ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

خواجہ میر دردؔ

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
میرا ہی دل وہ کہ جہاں تو سما سکے

وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آسکے
آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے

میں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھے
نقشِ قدم کی طرح نہ کوئی اٹھا سکے

قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے
اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
غافل خدا کی یاد پہ مت بھول زینہار
اپنے تئیں بھلا دے اگر تو بھلا سکے

یا رب! یہ کیا طلسم ہے ادراک و فہم یاں
دوڑے ہزار، آپ سے با ہر نہ جا سکے

گو بحث کرکے بات بٹھائی پہ کیا حصول
دل سے اٹھا غلاف اگر تو اٹھا سکے

اطفائے نارِ عشق نہ ہو آبِ اشک سے
یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے

مستِ شرابِ عشق وہ بیخود ہے جس کو حشر
اے ’’درد‘‘! چاہے لائے بخود پر نہ لا سکے