اردو نعتیہ شاعری میں موضوع روایات

محمد شہزاد مجددی۔لاہور

   اردو نعتیہ شاعری میں موضوع
روایات قسط دوم

 

محمد شہزاد مجددی۔لاہور

 

 

عصرِ حاضر فروغِ نعت کے
ساتھ ساتھ نعتیہ ادب میں تنقیدی رجحانات کے بھی کئی دَر وا کرتا چلا جا رہا ہے اور
یقینا وابستگانِ نعت کے لیے یہ سلسلۂ نقد و نظر باعثِ تقویت و طمانیت ہے۔
نعت اردو ادب کی ایک مقدس صنفِ
سخن ہے اور دوسری مذہبی شاعری کی طرح اس کا منبع و مصدر بھی قرآن و سُنّت ہی ہیں۔
نعتیہ شاعری کے بیش تر مضامین قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ سے مستفاد و ماخوذ
ہوتے ہیں۔ وہ معدودے چند نعت گو شعرا جنھیں علومِ شرعیہ پر کامل عبور تھا، انھوںنے
اپنے کمالِ علم و تقویٰ کی برکت سے نعت کی شمشیرِ آب دار پر مکمل حزم و احتیاط سے
قدم رکھا اور وادیِ عشق کو عافیت و سلامتی کے ساتھ پار کرنے میں کامیاب رہے۔
قرآن پاک کے بعد علومِ
شرعیہ کا سب سے بڑا اور بنیادی ماخذ حدیث شریف ہے اور دیگر اہلِ علم کی طرح علمی
ذوق کے حامل نعت گو شعرا نے بھی اس ماخذ سے استفادہ کیا ہے۔ چناںچہ اردو نعتیہ
شاعری میں اَن گنت اشعار ایسے ملتے ہیں جن کے مضامین یا تو مشتمل بر احادیث ہیں یا
کسی حدیث کے مضمون سے مستفاد ہیں۔ جب کہ کئی اشعار میں بلفظہ کسی حدیث کو منظوم
کیا گیا ہے۔ اس وقت مرزا رفیع سوداؔ کا ایک مشہور شعر یاد آرہا ہے
:
حدیث من رانی دال ہے اس
گفتگو اوپر
کہ دیکھا جس نے اُن کو اُن
نے دیکھی شکلِ یزدانی
البتہ یہاں پر یہ بات بھی
لائقِ اعادہ ہے کہ شاعر کا خیال متنِ حدیث سے متعارض ہے۔ یہ حدیث پاک جسے امام ابو
عیسیٰ الترمذی علیہ الرحمہ نے ’’شمائلِ ترمذی‘‘ میں روایت کیا ہے، کچھ یوں ہے
:
من رانی فی المنام فقدرأ
الحق
ترجمہ: جس نے مجھے خواب میں
دیکھا اُس نے حقیقت میں (مجھے ہی) دیکھا۔
حضرتِ رضا بریلوی علیہ
الرحمہ نے بھی اس حدیث سے استفادہ کرتے ہوئے بڑی احتیاط سے کہا ہے     کھُلے کیا راز محبوب و محب مستانِ غفلت پر
شرابِ قدرا الحق زیبِ جامِ
من رانیِ ہے
ایک مشہور حدیث کے متن کو
فاضلِ بریلوی نے یوں منظوم کیا ہے
من زار تربتیِ وجبت لہُ
شفاعتیِ
ان پر دُرود جن سے نوید اُن
بشر کی ہے
اکثر کتبِ سیر میں یہ روایت
بایں الفاظ ملتی ہے۔
مَن زَارَ قَبری وَصَیتُ
لَہُ شَفَاعَتیِ
امام تقی الدین سبکی علیہ
الرحمہ نے ’’شفاء السقام‘‘ میں اور امام ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الجوہر
المنظم‘‘ میں اسے نقل کیا ہے۔ ہمارے معاصر عرب فاضل شیخ حمود سعید الممدوح (دبئی)
نے اپنی کتاب ’’رفع المنارہ فی تکریخ احادیث التوسل و الزیارۃ‘‘ میں اس حدیث کی سند
