اردو زبان میں حمد باری تعالیٰ

اردو زبان میں حمد باری تعالیٰ

اردو زبان کی شاعری میں شعراء نے حمد باری تعالی کو اہمیت دی ہے اور اپنے کلام کا آغاز حمد سے کیا ہے۔ جیساکہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ حمد باری کہنے میں عقیدت اور ایمان کی روشنی میں شاعر رب اکرم کے تئیں اپنے خیالات و احساسات بندگی کو ’’حمد‘‘ کے اشعار کا روپ دے کر قرطاس پر مزین کرتا ہے۔ چنانچہ ہمارے بزرگ شعراء نے اپنی شاعرانہ فکر سے وہ گل کھلائے ہیں جن کی مہک آ ج بھی ہمارے ادب کا سرمایۂ بے بہا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اردو شاعری کا باقاعدہ آغاز پندرہویں صدی عیسوی کے شروع کے زمانے یعنی ۱۴۲۶ اور ۱۴۳۴ ء میں ہوا۔ اسی زمانے میں مشہور مثنوی ’’کدم راؤ پدم راؤ‘‘ از فخر الدین نظامی کو محققین نے اردو زبان کی پہلی تصنیف قرار دیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مثنوی کا آغاز نظامی نے حمد باری تعالی سے کیا۔
فرماتے ہیں:
گسائیں تہیں ایک دنہ جگ ادار

بروبر دُنہ جگ تہیں دینہار
اکاش انچہ پاتال دھرتی تہیں

جہاں کچھ نکوئی، جہاں ہے تہیں
کرے آگلا تجہہ کریں سیو کوئے

کہ جب نہ کرے سیو تجہ کم نہوے
سپت سمند پانی جو مس کر بھریں

قلم رک رک پان پتریں کریں
جمارے لکھیں سب فرشتے کہ جے

نہ پورن لکھن تد توحید تے
ترجمہ: ’’اے خدائے کائنات ہمیں صرف تیری ہی ذات کا سہارا ہے دوسری کوئی ہستی نہیں ہے۔ تو ہی آسمان، تو ہی پاتال (یعنی تحت الثری) اور توہی زمین ہے۔ جہاں کوئی نہ رہے وہاں بھی تو ہی رہتا ہے۔ اس کائنات میں ہر کوئی تیری توصیف (حمد) کرتا ہے۔ مگر تو تو غیور ہے کہ کسی کے حمد نہ کرنے سے بھی تیری تعریف کم نہ ہوگی۔ ساتوں سمندر کی سیاہی اور نباتات کے قلم بنادیئے جائیں اور تمام فرشتے تیری توصیف و ثنا اور قدرت کاملہ کے بارے میں تحریر کریں تو ناممکن ہے کہ وہ ایسا کرسکیں۔‘‘
یہ حمد کا سلسلہ تو طویل ہے۔ تاریخ ادب میں بہت سے شعراء کے نام آتے ہیں۔ میاں جی، شیخ بہاء الدین باجنؒ، سید شاہ اشرف بیابانی، علی محمد جبو گاندھتی، برہان الدین جاغؔ۔
باجنؔ فرماتے ہیں: اے خدا تیرا کوئی انت نہیں ہے اور ہم تیری عظمت و بزرگی کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ تو ایک ’جوت‘ (نور) ہے جس نے ہزاروں روپ اختیار کرلیے ہیں۔
تیرا کوئی انت نہ پاوے، ایک جوت سہس ہراوے، باجن لکھ نا لکھیا جاوے۔
اس طرح یہ سلسلہ دکن کے شہنشاہ قلی قطب شاہ تک پہنچتا ہے۔ وہ اپنے انداز میں کہتے ہیں:
مرا شہر لوگاں سوں معمور رکھ
رکھیا جوں توں دریا میں من یا سمیع!
’’اے خدا! میرے ملک کو رعایا سے معمور رکھ جس طرح دریا مچھلیوں سے رہتا ہے‘‘ اس دور میں شعراء کا کلام پڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوںنے مثنویات زیادہ کہیں اور اس میں آغاز حمدیہ اشعار سے کیا۔ ان تمام شعر اور اسلوب اور لہجہ پر دکنی زبان کے اثرات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اتنا کہ بہت سے اشعار کو ہم ترجمہ کے ذریعہ سمجھتے ہیں۔اس دور کے شعراء میں حسن شوقی، غواصیؔ، محمد بن عاجز، ابن نشاطی، صنعتیؔ، غلام محمد اولؔ اور ملاّاسد اللہ وجہیؔ کے حمدیہ اشعار ان کی مثنویات میں موجود ہیں۔

وجہیؔ کہتے ہیں:
توں اولؔ توں آخرؔ قادرا ہے

توں مالکؔ توں باطنؔ تو ظاہرؔاہے
توں محصی توں مہدیؔ توں واحدؔ سچا

توں توابؔ توں ربؔ تو ماجدؔ سچا
توں باقیؔ توں مقسمؔ توں ہادیؔ توں نورؔ

توں وارثؔ، توں منعمؔ توں برؔ تو صبورؔ
سترہویں صدی کے ربیع اول کے آخری دنوں میں اردو شاعری کے میر کارواں قرار دئے گئے شاعر ولی دکنی کا انتقال ڈاکٹر جمیل جالبی کے قول کے مطابق ۱۷۳۰؁ ۱۷۲۵ء؁ کے درمیان ہوا، ولیؔ ۱۷۰۰؁ء میں دہلی آئے۔ ان کا اردو شاعری کا دیوان ۱۷۱۸؁ء میں دہلی پہنچا۔ اسی کے زیر اثر شمالی ہند کے شعراء حاتمؔ، فائزؔ اور آبرو وغیرہ نے ولی دکنی کے زیر سایہ اردو زبان میں شاعری شروع کی۔ ولیؔ حمدیہ شاعری کی ہمہ جہت پیر ہیں۔
کیتا ہوں ترے ناوکو میں ودر زبان کا

