اردو زبان میں مناجات:

اردو زبان میں مناجات:

عربی سے فارسی اور پھر یہ سلسلہ اردو زبان میں بھی در آیا اردو میں شعراء نے بھی ان کے انداز کو اپنایا۔ کم شعراء نے مناجاتیں کہیں۔ کچھ مناجاتیں مثنوی کی شکل میں ملتی ہیں۔ متقدمین میں فائز دہلوی کی مناجات جو مثنوی کے طرز پر ہے ملاحظہ ہو:
خدا یا فضل کر تو بے کسا ں پر

کریما رحم کر تو عاجزاں پر
خدا یا تو حقیقی پادشا ہے

مجازی پادشا تیرا گدا ہے
نہیں ہم کو وسیلہ اور، اے حق

سبھوں کا ہے تو ہی رزاق مطلق
کہ میں غرق گنہ سر تا بپا ہوں

اسیر نفس کا فر ماجرا ہوں
ولیکن تو ہے غفار اے خداوند

کرم میں تجھ نہیں ہے مثل و مانند
ایک عاجز بندہ جب گڑ گڑا کر ارحم الراحمین سے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے رحم طلب ہوتا ہے تو دریائے رحمت جوش میں آجاتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر رحم فرمانے میں دیر نہیں کرتا۔ بس اس پر بھروسہ کرنا لازمی ہے۔ اسباب اور وسائل سب بیکار ہیں بس اسی کا کرم اول و افضل ہے۔
شاہان زمانہ بھی اس کے کرم کے محتاج اور اس کے دربار میں گداگر رہے ہیں ۔ یہاں چند شاہوں کی مناجات ملاحظہ فرمائیں:
عادل شاہ ثانی شاہیؔ (م ۱۶۷۲) کے قصیدے کے ایک شعر پیش ہے:
شاہی عاشق اتابول مناجات کچ

تاکہ کرم تجھ پہ ہوئے بہر حسین و حسن
اس کے بعد شاہی بارگاہ ایزدی میں دعا کرتے ہیں:
کار جہاں کے سگل فکر تے بھاری اچھے
سائیں کرے لوبھ جب دور ہوجائے محن
آہ و افسوس کے قبح تے محفوظ دھر
سایہ کرم کا دکھا ذوق سوں دکھ مج بدن
محمد قلی قطب شاہ مذہبی اور رعایا سے محبت کرنے والا شخص تھا۔ بارگاہ رب العالمین میں ملتجی ہے کہ خدایا میرے ملک کو رعایا سے معمور رکھ اور مجھے رنج و غم اور آلام و افکار سے مستغنی کردے۔ جس طرح دریاؤں کی مچھلیاں خوش و خرم رہتی ہیں اسی طرح میری رعایا کو بھی رکھ۔ مرادوں سے لدے ہوئے قطب کش اور مزید ہمت و حوصلہ عطا کر‘‘
سلاطین ہند میں یاس و حرماں نصیب بہاد شاہ ظفر حزن و ملال اور یاسیت آمیز افسردگی کے ساتھ بارگاہ خداوندی میں یوں آہیں پیش کرتا ہے:
یا مجھے افسر شاہانہ بنا یا ہوتا

یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
خاکساری کے لیے گرچہ بنایا ہوتا

کاش خاک در جانانہ بنایا ہوتا
خواجہ میر دردؔ (م ۱۷۸۵ء) در رب العزت پر بے پناہ حسرت و یاس اور سرمستی کے ساتھ آہ سرد بھرتے ہیں:
مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں
کوئی اوربھی ہے ترے سوا؟ تو اگر نہیں تو جہاں نہیں
بات جب دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ یہ شعر بھی صمیم قلب سے نکلی آواز ہے جو مؤثر ایسا کہ بڑی بڑی مناجاتوں پر بھاری معلوم ہوتا ہے۔
میر انیسؔ اللہ تبارک و تعالی سے ’’اعجاز بیانی‘‘ کے طالب ہیں:
یا رب چمن نظم کو گلزار ارم کر

اے ابر کرم! خشک زراعت پہ کرم کر
تو فیض کا مبدا ہے توجہ کوئی دم کر

گمنام کو اعجاز بیانوں میں رقم کر
جب تک یہ چمک مہر کے پرتو سے نہ جائے
اقلیم سخن میرے قلم رو سے نہ جائے
مولانا الطاف حسین حالیؔ پانی پتی (م ۱۹۱۴ء) سر سیدؔ کے ہم نوا بن کر

بارگاہ خداوندگی میں اصلاح قوم کے لئے فریاد کناں ہیں:
انہیں کل کی فکر آج کرنا سکھا دے