پر معترضین کو محققانہ جوابات دیے ہیں۔ محدث بریلوی علیہ الرحمہ کا ایک مشہور شعر
ہے                      ؎
رب ہے معطی یہ ہیں قاسم
دیتا وہ ہے دلاتے یہ ہیں
یہ مضمون صحیح بخاری (کتاب
العلم) میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ سے مروی حدیث شریف سے لیا گیا ہے جس کے
الفاظ درجِ ذیل ہیں
:
اِنما اَناَ قاَسِمُ واﷲ
یُعطی
ترجمہ: اور اللہ عطا کرنے
والا ہے جب کہ میں تقسیم کرنے والا ہوں۔
اس حدیث پاک پر مبنی راقم
السطور کا ایک شعر بھی دیکھیے
:
سنتا ہے فریاد خدا ہی، دیتا
ہے شہزادؔ خدا ہی
کرتے ہیں تقسیم محمد صلی
اللہ علیہ وسلم
حضرت حفیظ تائب مرحوم کو
بھی مضامینِ قرآن و احادیث نعتیہ اشعار میں منظوم کرنے میں خاص ملکہ حاصل تھا،
چناںچہ وہ لکھتے ہیں               ؎
سجھا کہ نکتۂ خیر الامور
اوسطھا
مجھے توازنِ فکر و نظر دیا
تُو نے
اردو ادب کے نعتیہ ذخائر
میں جہاں صحیح احادیث پر مبنی مضامین بکثرت ملتے ہیں وہاں سیکڑوں نعتیہ اشعار ایسے
بھی ہیں جن کی بنیاد کسی شدید ضعیف یا ساقط الاعتبار موضوع (من گھڑت) روایت پر ہے۔
اوموضوع یعنی وضعی و جعلی روایت عند المحدثین صرف اور صرف اِس صورت میں بیان کرنا
جائز اور حلال ہے جب کہ اس کی وضعیت کو ظاہر کرنا مقصود ہو کیوں کہ کسی قول یا
فرمان کو بلا تحقیق رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا بہت بڑی جسارت
ہے۔ جب کہ عمداً کسی ایسی بات کو جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہ فرمائی ہو، آپ کی
ذاتِ گرامی سے منسوب کرنا اکبر الکبائر ہے۔
ارشادِ نبوی صلی اﷲ علیہ
وسلم ہے
:
من کذب علی متعمداً
فلیتبوأ مقعدہُ من النار
ترجمہ: جس نے قصداً مجھ پر
جھوٹ باندھا اُس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا۔(متفق علیہ
)
ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
من قال عنی مالم اقل۔۔۔ جس
نے میری طرف سے وہ بیان کیا جو مَیں نے نہیں کہا تو اُس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں
بنا لیا۔
آج کل تقریر و تحریر میں اس
بے احتیاطی کی بھرمار ہے۔ واعظین اور قصّہ گو قسم کے مقررین کا یہ عام وطیرہ ہے کہ
وہ بغیر علم کے احادیث بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ محافلِ میلاد میں اسٹیج سیکریٹری اور
نقیب قسم کے لوگ تو اس قسم کے خرافات پر چل رہے ہیں۔
حالاںکہ رسول اﷲ صلی اﷲ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
:
کفی بالحرء کذباً ان بحدث
بکل ما سمع۔۔۔
ترجمہ: کسی شخص کے جھوٹا
ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات آگے بیان کردے۔ ایک روایت
میں ’’کفیٰ بالحرئِ اثماً‘‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔
افراطِ تجاہل کی موجودہ فضا
میں ہم ائمہ محدثین کی رہنمائی میں ایسی روایات کی نشان دہی کا فریضہ سرانجام دینا
وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہیں، جو نبی کریمﷺ کے ارشادات نہیں ہیں اور انھیں احادیث
کہہ کر سُنا سُنایا اور لکھا پڑھا جاتا ہے۔ ان موضوع روایت میں سے ایک مشہور قول
ہے۔
’’الفقر
فخری و بہٖ افتخر‘‘ (ترجمہ) فقر میرا فخر ہے اور مَیں اس کے ساتھ متفخر ہوں۔ اس
قول کی شہرت اور مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اچھے اچھے اہلِ علم اپنی تصنیفات و
مقالات میں اسے نقل کرکے اس سے استشہاد کرتے ہیں۔ اور نعت گو شعرا اپنے کلام میں
اس مضمون کو منظوم کرتے ہیں۔
علامہ اقبالؔ کا معروف مصرع
ہے                ؎
’’سماں
الفقر فخری‘‘ کا رہا شانِ امارت میں
ایک اور معاصر نعت گو شاعر
لکھتے ہیں                 ؎ہیں اُمّت اس
کی ہم ’’الفقر فخری‘‘ جس نے فرمایا
اُترتے کیوں نہیں پھر حشمت
و نخوت کے مرکب سے
سلسلۂ سہروردیہ کے ایک
فاضل صوفی بزرگ نے تصوف اور اہلِ تصوف کے دفاع میں ایک کتاب تالیف فرمائی جس کا
عنوان ہی ’’الفقر فخری‘‘ ہے۔ یہ کتاب متعدد بار شائع ہو چکی ہے اس کے اندرونی
ٹائٹل پیج پر ایک شعر یوں درج ہے
؎
کروں مال و زر کی مَیں کیوں
ہوس مجھے اپنے فقر پہ فخر بس
یہی حرزِ جانِ فقیر ہے، یہی
’’قولِ شاہِ حجاز‘‘ ہے
الغرض اس موضوع اور باطل
روایت کو ایسے ایسے بزرگوں نے ’’قولِ شاہِ حجاز‘‘ ہی سمجھا اور تحریر و تقریر میں
اسے بالالتزام جگہ دی۔ آئیے ائمہ محدثین اور ماہرینِ اصولِ حدیث کے اقوال و آرا کی
روشنی میں اس قول کا تنقیدی جائزہ لیں۔
حضرت امام حجر عسقلانی رحمۃ
اللہ علیہ کہتے ہیں
:
الفقر فخری وبہ افتخر و ہذا
الحدیث سئل عندالحافظ ابن تیمیہ، فقال انہ کذب لایعرف فی شیٔ کتب المسلمین المرویۃ
و جزم الاصفہانی بانہُ موضوع۔
    (تلخیص الحبیر ۳؍۱۰۹)
ترجمہ: اس حدیث ’’الفقر
فخری‘‘ کے بارے میں ابن تیمیہ سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا یہ جھوٹ ہے، مسلمانوں
کے ذخیرۂ مرویات میں اس قسم کی کوئی چیز نہیں پائی گئی اور امام اصفہانی نے بھی
اس کے موضوع (جعلی) ہونے کی تائید کی ہے۔
امام عسقلانی نے حضور علیہ
الصلوٰۃ و السلام سے مروی ایک اور معروف روایت یہاں نقل کرکے وضاحت کی ہے کہ حضور
علیہ السلام کی طرف منسوب ’’فقر و مسکنت‘‘ کی حقیقت کیا ہے؟
حضرت انس بن مالک رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے۔
’’رسول اﷲ
صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
:
اللّٰھم احینی مسکیناً و
امتنی مسکیناً و احشرنی فی زمرۃ المساکین
ترجمہ: اے اﷲ مجھے مسکین ہی
زندہ رکھ، مسکنت میں موت دے اور مساکین کے ساتھ میرا حشر فرما۔
اس روایت کو امام ترمذی نے
غریب کہا اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ ابن ماجہ، حاکم اور بیہقی نے اسے الگ الگ طریق
سے روایت کیا۔وقال البیہقی ووجھہ عندی انہُ لم یسئل حال المسکنۃ التی یرجع معنا
الی القلۃ وانما سال المسکنۃ التی یرجع معنا الی الاخبات والتواضع۔   (تلخیص الحبیر:
۳؍۱۰۹۔سنن
الکبریٰ بیہقی
۱۰؍۹۸)
ترجمہ: امام بیہقی کہتے ہیں
میرے نزدیک اس کی صورت یہ ہے کہ رسولﷺ نے یہاں اس مسکنت کا سوال نہیں کیا جس کا
معنی قلت لیا جاتا ہے، بلکہ آپ نے اس مسکنت کا سوال کیا ہے جس کا معنی انکسار اور
عاجزی لیا جاتا ہے۔
ایک اور قابلِ غور امر یہ
ہے کہ صحیح احادیث میں حضورﷺ کا فقر سے استعاذ اور پناہ مانگنا ثابت ہے اور آپ نے
صحابہ کرام ثکو
  بھی اس کی تعلیم
فرمائی ہے۔
چناںچہ صحیحین میں فقر سے
استعاذ کے الفاظ یوں مروی ہیں
:
اللّٰھم اعوذبک من فتنۃ
الفقر
ترجمہ: اے اﷲ میں فقر کے
فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
(بخاری
الدعواۃ، رقم
۵۸۹۱ مسلم فی الذکر و الدعا رقم ۴۸۷۷)
سنن ابی دائود میں
عبدالرحمن بن ابی بکر کی روایت میں دعائیہ کلمات یوں ہیں
:
اللّھم انی اعوذبک من الکفر
و الفقر (ابودائود…
۴؍۳۲۴
رقم
۵۰۹۰)
ترجمہ: اے اﷲ میں کفر و فقر
سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
یہاں کفر کے ساتھ فقر کا
تذکرہ لائقِ عبرت بھی ہے اور محل تنبیہ بھی۔
صحیح ابن حبان میں حضرت ابو
سعید خدری ص کی روایت ہے
:
فقال رجل ویعتدلان؟ قال
نعم۔ (الاحسان
۳؍رقم
۱۰۲۶)
ترجمہ: ایک شخص نے پوچھا
کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ آپ نے فرمایا، ہاں۔
مسند احمد اور صحیح ابن
حبان میں حضرت ابوہریرہ ص سے مروی ہے۔
تعوذ و باﷲ من الفقر۔ (احمد
رقم؍
۰۸۷۳ ابنِ حبان، ۱؍۲۳۹: رقم
۹۷۹)
ترجمہ: فقر سے اﷲ کی پناہ
مانگو۔
سننِ نسائی میں ہے:
نعوذ و من الفقر و الفاقۃ۔
ترجمہ: فقر و فاقہ سے اﷲ کی
پناہ مانگو۔ (نسائی:
۵۷۷۵)
الغرض احادیثِ صحیحہ میں
فقر سے پناہ و نجات اور برأت کے مضامین کثرت سے ملتے ہیں۔ یہاںایک اور بات کو
ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے لیے موجود، مذکور اور
منصوص فضائل کا اظہار بھی فخر سے نہیں فرمایا، ہر جگہ ’’ولافخرً ولا فخر‘‘ کی
تکرار سے اپنے رب کی بارگاہ میں اظہارِ عبودیت اور تواضع فرمایا ہے۔
امام شمس الدین السخاوی
رحمۃ اللہ علیہ  رقم طراز ہیں
:
’’الفقر
فخری وبہ افتخر۔۔۔ باطل الموضوع‘‘ (مختصر المقاصد الحسنہ: رقم
۲۹۲)
ترجمہ: الفقر فخری۔۔۔ الخ