کیتا ہوں ترے شکر کو عنوان بیاں کا
جس گرد اپر پاؤں رکھے تیرے رسولاں

اس گرد کو میں کحل کروں دیدۂ جاں کا
ژ
اے ولیؔ غیر آستانہ یار

جبہ سائی نہ کر خدا سوں ڈر
جو ولیؔ ہے مرجع ہر جزو کل

وہ مرا مقصود جان و تن ہوا
ایک حمدیہ غزل میں ولیؔ اپنے جذبات عقیدت کا اظہار اس طرح کرتے ہیں:
ہے زباں پر تو اول و اول

نام پاک خدائے عز و جل
لائق حمد نیٔںاس بن اور

اس اُپر متفق ہیں اہل ملل
یاد اس کی ہے سب پر لازم

شکر اس کا ہے مدعائے سکل
شکر اس کا محیط اعظم ہے

وہ ہے سلطان بارگاہ ازل
ولی دکنیؔ کے معاصر شعراء سراج اورنگ ؔبادی (م ۱۷۶۳ء) نامور صوفی شاعر ہیں۔ ان کے حمد باری کے تین اشعار ملاحظہ ہوں:
عجب قادر پاک کی ذات ہے

کہ سب ہے نفی اور وہ اثبات ہے
اپس کی صفت آؔپ دو بے نظیر

کیا ہے علیٰ کلّ شیٍٔ قدیر

دیا چاند سورج کوں نور و ضیا

فلک پر ستارے کیا خوشنما
ولی اور سراج کے زمانے میں شمالی ہندی میں اردو شاعری کا آغاز ہوچکا تھا۔ آبروؔ، فائزؔ اور یکرنگ کا کلام اپنی ضیا سے سماعتوں کو روشن کر رہا تھا۔ یہ دور تھا انعام اللہ خاں یقینؔ (م ۱۷۵۹ء) کا۔ یقین مرزا مظہر جان جاناں کے اشرف تلامذہ میں سے تھے اور اس عہد کے کامل سخن ور بھی تھے اور سخن فہمی میں کامل یقین کو کئی ٹائٹل اس دور کے دانش وروں نے عطا کئے۔ قائم انہیں بزم شعرائے متاخرین کا صدر نشیںہے۔
اپنی کتاب ’گل رعنا‘ میں یقینؔ کے کلام کا تجزیہ کرتے ہوئے مولانا سید عبد الحی فرماتے ہیں ’’اگر یقینؔ جیتے رہتے تو میرؔ ہوں یا مرزا ہوں کسی کا چراغ ان کے سامنے نہیں جل سکتا تھا‘‘۔ یقین حمد باری تعالی کہتے ہیں:
کون کرسکتا ہے اس خلاق اکبر کی ثنا
نارساہے شان میں جس کے پیمبر کی ثنا
بت پرستی میں موحد نہ سنا ہوگا کبھو
کوئی تجھ بن مرا واللہ کہ معبود نہیں
مرزا مظہر جان جاناں (م ۱۷۸۱ء) اس دور کے صاحب عرفاں و تصوف بھی تھے اور فصیح و بلیغ زبان شناس بھی ان کے بعد شیخ ظہور الدین حاتمؔ نے اصلاح زبان کی طرف توجہ کی اور اردو زبان کو دلی کے محاورات کے مطابق بنانے کا بیڑہ اٹھایا۔ حمدیہ اشعار بھی کہے:
کیا کہے قاصر زبان توحید و حمد کبریا

جن نے کن کہنے میں سب ارض و سما پیدا کیا
جدا نئیں سب ستی تحقیق کر دیکھ

ملا ہے سب سے اور سب سے نیارا
اردو شاعر مرزا محمد رفیع سوداؔ (م ۱۷۸۱ء) کی ممتاز شخصیت قابل ذکر ہے۔ وہ نہایت عظمت و احترام کے ساتھ مذہب و اخلاق کے مضامین بیان کرتے ہیں۔ ان کی نظم کے چند حمدیہ اشعار ملاحظہ ہوں:
ہے خداکا یہ ایک شمّۂ نور

جس سے روشن ہے آسماں کا تنور
کرتے اس کو لگے نہ ذرہ دیر

مہر و مہ کو بہ شکل نان و پنیر
کس زباں سے ہو اس کا شکر ادا

نعمتیں کیا کیا اس نے کیں پیدا
صنف سخن مثنوی کے مشہور شاعر میر غلام حسن حسنؔ (م ۱۷۸۶ء) اٹھارہویں صدی کے آخری حصہ کے ممتاز شاعر ہیں وہ مثنوی کا آغاز حمد باری تعالی سے کرتے ہیں:
کروں پہلے توحید یزداں رقم

جھکا جس کے سجدے کو اول قلم
سر لوح پر رکھ بیاض جبیں

کہا دوسرا تجھ سا کوئی نہیں
قلم پھر شہادت کی انگلی اٹھا

ہوا حرف زن یوں کہ رب العلی
نہیں تیرا کوئی نہ ہوگا شریک

تری ذات ہے وحدہ لا شریک
اردو شاعری کے سب سے ممتاز و نامور زندہ جاوید شاعر میر تقی میر (م ۱۸۱۰ء) زندگی کے پریشان کن حالات سے دوچار رہے۔ انہوں نے کشاکش حیات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے مذہب کی طرف رجوع کیا اور سہارا حاصل کیا۔ ان کے حمدیہ اشعار پیش ہیں:
بحر بلاسے کوئی نکلتا مرا جہاز
بارے خدائے عز و جل ناخدا ہوا
ایک اللہ کا بہت ہے نام
جمع باطل ہوں سو الہ تو کیا
بندہ ہو پھر کہاں کا جو صاحب ہو بے دماغ
اس سے خدائی پھرتی ہے جس سے خدا پھرا
کعبے گئے کیا کوئی مقصد کو پہنچتا ہے
کیا سعی سے ہوتا ہے جب تک نہ خدا چاہے
نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
تھامستعار حسن سے اس کا جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
اشجار ہو ویں خامہ و آب سیہ بحار
لکھنا نہ تو بھی ہو سکے اس کی صفات کا
سرزمین امروہہ کے غلام ہمدانی مصحفیؔ (۱۸۲۴ء) کا نعتیہ کلام اور منقبتی قصائد سے ان کے مذہبی رجحات کا اظہار ہوتا ہے، فرماتے ہیں:
اے مصحفی کچھ کمی نہیں واں

جو چاہے سو مانگ، پر خدا سے
کیا حسن سے اس کے ہو خبر اہل زمین کو

سورج نے بھی دیکھا نہیں جس پردہ نشیں کو
اردو شاعری کی تمام اصناف سخن اور بے شمار مختلف موضوعات پر شاعری کرنے والے شاعر نظیر اکبر آبادی جن کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کی شاعری کے افادی پہلو سامنے آتے جارہے ہیں اور ان کی شاعرانہ اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے حمدیہ گیت کا ایک بند ملاحظہ ہو:
خداکی ذات ہے وہ ذو الجلال والاکرام
کہ جس سے ہوتے ہیں پروردہ سب خواص و عوام
اوسی نے ارض و سماوات کو دیا ہے نظام
اسی کی ذات کو ہے دائماً ثبات و قیام
قدیر وحی وکریم و مہیمن و منعام
ایک اور نظم میں ذات خداوندی ربوبیت و عظمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
یا رب ہے تیری ذات کو دونوں جہاں میں برتری
ہے یاد تیرے فضل کو رسم خلائق پروری
دائم ہے خاص و عام پر لطف و عطا حفظ آوری
انسان کیا، کیا طائراں، کیا وحش و کیا جن و پری
پالے ہے سب کو ہرزماں تیرا کرم اور یاوری
امام بخش ناسخؔ (۱۸۳۸ء) کے دور میں مذہبی اقدار سے بیزاری تھی۔ مذہب صرف عقیدے تک محدود تھا اس کے باوجود ان کے عقیدے کی پختگی کا اظہار ان کے حمدیہ اشعار سے ہوتا ہے:
جز صنم کچھ نظر نہیں آتا

وہ مؤحد ہوں روز اول کا
جو نظر آیا حرم میں دہر میں دیکھا وہی

ناسخؔ اپنی آنکھ روشن ہیں خدا کے نور سے

کیوں مرقع نہ کہیں دفتر کونین کو ہم

فرد وہ کون ہے جس میں تری تصویر نہیں
اس پر آفت نہیں منہ سوئے خدا ہے جس کا

طائر قبلہ نما کا ہے کو بسمل ہوگا
رب العالمین کی بارگاہ میں مسلم شاعر ہی نہیں غیر مسلموں نے بھی اس کی وحدانیت کے گیت گائے ہیں ان شعراء میں دیا شنکر نسیمؔ (۱۸۴۳ء) اپنی تخلیق’’مثنوی گلزار نسیمؔ‘‘ کا آغاز اس حمدیہ شعر سے کرتے ہیں:
ہر شاخ میں ہے شگوفہ کاری

ثمرہ ہے قلم کا حمد باری
دیگر اشعار:
صفتیں کیسی ہوئیں ذات خدا سے پیدا
راگ کیاکیا ہوئے ہیں ایک صدا سے پیدا
دو سمجھنا صاف ہے بے وحدتی
ایک ہے بیگانہ ہو یا آشنا
جلوہ حرم و دیر میں ہے یار تمہارا
دم بھرتے ہیں سب کافر و دیندار تمہارا
اردو کے بلند مرتبہ شاعر حکیم مومن خان مومن نے سید احمد شہید بریلوی (م ۱۸۳۰ء) سے بیعت کی تو ان میں مذہبی انقلاب رونما ہوا۔ وہ اپنی مثنوی میں فرماتے ہیں:
الحمد الواہب العطایا

اس شور نے کیا مزہ چکھایا
والشکر الصانع البرایا

جس نے ہمیں آدمی بنایا
احسان ہیں اس کے کیا گراں بار

سر سبع شداد کا جھکایا
نہ پوچھ گرمیٔ شوق ثنا کی آتش افروزی
بنایا ماہ دست عجز شعلہ شمع فطرت کا
غضب سے تیرے ڈرتا ہوں رضا کی تیری خواہش ہے
نہ میں بیزا ر دوزخ سے نہ میں مشتاق جنت کا
مومن کا خالق کائنات سے یہ لگاؤ اور اس کے عشق میں سرشار ہونا ان کے ایمان کی پختگی کا مظہر ہے۔
شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ (م ۱۸۵۴ء) کو اپنے ہم عصر شعراء میں امتیاز حاصل رہا۔ اللہ تبارک و تعالی کی حمد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ہوا حمد خدا میں دل جو مصروف رقم مرا

