اس سے پہلے کہ یہ دنیا مجھے رسوا کردے تو مرے جسم مری روح کو اچھا کردے

سلیم کوثر

اس سے پہلے کہ یہ دنیا مجھے رسوا کردے
تو مرے جسم مری روح کو اچھا کردے
کس قدر ٹوٹ رہی ہے مری وحدت مجھ میں
اے مرے وحدتوں والے مجھے یکجا کردے
یہ جو حالت ہے مری میں نے بنائی ہے مگر
جیسا تو چاہتا ہے اب مجھے ویسا کردے
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا شامل ہو
جو ترا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
مجھ کو ہر سمت اندھیرا ہی نظر آتا ہے
کور بینی کو مری دیدۂ بینا کردے
مجھ کو وہ علم سکھا جس سے اجالے پھیلیں
مجھ کو وہ اسم پڑھا جو مجھے زندہ کردے
میرے لوگوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال
میرے بچوں کو مہہ و مہرو ستارہ کردے
ضائع ہونے سے بچالے مرے معبود مجھے
یہ نہ ہو وقت مجھے کھیل تماشہ کردے
میری آواز تری حمد سے لبریز رہے
بزم کونین میں جاری مرا نغمہ کردے