اقلیمِ دوجہاں کے شہنشاہ فضل کر اللہ فضل کر، مرے اللہ فضل کر

ڈاکٹرعاصی کرنالی

اقلیمِ دوجہاں کے شہنشاہ فضل کر
اللہ فضل کر، مرے اللہ فضل کر

پلکوں پہ جب ہو قافلۂ اشک، روک دے
ہونٹوں پہ جب ہو سلسلۂ آہ فضل کر

پڑتے ہوں جب مصائب پیہم، نگاہ رکھ
ڈستے ہوں جب حوادثِ جانکاہ فضل کر

بہکیں قدم تو جانب منزل سے دے صدا
جب آدمی کا نفس ہو گمراہ، فضل کر

فارغ غبارِ غم سے ہو آئینہ حیات
دل پر نہ ہو الم کا پر کاہ فضل کر

جب دل میں حرصِ زر ہو قناعت کا عزم دے
جب نفس میں رچے طلب جاہ، فضل کر

عاصیؔ ہوں معصیت کے سمندر میں غرق کر
پھر بھی ہوں ایک بندۂ درگاہ فضل کر