد شائع ہوئے۔اب ان کی ترتیب ملاحظہ کیجیے:
/ لاہور شہر سے نو مجموعہ ہائے حمد شائع ہوئے۔
/ فیصل آباد سے پانچ مجموعہ ہائے حمد شائع ہوئے۔
/ ملتان شہر سے ایک مجموعہ حمد شائع ہوا۔
/ گوجرانوالہ سے چار مجموعہ ہائے حمد (دواْردو،دوپنجابی زبان میں) شائع ہوئے۔
/ کوہاٹ سے ایک مجموعہ حمد شائع ہوا۔
/ گجرات سے ایک مجموعہ شائع ہوا۔
/ بھارت سے چار مجموعہ ہائے حمد شائع ہوئے۔
/ کراچی شہر سے ۸۲ مجموعہ ہائے حمد شائع ہوئے۔
یاد رہے یہ فہرست راقم اپنی محدود معلومات کے مطابق فراہم کر رہا ہے۔
ہمارے حمدونعت ریسرچ سینٹر میں اس وقت کل ۵۳مجموعہ ہائے حمد موجود ہیں۔ ۴۲ شعراء و شاعرات کے ۵۵ مجموعہ ہائے حمد شائع ہوئے ہیں۔ لطیف اثر کے چار مجموعہ ہائے حمدکراچی سے شائع ہوئے۔حافظ لدھیانوی کے تین مجموعہ ہائے حمد فیصل آباد سے شائع ہوئے۔ راجارشید محمود کے پانچ مجموعہ ہائے حمد لاہور سے شائع ہوئے۔ مظفروارثی کے دو مجموعہ ہائے حمد لاہور سے شائع ہوئے۔ اقبال نجمی کے دو مجموعہ ہائے حمد گوجرانوالہ سے شائع ہوئے۔ سجاد سخن، تنویر پھول، گہر اعظمی، ظفرہاشمی اور طاہر سلطانی کے دو ،دو مجموعہ ہائے حمد کراچی سے شائع ہوئے۔ ترتیب کچھ اس طرح بنتی ہے کہ تقسیم سے قبل دو مجموعہ ہائے حمد شائع ہوئے۔تقسیم کے بعد ۵۳ مجموعہ ہائے حمد شائع ہوئے۔اب ان کی ترتیب ملاحظہ کیجیے: ارمغان حمدوجہان حمد کے مدیر جناب طاہرحسین طاہرسلطانی ہیں۔جہان نعت کے حمدومناجات نمبر میں اس خادم حمدونعت طاہرسلطانی کاگوشہ بھی شائع ہوررہاہے۔
ایک فہرست جناب طاہرسلطانی نے بھی پیش کی ہے آئندہ صفحات میں ملاحطہ فرمائیں گے۔ ان دوفہرستوں میںسب سے قابل غور بات یہ ہے کہ تو منیراحمد جامی مدیرروزنامہ سیاست بنگلور کو فراموش کیاگیاہے جو ریاست کرناٹک پہلے صاحب مجموعۂ حمداور عالمی اردو ادب کے ساتویں یاآٹھویںشاعر ہیں۔مجموعہ کلام حرف تمام1987میں شائع ہوا۔اور ریاست میں صنف حمدکے حوالے سے محترمہ ڈاکٹرسلمیٰ کولور(دھارواڑ) کی نثری کتاب اردوادب میں حمدیہ شاعری کوبھی فراموش نہیں کرسکتے۔