اللہ تعالی کے ننانوے نام

اللہ تعالی کے ننانوے نام
صحیح حدیث شریف میں آیا ہے کہ فرمایا رسول ﷺ نے کہ ان اسمائے متبرک و معظم کا وظیفہ باعث حفظ ایمان و دخول جنت ہے، بچوں کو حفظ کرائیے:
اسماء للہ تعالی الحسنی التی امرنا بالدعاء بہا تسعۃ و تسعون اسما من احصہا دخل الجنۃ رواہ البخاری والمسلم وغیرہما
ترجمہ: نام باری تعالی کے اچھے جن کے ساتھ حکم ہوا ہم کو دعا مانگنے کا، یہ ننانوے نام ہیں، جوشخص ان کویاد کرے گا داخل ہوگا بہشت میں۔ روایت کیا اس کو بخاری ، مسلم اور دوسرے محدثین نے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہواللہ الذی لا الہ الا ہو الرحمن الرحیم الملک القدوس السلام المؤمن المہیمن العزیز الجبار المتکبر الخالق الباریٔ المصور الغفار القہار الوہاب الرزاق الفتاح العلیم القابض الباسط الخافض الرافع المعز المذل السمیع البصیر الحکم العدل اللطیف الخبیر الحلیم العظیم الغفور الشکور العلی الکبیر الحفیظ المقیت الحسیب الجلیل الکریم الرقیب المجیب الواسع الحکیم الودود المجید الباعث الشہید الحق الوکیل القوی المتین الولی الحمید المحصی المبدیٔ المعید المحیی الممیت الحی القیوم الواجد الماجد الواحد الاحد الصمد القادر المقتدر المقدم المؤخر الاول الآخر الطاہر الباطن الوالی المتعالی البر التواب المنتقم العفو الرؤوف مالک الملک ذو الجلال والاکرام المقسط الجامع الغنی المغنی المعطی المانع الضار النافع النور الہاد البدیع الباقی الوارث الرشید الصبور۔
الحمد للہ رب العالمین۔ یہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تبارک و تعالی تمام عالم کا رب ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ قادر مطلق ہے۔ خالق ہے اور اسی نے تمام عالم کو خلق کیا ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اللہ تبارک و تعالی کی ذات والا صفات بے کراں ہے چنانچہ اس کی صفات بھی بے شمار ہیں۔ ہم اس کو اس کی ننانوے صفات کے ذریعہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن تعارف و عرفان خداوندی آسان نہیں۔ در اصل ہم اس کو اپنی محدود عقل و خرد کے مطابق ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ خدائے واحد ہی ہے جسے ہم دنیا میں مختلف مناظر سے دیکھتے ہیں۔ اور جو ظاہر ہوکر بھی سراپا راز ہے، یہ بھی اللہ تعالی کی نہایت اہم صفت ہے۔
اگر ہم مختلف مذاہب کامطالعہ کریں تو تقریباً ہر مذہب میں خدائے واحد کا تصور موجود ہے۔ اہل ہند میں معبود پرستی کے رجحان کا علم ان کے قدیم ترین صحیفے رگ وید میں موجود ہے۔ پر جاپتی کی حمد رگ وید میں ان الفاظ سے کی گئی ہے۔
(۱) ’’ پر جاپتی نے کاریگر کی طرح اس عالم کو گھڑا، دیوتاؤں کے ابتدائی زمانے میں ’’لاشے‘‘ سے ’’شے‘ وجود میں آئی‘‘ (منڈل دہم سوکت ۷۲)
(۲) ’’ایک شفق جو سب کو منور کرتی ہے وہ جو ایک ہے‘‘ یہ سب کچھ ہو گیا ہے‘‘

(منڈل ۸ سوکت ۵۸)
یجروید میں خدا کی حمد:
’’خدا ایک ہے، وہ غیر متحرک ہے، قائم دماغ سے زیادہ سریع السیر ہے، حواس اس تک نہیں پہنچ سکتے اگرچہ وہ ان میں ہے۔‘‘
اتھر ویدمیں جس خدا کی تحمید و توصیف بیان کی گئی ہے وہ ’’ورن‘‘ ہے
اس کے متعلق تحریر ہے:
’’ورن آقا ئے اعلی دیکھتا ہے، گویا وہ نزدیک ہو، جب کوئی شخص کھڑا ہوتا ہے چلتا ہے یا چھپتا ہے۔ اگر وہ لیٹنے جاتا ہے، یا اٹھتا ہے، جب دو آدمی پاس بیٹھ کر کانا پھوسی کرتے ہیں تو بھی شاہ ورن کو اس کا علم ہوتا ہے۔ وہ وہاں مثل ثالث کے موجود ہوتا ہے۔ اگر کوئی آسمان سے پرے بھاگ کر جانا چاہے تو بھی وہ شاہ ورن سے نہیں بچ سکتا۔‘‘
شنکر اچاریہ (م ۸۲۰ء) جس نے ’ادویت واد‘‘ یعنی وحدت الوجود کا فلسفہ ہندو قوم کو دیا۔ کہتا ہے کہ خدا میرے تین گناہ معاف کر:
۱۔ میں نے تصور میں تیری تصویر بنائی، حالانکہ تیری کوئی صورت نہیں۔
۲۔ میں نے تصور میں تیرا بیان کیا، حالانکہ تیری تعریف ہو ہی نہیں سکتی
۳۔ اور مندر میں جاتے وقت یہ بھول گیا کہ تو ہر جگہ موجود ہے۔
قوم نصاری کے پیغمبر حضرت عیسی علیہ السلام نے خدائے واحد کی دعوت دی۔ چنانچہ یوحنا کی انجیل کے تیسرے باب کی ۱۷ ویں آیت میںآتا ہے کہ خدا واحد اور بر حق ہے۔‘‘
لوقا نے بھی اپنی انجیل میں کہا ہے ‘‘کوئی نیک مگر ایک یعنی خدا‘‘