ذرا ان کی آنکھوں سے پردہ ہٹا دے
کمیں گاہ بازیٔ دوراں دکھا دے

جو ہوتا ہے کل آج انکو بجھا دے
چھتیں پاٹ لیں تاکہ باراں سے پہلے
سفینہ رکھیں بند طوفاں سے پہلے
علامہ اقبال (م ۱۹۳۸ء) فرماتے ہیں دعا کے ذریعہ خدا سے مانگنے کے بعد آدمی کو اپنی جگہ خاموش نہیں رہنا چاہئے بلکہ اس کے کرم کے حصول کے لیے مستعد ہو کر کوشاں ہونا چاہئے یعنی دعا کے ساتھ وہ عمل کی تلقین کرتے ہیں۔ چنانچہ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’بچے کی دعا‘‘ لکھی۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مری

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا مری
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا

دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
میرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کو

نیک جو راہ ہو اس راہ پر چلانا مجھ کو
علامہ فرماتے ہیں:
راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جسوم
امید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو
بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دے
جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو
پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے
رونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہو
ہردردمند دل کو رونا مرا رلا دے
بے ہوش جو پڑے ہیں شایدانہیں جگا دے
بانگ درا کی یہ دعا علامہ کے دل میں قوم کے درد کا معصوم اظہار ہے اور آج حالات پر صادق آتی ہے:
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
احسا س عنایت کر آثار مصیبت کا

امروز کی شورش میں اندیشہ فردا دے
اپنی کم مائیگی کا احسا کرتے ہوئے علامہ فرماتے ہیں:
تو ہے محیط بیکراں میں ہوں ذرا سی آبجو
یا مجھے ہم کنار کر یا مجھے بے کنا ر کر
میں ہوں صدق تو تیرے ہاتھ میں گہر کی آبرو
میں ہوں خزف تو تو مجھے گوہر شاہوار کر
دوسری محامد ملاحظہ ہو:
دلوں کو مرکز مہر و فا کر

حریم کبریا سے آشنا کر
جسے نان جویں بخشی ہے تو نے

اسے بازوئے حیدر بھی عطا کر
صفیؔ اورنگ آبادی کو اللہ تبارک و تعالی کی ذات والا صفات پر یقین اور بھروسہ اس درجہ کا ہے کہ وہ ہمہ وقت اس پاک بے نیاز سے استعانت طلب کرتے رہتے ہیں، فرماتے ہیں:
اللہ کو پکار اگر کوئی کام ہے

غافل ہزار کام کا یہ ایک نام ہے
اور فرماتے ہیں:
تو چاہے جو ہر ایک کی بگڑی سنواردے
میری مراد بھی مرے پروردگار دے
کونین میں ذلیل نہ کر سب کے رو برو
ایمان و عیش و دولت و عز و قار دے
حفیظ جالندھری (م ۱۹۸۱ء) ان کے مناجاتی اشعار ملاحظہ ہوں:
کشتی خدا پہ چھوڑ کے بیٹھا ہوں مطمئن
دریا میں پھینک دوں نہ کہیں نا خدا کو میں
جب کوئی تازہ مصیبت ٹوٹتی ہے اے حفیظؔ
ایک عادت ہے خدا کو یاد کرلیتا ہوں میں
اے نوح کے کھویّا لگ جائے پار نیا
بندوں کا تو خدا ہے اور توہی نا خدا ہے
تیرا ہی آسرا ہے
حامد اللہ افسر میرٹھی فرماتے ہیں:
تابہ کے چشمک زنی اے برق حسن بے نیاز
یا تو اکدم پھونک دے یا نور سے بھردے مجھے
میں ترے در آؤں جس در سے نہیں اس کی طلب
تو مرے گھر آئے جس در سے وہی در دے مجھے
ہے اگر کچھ رحمتوں کے حرف بیجا کاخیال
اپنی اس دنیا کو تو جنت بنا کر دے مجھے

عمیق حنفی (مرحوم) کو سماج کے اس کرب کو بستر مرگ پر بھی ستایا ہے کہ جس کی وجہ سے وحشت و بربریت کو فضا پر وحشت چھائی رہتی ہے وہ بارگاہ ایزدی میں ملتجی ہیں:
عمیق حنفی کی نظم:
بھلا یہ بھی کیا بات ہے
ترے نام کے کتنے ہجے بتاتے ہیں لوگ
کہ تو لا مکاں لا زماں بے کراں ہے
مگر تجھ کو شبدوں کے اندر دھنساتے ہیں لوگ
ترے نام پر بھائیوں کے لہو میں نہاتے ہیں لوگ
مجھے نام، گن، چھب نہیں
صرف پہچان دے
مجھ کو وہ دھیان دے
جڑیں جس کی تیری حقیت کے اندر جمی ہوں
وہ ایمان دے
حامد اقبال صدیقی دعا کرتے ہیں:
تری زمین پہ چہرے بدلنا عام ہوا
تو میری روح پہ کوئی نشان دے اللہ
افتخار عارف (پاکستان) بارگاہ رب العزت میں فریاد کرتے ہیں:
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے