ازل ہے تیرا، ابد ترا ہے، کہ تو خدا ہے نہ ابتدا ہے، نہ انتہا ہے، کہ تو خدا ہے

محمدشعیب ؔمرزا

ازل ہے تیرا، ابد ترا ہے، کہ تو خدا ہے
نہ ابتدا ہے، نہ انتہا ہے، کہ تو خدا ہے
صفات ہیں بے شمار تیری، ہے تیری عظمت ازار تیری
یہ کبریائی تری ردا ہے کہ تو خدا ہے
سمیع بھی ہے، بصیر بھی ہے، علیم بھی ہے، خبیر بھی ہے
ارادے بھی سب کے جانتا ہے،کہ تو خدا ہے
کریم تو ہے، حلیم تو ہے، رئوف تو ہے، رحیم تو ہے
جسے بھی چاہے نوازتا ہے، کہ تو خدا ہے
تری قدیری نے میرے مولیٰ یہ آسماں بے ستوں بنایا
جو خود ہی سب کو جتا رہا ہے، کہ تو خدا ہے
حساب عزّ و وقار کیا ہو، تری عطا کا شمار کیا ہو
تمام ہستی تری عطا ہے، کہ تو خدا ہے
شعیب عاصی کی بے بسی کو شفیع محشر کی خسروی کو
تری ہی رحمت کا آسرا ہے کہ تو خدا ہے