الف الحمد کا سا بن گیا گو یا قلم میرا
کیا فائدہ فکر بیش و کم سے ہوا

ہم کیا ہیں، جو کوئی کام ہم سے ہوگا
جو کچھ ہوا، ہوا کرم سے تیرے

جو کچھ ہوگا ترے کرم سے ہوگا
احسان نا خدا کا اٹھائے مری بلا

کشتی خدا پہ چھوڑدوں لنگر کو توڑ دوں

بندہ نوازیاں تو یہ دیکھو کہ آدمی

جز و ضعیف محرم اسرار کل ہوا
مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ بنیادی طور پر فارسی کے شاعر تھے چنانچہ انہوں نے اردو زبان میں شاعری کی تو اس کے اشعار میں فارسی کے اثرات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ غالب موحد تھے اور ان کے موحد ہونے کا اعتراف الطاف حسین حالی نے کیا ہے غالب کے حمدیہ پیش ہیں:
ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم

ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہوگئیں
دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر

ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتاتو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا

جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا
کثرت آرائی وحدت ہے پرستاریٔ وہم

کردیا کافر اس اصنام خیالی نے مجھے
ہے پرے سرحد ادراک سے اپنا مسجود

قبلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں
مندرجہ بالا حمدیہ اشعار میں غالب کا وحدانیت کے بارے میں اور اللہ تعالی کی ربوبیت کے ایقان کا اظہار ہوتا ہے
بہادر شاہ ظفرؔ (م ۱۸۶۳ ء) معاصر ین غالب میں شیفتہؔ اور ظفرؔ کی شاعری ہر چند استادانہ فنکاری کا نمونہ نہ بن سکی تاہم اتنی بھی غیر اہم نہیں۔ آئے دن کی پریشانیوںنے ظفرؔ کو اللہ تعالی کی طرف راغب کردیا تھا۔ فرماتے ہیں:
یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
چمن ہی پر فقط موقوف کیا ہے اس کی قدرت سے
ہزاروں ہیں ظفرؔ گلہائے رنگارنگ صحرا میں
خاک ساری کے لیے گرچہ بنایا ہوتا
کاش خاک در جانا نہ بنایا ہوتا
روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفرؔ
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا
میر ببر علی انیسؔ (م ۱۸۷۴ ء) کے حمدیہ اشعار تصوف کے زیر اثر نظر آتے ہیں۔ ایک رباعی ملاحظہ ہو:
گلشن میں پھروں کہ سیر صحرا دیکھوں

یا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوں
ہر جا تری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے

حیراں ہوں کہ ان آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں
پتلی کی طرح نظر سے مستور ہے تو

آنکھیں جسے ڈھونڈتی ہیں وہ نور ہے تو
اقرب ہے رگ جاں سے اور اس پر یہ بعد

اللہ اللہ کس قدر دور ہے تو
یا رب چمن نظم کو گلزار ارم کر

اے ابر کرم خشک زراعت پہ کرم کر
تو فیض کا مبدا ہے تو جہ کوئی دم کر

گمنام کو اعجاز بیانوں میں رقم کر
جب تک یہ چمک مہر کے پرتو سے نہ جاے
اقلیم سخن میرے قلمرو سے نہ جائے
مرزا سلامت علی دبیرؔ نے (۱۸۷۵ء) اسلام کے تصور وحدانیت اور اللہ کے قادر مطلق ہونے کو اس بند میں پیش کیا ہے:
چاہے وہ جس گدا کو سلیماں کی جاہ دے
ذرے کو آفتاب کے سر کی کلاہ دے
بے دست و پا کو گوشۂ راحت میں جاہ دے
جس کو کوئی پناہ نہ دے وہ پناہ دے
تبدیل عشرتوں سے وہ بندے کا غم کرے
جس پر کوئی کرم نہ کرے وہ کرم کرے
یا رب خلاق ماہ و ماہی تو ہے

بخشندہ تاج و تخت شاہی تو ہے
بے منت وبے سوال بے استحاق

دیتا ہے جو سب کو یاالہی تو ہے
امیر مینائی (م ۱۹۰۰) اپنے عہد کے صاحب طرز اور معتبر ترین شعراء میں سے ہیں نعت کے حوالے سے ان کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ بارگاہ ایزدی میں جذبات عقیدت پیش کرتے ہوئے امیر صاحب کہتے ہیں:
کچھ غم نہیں جو پیش ہے دفتر قصور کا
عنوان نامہ نام ہے رب غفور کا
ہمت سے شرط راہ خدا ہے کھلی ہوئی
پہنچا وہ جس نے قصد کیا راہ دور کا
محروم اس کے خوف تجلی سے کون ہے
حصہ ہر ایک آنکھ نے پایا ہے نور کا
بارگاہ حق سے ہر طاقت کی ملتی ہے جزا
ہے بڑی سرکار حق رہتا نہیں مزدور کا
عفو کے قابل مرے اعمال کب ہیں اے کریم
تیری رحمت پر ہے تیری مہربانی پر گھمنڈ
میر مہدی مجروحؔ (م ۱۹۰۳ء) غالب کے صحبت یافتہ صاحب طرز شاعر ہیں۔ ان کے دیوان میں جب کوئی نئی ردیف شرو ع ہوتی ہے تو اس کی ابتدا پاکیزہ اصناف سخن سے کرتے ہیں۔ چند حمدیہ اشعار ملاحظہ ہوں:
فاتح کار جہاں نام سے یزداں تیرا

قاطع ترک ہے اول ہی سے پیماں تیرا
ذات اقدس سے تری کار برارعالم

زرفشاں سب پہ ہے گنجینۂ احساں تیرا
میں رضامند ہوں تو دوزخ و جنت جو دے

ایک ہے عدل ترا دوسرا احساں تیرا
تو راحم وغفار ہے تو مالک و مختار

کس در پہ بھلا جاؤں گا اس در کے سوا میں
نواب مرزا خاں داغؔ دہلوی (م ۱۹۰۵ ء) زبان روزمرہ اور محاورات کی شاعری کے بادشاہ تھے۔ ان کے حمدیہ اشعار پیش ہیں:
یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
کہیں ہم نے پتہ پایا نہ ہرگز آج تک تیرا
صفات و ذات میں یکتا ہے تو اے واحد مطلق
نہ کوئی تیرا ثانی ہے نہ کوئی مشترک تیرا
ترے فیض و کرم سے نار و نور آپس میں یک دل ہیں
ثنا گر یک زباں ہر ایک ہے جن وملک تیرا
مجھے آباد کرتا ہے مجھے برباد کرتا ہے
خدایا دین و دنیا میں کرم تیرا، ستم تیرا
تری بندہ نوازی ہفت کشور بخش دیتی ہے
جو تو میرا، جہاں میرا، عرب میرا، عجم میرا
صفت لف و نشر کو داغ نے کس خوبصورتی سے استعمال کیا ہے اب سہل ممتنع اور صفت تضاد کے اشعار ملاحظہ ہوں:
داغ کو کون دینے والا تھا

جو دیا، اے خدا دیا تو نے
مری بندگی سے مرے جرم افزوں

ترے قہر سے تیری رحمت زیادہ
خواجہ الطاف حسین حالیؔ (م ۱۹۱۴ء) حالی حمد باری تعالی بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں:
دیکھا ہے ہم نے عالم رحمت کو غور سے

ہے شش جہت میں قحط دل نا امید کا
دوزخ ہے گر وسیع تو رحمت وسیع تر

لا تقنطوا جواب ہے ہل من مزید کا
ہندو نے صنم میں جلوہ پایا تیرا

آتش پہ مغاں نے راگ گایا تیرا
دہری نے کیا دہر سے تعبیر تجھے

انکار کسی سے نہ بن آیا تیرا
کانٹا ہر اک جگر میںہے اٹکا تیرا

حلقہ ہے ہر ایک گوش میں لٹکا تیرا
مانا نہیں جس نے تجھے جانا ہے ضرور

بھٹکے ہوئے دل میں بھی سے کھٹکا تیرا
اسماعیل میرٹھی (م ۱۹۱۷ء ) کو بچوں کا شاعر کہا گیا ہے ان کا کلام سادگی کا مظہر ہے۔ وہ اللہ تبارک و تعالی کی تعریف کچھ اس طرح کرتے ہیں:
حمد و سپاس حصہ اس پاک ذات کا ہے
جو آسرا سہارا کل کائنات کا ہے
کن خوبیوں سے اس نے اس بزم کو سجایا
اور خلعت شرافت انسان کو پہنایا
اللہ رے اس کی قدرت اللہ رے بے نیازی
دی بعض کو بہ نسبت بعضوں کے سرفرازی

سخت فتنہ جہان میں اٹھتا

کوئی تجھ سے ترے سوا نہ ہوا
تو نہ ہو یہ تو ہو نہیں سکتا

میرا کیا تھا، ہوا، ہوا نہ ہوا
خدایا نہیں کوئی تیرے سوا

اگر تو نہ ہو تا تو ہوتا ہی کیا
مولانا محمد علی جوہرؔ (م ۱۹۳۱ء)
صاحب حق و صداقت تھے جناب جوہر
آدمیت تیری عظمت تھے جناب جوہرؔ
حمدیہ شاعری میں جناب جوہرؔ کے جوہر اس طرح نظر آتے ہیں:
نور حق وہ شمع انور ہے جو بجھ سکتی نہیں
ہے خدا حافظ چراغ رہ گزار باد کا
کیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
ہم نے یہ مانا کہ یاس کفر سے کم تر نہیں
پھر بھی ترا انتظار دیکھئے کب تک رہے
امت احمد کو ہے فضل کی تیرے امید
فضل کا امید وار دیکھئے کب تک رہے
حق کی کمک ایک دن آہی رہے گی ولے
گرد میں پنہاں سوار دیکھتے کب تک رہے
یہ بات سچ ہے کہ مولانا محمد علی جوہر کی حمدیہ شاعری ان کی نکہت ایمان کی مظہر ہے:
ڈاکٹر سر محمد اقبال (م ۱۹۳۸ء) حیات کی بنیاد توحید کی بنیاد پر ہی مستحکم رہ سکتی ہے۔ اقبال کی شاعری نظام حیات پر محیط ہے۔ نظام حیات پر اقوام کا عروج ، معاشرت اور معیشت، مسائل، تعلیم و تدریس، غرضیکہ دنیا و عقبی تمام مسائل در آتے ہیں۔ علامہ اقبال اپنے دل میں قوم کا درد رکھتے تھے۔
ذات باری محیط کل ہے، خالق کائنات ہے علامہ فرماتے ہیں:
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب
سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آزری
تو ہے محیط بیکراں میں ہوں ذرا سی آبجو
یا مجھے ہمکنار کر، یا مجھے بے کنار کر
میں ہوں صدف توتیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو
میں ہوں خزف تو، تو مجھے گوہر شاہوار کر
رحم تیرا تھا بہر صورت سزاروار ثنا
مدح میری بر بنائے مصلحت کوشی نہ تھی
گنہ گاروں کا بیڑا پار ہوجائے گا محشر میں
جو آیا جو ش غفاری میں دریا ان کی رحمت کا
علی سکندر جگر مراد آبادی (م ۱۹۶۰ء) خدائے واحد دائم و قائم ہے۔ جگر اس صداقت پر ایمان رکھتے ہیں۔ انہیں اللہ تبارک و تعالی کی عظمت کا یقین کامل ہے۔ فرماتے ہیں:
کثرت میں بھی وحدت کا تماشہ نظر آیا
جس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیا
میرے سوا زمان و مکاں ہوں اگر تو ہوں
تیرے سوا زمان و مکان بھی کہیں نہیں

تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا
صدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگا
سر محشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہو گا
در جنت نہ وا ہوگا، در رحمت تو وا ہوگا
مجازی سے جگر کہہ دو ارے او عقل کے دشمن
مقر ہو یا کوئی منکر خدا یوں بھی ہے اور یوں بھی
تجھ سے میں دوست کسی وقت نہیں ہوں غافل
دل میں بیٹھا ہوا کوئی یہ صدا دیتا ہے
یقینا جگر کی شاعری نور بصیرت بخشتی ہے اور ایمان کو قوت عطا کرتی ہے۔
تلوک چند محرومؔ (م ۱۹۶۶ء) اللہ کی ذات میں ہمہ جہت ہونے کا اظہار محرومؔ صاحب حمدیہ اشعار میں یوں کرتے ہیں:
ہر ذرہ میں ہے ظہور تیرا

خورشید و قمر میں نور تیرا
افسانہ ترا جہاں تہاں ہے

چرچا ہے قرب و دور تیرا
ہر ذرہ خاک میں ہے لمعاں

مخصوص نہیں ہے طور تیرا
شبیر حسین خاں جوشؔ ملیح آبادی (م ۱۹۸۲ء) جوشؔ صاحب اللہ تعالی سے اپنی عقیدت کا اظہار فرماتے ہوئے کہتے ہیں:
کیوں کر نہ کروں شکر خدائے دوجہاں کا
بخشا ہے میرے دل کو مزا سوز نہاں کا
یک ساں ہے مسرت کا محل ہو کہ فغاں کا
ہو نار جہنم بھی تو لطف آئے جہاں کا
ہوتی ہے خوشی صحت و آزاد سے مجھ کو
خلعت یہ ملا ہے تری سرکار سے مجھ کو
سورہ رحمن کے منظوم ترجمہ کا ایک بند ملاحظہ ہو:
یہ سحر کا حسن یہ سیارگاں اور یہ فضا
یہ معطر باغ، یہ سبزہ، یہ کلیاں دلربا
یہ بیاباں، یہ کھلے میدان یہ ٹھنڈی ہوا
سوچ تو کیا کیا، کیا ہے تجھ کو قدرت نے عطا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا
حفیظ ؔ جالندھری (م ۱۹۸۱ء) حفیظ صاحب فرماتے ہیں:
اے نوح کے کھویا

لگ جائے پار نیا
بندوں کا تو خدا ہے

اور توہی نا خدا ہے
تیرا ہی آسرا ہے
مزید چند اشعار پیش ہیں:
خانہ انوار فشاں مدح شہنشاہ میں ہے
برق ایمن کا اثر ایک پری کاہ میں ہے
طور مشعل لیے ہر ہر قدم اس راہ میں ہے
کبھی خورشید میں ہے فکر کبھی ماہ میں ہے
کس کے دربار میں مصروف عقیدت ہوں میں
سر بہ سر غوطہ زن بحر محبت ہوں میں
کس کے پرتو سے پر انوار ہے چہرہ میرا
کہ تماشائی ہے ہر دیدۂ بینا میرا
احمد ندیم قاسمی (ولادت ۱۹۱۶ء) ترقی پسند شاعر ندیم قاسمی فرماتے ہیں:
اگر نجوم میں تو ہے تو چاند میں ہے کون
ترے جمال کی تقسیم ہو نہیں سکتی
ازل، ابد کا تصور فقط تصور ہے
ترے وجود کی تقویم ہو نہیں سکتی
حرم میں تو ہے تو آخر کنشت میں ہے کون
کہ ایک ذات تو دو نیم ہو نہیں سکتی
جو قوتیں ہوں تری منتشر تو سچ کہہ دوں
کہ اس جہان کی تنظیم ہو نہیں سکتی
احسان دانشؔ (م۱۹۸۲ء) مزدوروں کے شاعر احسان دانشؔ فرماتے ہیں:
خدا کو پا نہیں سکتا خدا کی ذات کا منکر
نہ جب تک دل سے نقص نا تمامی دور ہو جائے
خدا وہ ہے کہ جس کی عظمت و جبروت کے آگے
خود انسان سجدہ کرنے کے لیے مجبور ہو جائے
ماضی کے اوراق کے مطالعہ سے علم ہوا کہ پاکیزہ اصناف سخن بالخصوص حمد باری تعالی کے ذریعہ ہمارے بیشتر شعراء نے اللہ تبارک و تعالی جل شانہ جل جلالہ کی حمد و ثنا میں کس عقیدت اور قوت ایمان کے ساتھ اپنے احساسات و خیالات اور جذبات و عقیدت کو صفحات کے قرطاس پر مزین کیا ہے۔ اس سب کے باوجود اگر ہم تلاش کریں تو حمدیہ کلام کے مجموعے یا دیوان کتابی شکل میں شائع ہونے کی کوئی روایت کا قیام ثابت نہیں ہوتا۔ اور کوئی فیصد تناسب برآمد نہیں ہوتا دکن میں مثنویات بہت کہی گئیں۔ ہر شاعر نے اپنی مثنوی کو حمد سے شروع کیا ہے کہا جاتا ہے کہ خالصتاً حمدیہ شاعری میں ایک اور نام غلام سرور لاہوری کا ہے مجموعۂ حمدیہ شاعری ’’دیوان احمد ایزدی‘ ۱۸۸۱ء؁ مطبع نولکشور حمدیہ شاعری کا پہلا دیوان قرار دیا گیا تھا۔ صوفی غوث علی شاہ بیابانی خاقان نے بھی حمدیہ کلام کا ایک دیوان ’’مخزن عرفان‘‘ تصنیف کیا تھا جو اب کمیاب ہے۔
حمد باری تعالی کے سلسلے میں پاکستان میں اب کام ہو رہا ہے اور حمد و نعت کے مجموعے بھی شائع ہو رہے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں اس سلسلے میں باقاعدہ کوئی کام نہیں ہو رہا ہے۔ حد یہ ہے کہ یہ پاکیزہ اصناف سخن اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل نہیں ہیں۔
حمد باری تعالیٰ کے سلسلے میں ریاض مجید کی پیش کردہ معلومات پیش ہیں جس کے متعلق وہ اپنے مضمون حمدیہ قطعات (جہان حمد) میں صفحہ ۱۱۰ میں فرماتے ہیں:
’’جہاں تک اردو میں جداگانہ حمدیہ مجموعوں کا تعلق ہے، انکی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے ’’اردو میں حمد کا پہلا دیوان‘‘ کے عنوان سے لکھے جانے والے مقالہ (مطبوعہ مجلہ حضرت حسان نعت ایوارڈ کراچی ۱۴۱۱ھ ۱۹۹۱ء) میں ابرار حسین نے جن حمدیہ دواوین اور شعری مجموعوں کا ذکر کیا ہے وہ درج ذیل ہیں:
۱۔ دیوان حمد ایزدی مفتی غلام سرورلاہور ۱۸۸۱ء صفحات ۱۰۰
۲۔ نذر خدا مضطر خیر آبادی آگرہ ۱۹۱۲ صفحات ۳۱۲
۳۔ لا شریک طفیل راسا آئینہ ادب لاہور ۱۹۸۰
۴۔ الحمد مظفر وارثی لاہور ۱۹۸۴ صفحات ۱۰۴
۵۔ صحیفۂ حمد لطیف اثرؔ کراچی ۱۹۸۸ صفحات ۲۳۰
۶۔ ذو الجلال والاکرام حافظ لدھیانوی فیض آباد ۱۹۸۶ صفحات ۱۸۲
۷۔ سبحان اللہ و بحمدہ حافظ لدھیانوی فیض آباد ۱۹۹۰ صفحات ۱۶۰
۸۔ سبحان اللہ العظیم حافظ لدھیانوی فیض آباد ۱۹۸۶ صفحات ۱۵۲
۹۔ حضور حق تعالی کاوش زیدی ۱۹۹۰ صفحات ۱۵۲
۶۰ کے قریب غزل کی صنف میں اور باقی نظم کی مختلف ہیئتوں میں۔
اس فہرست میں لطیف اثر کے حرف مجموعہ محامد ’’صحیفۂ حمد‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے جب کہ ان کی دیگر کتب بھی ہیں۔ ان کی تفصیلحسب ذیل ہے:
صحیفۂ ذات لطیف اثرؔ کراچی ۱۹۹۲ء مجموعۂ حمد
اللہم لطیف اثرؔ کراچی ۱۹۹۲ء مجموعۂ حمد
طلوع حمد لطیف اثرؔ کراچی ۱۹۹۲ء مجموعۂ حمد
زیر ترتیب کتب:
شعاع نور لطیف اثرؔ کراچی مجموعۂ حمد
تجلیات نور لطیف اثرؔ کراچی مجموعۂ حمد
ہندوستان میں ابرار کرت پوری کے کئی مجموعے محامد کے شائع ہوئے اور چند زیر طبع ہیں جن کی تفیصل حسب ذیل ہے:
خالق ذو الجلال مجموعۂ محامد ابرار کرت پوری ۱۹۹۴ء
قسام ازل مجموعہ محامد ابرار کرت پوری ۲۰۰۴ء
حمد کہوں تو ہو اجیارا مجموعۂ محامد ابرار کرت پوری ۲۰۰۸ء
زیر طبع کتب
مالک یوم الدین مجموعۂ محامد ابرار کرت پوری
ایاک نعبد مجموعۂ محامد ابرار کرت پوری
و ایاک نستعین مجموعۂ محامد ابرار کرت پوری