باطل اور گھڑی ہوئی روایت ہے۔
ملّا علی قاری علیہ الرحمۃ
لکھتے ہیں
:
الفقر فخری وبہ افتخر۔۔۔
قال العسقلانی ھو باطل الموضوع۔ وقال ابن تیمیہ ھو کذب۔
ترجمہ: فقر میرا فخر
ہے۔۔۔الخ عسقلانی نے اسے باطل اور موضوع کہاہے اور ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ یہ کذب
ہے۔ (موضوعاتِ کبیر،حرف فاء: ص:
۵۰)
شیخ محمد بن طاہر پٹنی رحمہ
اللہ لکھتے ہیں
:
الفقر فخری وبہ افتخر۔۔۔
قال شیخنا ھو باطل موضوع۔ (تذکرۃ الموضوعات: ص:
۱۷۸)
ترجمہ: الفقر فخری۔۔۔ ہمارے
شیخ نے اسے باطل و موضوع کہا ہے۔
مزید لکھتے ہیں اسے الصفانی
نے بھی موضوع کہا ہے
:
شیخ العجلونی اس قول کو نقل
کرنے کے بعد کہتے ہیں
:
قال الحافظ ابن الحجر باطل
موضوع وقال فی التمییذ کا المقاصد و من الواھی فی الفقر ما للطبرانی عن شداد ابن
اوس رفعہ ’’الفقر أزین بالمؤمن من العزارِ الحسن علیٰ خدا الفرش‘‘ وقال ابن
تیمیہ کذب و سندہُ ضعیف و المعروف انہُ من کلام عبدالرحمن ابن زیاد ابن انعمہ کما
رواہُ ابن عدی فی کاملہ۔
(کشف
الخفاء، رقم:
۱۸۳۵)
ترجمہ: حافظ ابن حجر نے اسے
باطل و موضوع کہا ہے۔ تمییذ میں مقاصدالحسنہ ہی کی طرح (صاحب تمییذ) نے کہا کہ فقر
کے بارے میں روایتِ واہیہ میں سے ایک روایت ہے جسے طبرانی نے شداد بن اوس سے
مرفوعاً روایت کیا ہے کہ فقر مومن کے لیے گھوڑے کے رخسار پر خوبصورت نشان سے بھی
زیادہ موزوں ہے۔ا بنِ تیمیہ نے اسے کذب کہا ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ جب کہ مشہور
یہ ہے کہ یہ عبدالرحمن بن زیاد بن انعم کا قول ہے۔ جیسا کہ ابنِ عدی نے اسے اپنی
کامل میں روایت کیاہے۔
شارح بخاری امام احمد
القسطلانی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں
:
واما مایروی انہ صلی اﷲ علی
وسلم قال ’’الفقر فخری وبہٖ أفتخر‘‘ فقال شیخ الاسلام و الحافظ ابنِ حجر ھو باطل
و موضوع۔ (المواہب اللّدنیہ
۲؍۱۶۲)
ترجمہ: اور یہ جو روایت کیا
جاتا ہے کہ آپ نے فرمایا، الفقر فخری۔۔۔ الخ۔۔۔ کو شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ اور
حافظ ابنِ حجر نے اسے باطل و موضوع کہا ہے۔
تائید مزید کے لیے اعلیٰ
حضرت محدث بریلوی قدس سرہ کی تحقیق بھی ملاحظہ فرمایئے
حضورِ اقدس، قاسم نعم، مالک
الارض، ورقابِ امم، معطیِ منعم، قثمِ قیم، ولی والی، علی عالی، کاشف الکرب، رافع
الرتب، معینِ کافی، حفیظ وافی، شفیعِ شافی، عفو عافی، غفورِ جمیل، عزیز جمیل، وہاب
کریم، غنیِ عظیم، خلیفۂ مطلقِ حضرتِ رب، مالک الناّس ودّیانِ عرب، ولی الفضل، جلی
الافضال، رفیع المثل ممتنع الامثال صلی اﷲ علیہ وسلم کی شانِ ارفع و اعلیٰ میں
الفاظِ مذکورہ (یتیم، غریب، مسکین،بے چارہ) کا اطلاق ناجائز و حرام ہے۔
خزانۃ الاکمل مقدسی و
ردالمحتار اواخرشتی میں ہے
:
ویجب ذکرہ صلی اﷲ علیہ وسلم
باسماء المعظمۃ فلا یجوز ان بقال انہُ فقیر، غریب، مسکین۔ترجمہ: حضورﷺ کا ذکر عزت
و تکریم والے ناموں سے کرنا واجب ہے اور اس طرح کہنا جائز نہیں کہ آپ فقیر، غریب
اور مسکین تھے۔
نسیم الریاض جلد رابع صفحہ ۴۵۰میں
ہے
:
الانبیاء علیھم الصّلوٰۃ
والسلام لایو صفون بالفقر و لایجوز ان یقال نبینا صلّی اﷲ علیہ وسلم فقیر‘‘ وقولہُ
عند ’’الفقر فخری‘‘ لا اَصل لہُ کما تقدم۔
ترجمہ: انبیاے کرام علیہم
السلام کو فقر سے موصوف نہ کیا جائے اور یہ جائز نہیں کہ ہمارے آقا نبی کریمﷺ کو
فقیر کہا جائے۔ رہا لوگوں کا ’’الفقر فخری‘‘ کو آپ سے مروی کہنا تو اس کی کوئی اصل
نہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے۔ اسی کے
۳۷۸ میں ہے:
قال الذرکشی کا لسبکی
لایجوزان یقال لہُ صّلی اﷲ علیہ وسلم فقیر اور مسکین وھو أغنی النّاس باﷲ تعالیٰ
لاسیحا بعد قولہ تعالیٰ ’’ووجدکَ عائلاً فاغنیٰ‘‘۔ وقولہُ صلّی اﷲ تعالیٰ علیہ
وسلم ’’اَللّھِمَّ اَحینی مسکیناً‘‘ارادبہٖ المسکنۃ القلبیۃ بالخشوع والفقر فخری‘‘
باطل لااصل لہ… کما قال الحافظ ابنِ حجر عسقلانی۔
ترجمہ: امام بدرالدین زرکشی
نے امام سبکی کی طرح کہا ہے کہ یہ جائز نہیں کہ آپ کو فقیر یا مسکین کہا جائے اور
آپ اللہ کے فضل سے لوگوں میں سب سے بڑھ کر غنی ہیں۔ خصوصاً اﷲ تعالیٰ کے ارشاد
’’ہم نے آپ کو حاجت مند پایا سو غنی کر دیا‘‘ کے نزول کے بعد۔ رہا آپ کا یہ فرمان
کہ اے اﷲ مجھے مسکین زندہ رکھ۔۔۔ الخ تو اس سے مراد باطنی مسکنت کا خشوع کے ساتھ
طلب کرنا ہے اور الفقر فخری باطل ہے۔ اس کی کوئی اصل نہیں جیسا کہ حافظ ابنِ حجر
عسقلانی نے فرمایا ہے۔
(الفتاویٰ
الرضویہ: جلد ششم، ص:
۱۲۶ مطبوعہ کراچی)
امام احمد رضا بریلوی رحمہ
اﷲ نے ’’کتاب الشفا‘‘ قاضی عیاض کے حوالے سے یہ صراحت کی ہے کہ سرورِ عالمﷺ کی
ذاتِ والاصفات کے لیے نازیبا اور غیر موزوں اسما و صفات کا استعمال حکایتاً بھی
ناجائز و ممنوع ہے۔ اسی طرح بارگاہِ رسالت میں گستاخی و بے ادبی اگرچہ سہواً یا
جہالت و لاعلمی کے باعث ہی ہو لائقِ گرفت اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔
آخر میں کچھ معروف اور بزرگ
نعت گو شعرا کے اسماے گرامی کی فہرست اور اشعار ملاحظہ فرمائیے جنھوں نے ’’الفقر
فخری‘‘ کو بطورِ حدیث نظم کیا ہے۔
۱۔ حفیظ جالندھری
اگرچہ ’’فقر فخری‘‘ رتبہ ہے
تیری قناعت کا
مگر قدموں تلے ہے فرِ
کسرائی وفا قانی
۲۔ مرتضیٰ احمد خان میکشؔ
کروں مال و زر کی میں کیوں
ہوس مجھے اپنے فقر پہ فخر بس
