ازل سے ہے تا ابد الٰہی تیرا جمال تیرا کمال تیرا ہمیشگی تیری ذات کو ہے وجود ہے لازوال تیرا

حفیظؔ محمود

ازل سے ہے تا ابد الٰہی تیرا جمال تیرا کمال تیرا
ہمیشگی تیری ذات کو ہے وجود ہے لازوال تیرا
ہزارہا ظلم کرکے پوچھا جو مشرکوں نے سوال تیرا
احد ہے وہ کائنات کا رب پکار اٹھا بلال تیرا
تمام عالم تجھی سے روشن عیاں ہراک چیزسے ترافن
جمال بھی بے نظیر تیرا کمال بھی بے مثال تیرا
سحر کی کیفیتیں نرالی تو شام کی رونقیں مثالی
جودن میں خورشید جلوہ گر تھاتو شب کو چمکا ہلال تیرا
یہاں پہ پھول اور خوشبوئیں ہیں وہاں ستاروں کی محفلیں ہیں
زمیں کی دنیا بحال تیری فلک کا عالم نہال تیرا
زمین کا سبزہ زار ہونا پھلوں کا پھلنا گلوں کا کھلنا
خرد سے آگے کی ہیں یہ باتیں کہ کس قدر ہے کمال تیرا
بیاں سے بڑھ کر ہے تیری عظمت چہار سو رونما ہے قدرت
وہ شرق تیرا وہ غرب تیرا جنوب تیرا شمال تیرا
سمندروں کی حدود پر ہے تو پربتوں کے جمود پر ہے
ہر ایک شے کے وجود پر ہے الٰہی جاہ و جلال تیرا
غنی سے محتاج کی دعا ہے حفیظؔ غمگیں کی التجا ہے
طفیل محبوبؐ سرخرو ہو یہ بندۂ پائمال تیرا