سخن سخن اس کا مجموعۂ محامد ابرار کرت پوری
الا ہو انتخاب محامد ابرار کرت پوری
ان تمام کتب کے بارے میں جان کر بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں شعراء کرام کی توجہ حمد باری کی طرف نہایت ہی کم ہے۔ البتہ پاکستان میں یہ سلسلہ تیزی سے اور احترام کے ساتھ جاری ہے وہاں حمدیہ مجموعے بھی زیادہ تعداد میں شائع ہونے لگے ہیں۔
ہندوستان میں بھی حمد و نعت پر کام کرنے والے حضرات موجود ہیں ہر چند ان کی تعداد بہت کم ہے لیکن ان کا کام نہایت اہم ہے جس کو پاکستان میں اعتبار حاصل ہوا ہے۔ ان حضرات نے نثر میں نعت کے موضوع پر نہایت اہم کتاب شائع ہوئی ہیں۔ہم ان حضرات کے ناموں سے عموماً واقف بھی نہیں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حمد و نعت میں کام کرنے والے حضرات کی ایک ڈائرکٹری تیار کی جائے جس میں نثر و نظم میں کام کرنے والوں کے کاموں کی تفصیل بھی موجود ہو اور ان حضرات کا تعارف بھی ۔ حمد ونعت اکیڈمی، نئی دہلی میں یہ کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے انشاء اللہ جلد یہ کام شروع کر دیا جائے گا۔
ہم نے حمد باری اپنے تخلیقی جوہر دکھانے والے شعراء کے کلام، نمونے پیش کیے۔ اب ضروری ہوجاتا ہے کہ دور حاضر کے شعراء کا کلام کوہم کتاب کے صفحات پر مطالعہ کریںگے۔ ان میں سے کچھ اہم شعراء کے ناموں کا ذکر کر دیا جائے۔ بارگاہ ایزدی میں حمد پیش کرنے والے پاکستانی شعراء میں طاہر سلطانی، مرتضی، اشعرؔ، جاذبؔ قریشی، خواجہ محمد اکبر، حنیف اسعدی، آفتاب کریمی، تابش دہلوی، گوہر ملیسانی، امجد اسلام امجد، سید معراج جامی، صبیح رحمانی، محمد حیدر کامران، وحید زماں کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ جن شعراء نے جاپانی صنف سخن ہائیکومیں طبع آزمائی کی ہے ان میں سے ناز صدیقی، محسن بھوپالی، اقبال حیدر، تاجدار عادل، کی کاوشیں داد و تحسین کی مستحق ہیں۔
ان شعراء کے علاوہ عبد العزیز خالد، مضطرؔ وارثی، عاصی کرنالی، ریاض حسین چودھری، نعیم صدیقی، مسلم گیلانی، راجہ رشید محمود، رحمن کیانی، حافظ لدھیانوی، فدا خالدی دہلوی، جعفر بلوچ، ذاکر، خواجہ عابد نظامی، حفیظ تائب، جمیل نقوی، سعید وارثی، حمید یزدانی، خالد اقبال، خورشید رضوی، امان اللہ خاںاجمل اور کئی دیگر نام اگر چہ نعت رسول کہتے ہیں تاہم انہوں نے حمدیہ شاعری میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔
ہمارے یہاں ہندوستان میں شعراء کی تعداد دیکھتے ہوئے آٹے میں نمک
کے برابر بھی حمدیہ شاعری نہیں ہوئی۔ گذشتہ صدی کے آخری حصہ میں مذہبی شاعری میں شعراء کرام کی توجہ خاص طور پر مبذول ہوئی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ حمد و نعت میں کئی عمدہ مجموعے منظر عام پر آئے ہیں۔ علامہ سرور لاہوری، مضطر خیر آبادی جنہوںنے حمدیہ دواوین ترتیب دے کر اردو ادب میں ایک نئی روایت قائم کی تھی۔ اس روایت کا احیاء ڈاکٹر شاداب ذکی نے کیا شاعری جنہیں وراثت میں ملی ہے ان کے والد ولی تالگانوی نامور بزرگ تھے۔ ہندوستان میں حمدیہ شاعری کے سلسلہ میں ابرار کرت پوری کی مساعی قابل ذکر ہیں۔ ان کے حمدیہ کلام کے تین مجموعے ’خالق ذو الجلال‘ قسام ازل اور حمد کہوں تو ہو اجیارا منظر عام پر آچکے ہیں اور مزید پانچ مجموعے مالک یوم الدین، ایاک نعبد و ایا نستعین، سخن سخن اس کا اور الا ہو (انتخاب محامد) زیر طبع ہیں۔ انکا پہلامجموعہ مناجات ’’وایّاک نستعین‘‘ انشاء جلد طبع ہوگا۔ آئیے ابرار کرت پوری کی چند محامد کا مطالعہ کریں جو ابرار کی حمدیہ کلام کی کتب سے لی گئی ہیں:
شعور ایمان و آگہی جس سے پر ضیا ہے وہی خدا ہے
یقین کامل کی ابتدا ہے، جو انتہا ہے، وہی خدا
ہر ایک تار نفس میں پنہاں وہی تو ہے اقرب رگ جاں
دلوں میں جو اعتبار بن کر دھڑک رہا ہے وہی خدا ہے
وہی تو معبود کل جہاں ہے یہ حق ہے مسجود انس و جاں ہے
بلطف اکرام و استعانت نوازتا ہے وہی خدا
وہی ہے غفار اور رحمن، ہر آدمی پر ہے جس کا احساں
جو رزق ، آب و ہوا سے سب کو جلا رہا ہے وہی خدا ہے
سمندروں میں ہیں اس کے نقشے، ہر ایک منظر زباں سے بولے
جو ماء و طیں میں ہزار جلوے بکھیرتا ہے وہی خدا ہے
حسین لیل و فلق بھی اس کے یہ سچ ہے چودہ طبق بھی اس کے
جو عالموں کو بحسن قدرت چلارہا ہے وہی خدا ہے
صراط ہے مستقیم جس کا، ہے پاک قرآن عظیم جس کا
جہاں کے سب رہ بران اعظم کا رہنما ہے وہی خدا ہے
کہاں ثنا ئے امین قدرت کہاں میں ابرارؔ بے بضاعت
جو حمد کہنے کا مجھ کو اعزاز دے رہا ہے وہی خدا ہے
(’’حمد کہوں تو ہو اجیارا‘ سے)