یہی حرزِ جانِ فقیر ہے یہی
’’قولِ شاہِ حجاز‘‘ ہے
۳۔ بہادر شاہ ظفرؔ
جس کو حضرت نے کہا ’’الفقر
فخری‘‘ اے ظفرؔ
فخرِ دیں، فخرِ جہاں پر وہ
فقیری ختم ہے
۴۔ ماہرؔ القادری
سلام اس پر کہ تھا ’’الفقر
فخری‘‘ جس کا سرمایہ
سلام اس پر کہ جس کے جسمِ
اطہر کا نہ تھا سایہ
۵۔ حافظ مظہر الدین
سبق ہے یاد مجھ کو آج بھی
’’الفقر فخری‘‘ کا
بحمدﷲ ہے میری خوئے
درویشانہ برسوں سے
۶۔ محمد یار فریدی
فخر می دارد بفقرش مصطفی
فقر را برہان مولانا فرید
۷۔ ضامنؔ حسنی
’’فقر
فخری‘‘ سے ہم آہنگ تھی شاہی جس کی
ایسا مولا کوئی دیکھا ہے
بتا چرخِ کبود
۸۔ سید فیضی
’’الفقر
فخری‘‘ جن کے لیے وجہِ ناز ہو
کیا اُن کے پاس رہتا ہے جود
و سخا کے بعد
۹۔ بے چینؔ رجپوری
ازروئے ’’الفقر فخری‘‘ تھا
سدا زہد و قنوع
پانی پینے کو رکھا جامِ
سفالی آپ نے
۱۰۔ انیسہ ہارون؎
ارشادِ ’’فقر فخری‘‘ سے
سرمایہ ٹھکرانے والے
ایضاً
مژدۂ ’’فقر فخری‘‘ سُنایا
حوصلہ مفلسوں کا بڑھایا
۱۱۔ حسن اختر جلیل
ہے اُس کا تاجِ سر ’’الفقر
فخری
‘‘
قناعت اس کے پیروں کی حنا
ہے
۱۲۔ حافظ لدھیانوی
ہے فخر تجھے فقر پہ اے شاہِ
دو عالم
اے ختمِ رُسل، ہادیِ دیں،
خلقِ مجسم
۱۳۔ ایس اے رحمن
تجھے فخر تھا فقر پر سروری
میں
مجھے بھی عطا ہو وہ دل کی
امیری
۱۴۔ حفیظ الرحمن احسن
عجز کی شان ’’الفقر فخری‘‘
صفت رشکِ فغفور جاہ و حشم آپ کا
عظمتیں سرنگوں آپ کے سامنے
نصب ہے رفعتوں پر علم آپ کا
۱۵۔ اسرار احمد مہاروی
اگرچہ فقر پہ اندازِ فخر
حاوی ہے
تمھارا نقشِ قدم سجدہ گاہِ
شاہاں ہے
(یہ شعر
ماہ نامہ ’’نعت‘‘ ص
۵۶، فروری ۱۹۹۴ء میں شائع ہوا)
ہمارے خیال میں اس شعر کا
مصرع اولیٰ یوں ہونا چاہیے
:
اگرچہ فخر پہ اندازِ فقر
حاوی ہے
۱۶۔ سید امین گیلانی
تجھ سے سُنا جب تیرے غلاموں
نے ’’الفقر فخری
‘‘
تخت انھوں نے روندے ہیرے
رولے تاج اچھالے
۱۷۔ رفیع الدین ذکی قریشی
ہیں اُمت اس کی ہم ’’الفقر
فخری‘‘ جس نے فرمایا
اُترتے کیوں نہیں پھر حشمت
و نخوت کے مرکب سے
۱۸۔ ڈاکٹر سلطان الطاف علی
فقر ہے فخرِ محمد فقر ہے
نورِ خدا
فقر کی تسخیر میں لوح و قلم
ارض و سما
۱۹۔ جعفر بلوچ
مَیں ہوں فقر پرور پیمبر کی
اُمت میں جعفرؔ
مری جاں، مرا دین و ایماں
ہے ’’الفقر فخری
‘‘
(شاعر نے
اس نعت میں ’’الفقر فخری‘‘ کو بطورِ ردیف استعمال کیا ہے
)
۲۰۔ بشیر حسین ناظم
وہ ایسے قائلِ ’’العجز
فقری‘‘ ہیں کہ عالم کی
غنا و سرفرازی ان کے کفشِ
پا پہ قرباں ہے
(’’العجز
فخری‘‘ کے الفاظ کتاب الشفا میں قاضی عیاض مالکی رحمۃ اﷲ علیہ نے ایک طویل روایت
بیان کرتے ہوئے نقل کیے ہیں
)
۲۱۔ راجا رشید محمود
ملا ہے درسِ محمد سے ’’فقر
فخری‘‘ کا
کمالِ فقر میں مضمر ہے
قیصری اپنی