یونانی فلسفیوں نے نتیجہ نکالا کہ ’’خدا ایک ہے جو دیوتاؤں اور انسانوں میں سب سے بڑا ہے۔ اس کا جسم اور دماغ مثل انسان کے نہیں ہے اور وہ سراپا سمیع اور سراپا عقیل ہے۔‘‘
سقراط کہتاہے کہ ’’خدا غیر مطلق ہے۔‘‘ اس کا کہنا تھا کہ ’’انسان سے اعلی تر فوق الفطرت ہستیوں کا وجود ہے لیکن اصل الوہیت ایک خدائے واحد کو حاصل ہے جو غیر مطلق اور علم مطلق ہے اور رب العالمین ہے۔‘‘
رومیوں نے بھی خدائے واحد کا اعتراف کیا ہے’’ ہر انسا ن میں روح ربانی حلول کئے ہوئے ہیں۔ ایک رب کا وجود ہے جس کا علم تمام کائنات کو محیط ہے۔ اور جو نہ صرف ہمارے اعمال سے بلکہ اندرونی جذبات و تصورات سے خبردار رہتا ہے۔‘‘
لا الہ الا اللہ: نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے
اسلام میں اس ذات واحد کی الوہیت اقرار اور غیر اللہ کے انکار سے ہوتا ہے۔
سورۂ اخلاص میں اللہ کی وحدانیت کا ذکر خاص طور ہے۔ اللہ کو ایک یعنی واحد کہنے کی تلقین کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ بے نیاز ہے۔اس نے کسی کو نہیں جنا نہ اسے کسی نے جنا ہے اور اس کا کوئی ہم سر بھی نہیں ہے۔
سورہ فاتحہ جس کو قرآن مقدس کی کنجی کہا گیا ہے۔ ایک مکمل سورہ ہے جس کی ترتیب ایاک نعبد و ایاک نستعین کے طرز پر ہے۔ یعنی پہلے کہا گیا ہے کہ تمام عبادتیں اللہ کے لئے ہیں جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے۔ اور جو یوم حساب کا مالک ہے، اور ہم اس کی ہی عبادت کرتے ہیں۔ اور اس کے بعد کہا گیا ہے کہ ہم تیری ہی استعانت چاہتے ہیں۔ اور دعا مانگی گئی ہے کہ ’’اے اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلانا ان کے راستے پر جن کو تو نے نعمتوں سے نوازا ہے۔ اور ان کے راستے پر نہیں جن پر تیرا غضب ہوا ہے۔‘‘
قرآن میں حمد :
سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص کے علاوہ آیۃ الکرسی اور سورہ حشر، خاص طور پر اللہ تبارک و تعالی کی توصیف و تعریف بیان کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں قرآن مقدس کی دیگر متعدد آیات میں حمد باری تعالی کا ذکر موجود ہے۔ ان آیات میں سورہ الحج، سورہ النمل، سورہ القصص، سورہ ہود اور سورہ الطور خاص طور قابل ذکر ہیں۔
سورہ الطور میں اللہ کی حمد بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ’’یعنی جب تم اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ فجر کی اذان پر بھی یہی کہا جاتا ہے کا جاگو! نماز نیند سے بہتر ہے۔ بہرحال اللہ تبارک و تعالی کی عبادت اور اس کی تعریف و توصیف و ثنا اور حمد عین عبادت ہے ہر چند اس کی حمد کہنا ممکن ہی نہیں۔ اگر تمام شجر قلم بن جائیں اور تمام سمندر روشنائی تب بھی اس کی حمد و ثنا لکھ پانا انسان کے بس کی بات نہیں، تاہم حسب توفیق و ظرف ایک ذرہ حقیر اس پاک و بیکراں ذات خداوندی کی حمد
و ثنا کرنے کی سعی کرتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ سے جاری ہے اور جب تک یہ دنیا قائم ہے خالق کائنات کی توصیف و ثنا ہوتی رہے گی۔
نہایت ضروری ہے کہ ہم اس موقع پر قرآن کریم کی وہ آیات بھی مطالعہ کرتے چلیں جو حمد باری تعالی کی تلقین کرتی ہیں:
سورہ الکہف میں ارشاد باری ہے:
قل لو کان البحر مدادا لکلمات ربی ولوجئنا بمثلہ مددا (آیت ۱۰۹)
’’یعنی کہہ دیجئے کہ اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لئے سمندر کا پانی روشنائی کی جگہ ہو تو میرے رب کی باتیں ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجائے اگر چہ اس سمندر کی مثل دوسرا سمندر ہم مدد کے لئے لے آئیں۔‘‘
سورہ لقمان میں کہا گیا ہے:
ولو ان ما فی الارض من شجر اقلام و البحر بعدہ سبعۃ البحر ما نفدت کلمت اللہ (آیت ۲۷)
’’اور جتنے درخت زمین بھر میں ہیں اگر وہ سب قلم بن جائیں اور یہ جو سمندر ہے اس کے علاوہ سات سمندر اور ہو جائیں تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں۔‘‘
و ان اللہ لہو الغنی الحمید (سورہ الحج آیت ۶۴)
’’بے شک وہی غنی اور حمید ہے۔‘‘
قل الحمد للہ‘‘ (سورہ النمل آیت ۵۹)
’’کہہ دو اللہ کے لئے ہی حمد ہے۔‘‘
’لہ الحمد فی الاولی والاٰخرۃ‘‘ (سورہ القصص آیت ۷۰)
’’کہہ کہ دنیا و آخرت میں اللہ کے لئے ہی حمد قرار دی گئی ہے۔‘‘
’’انہ حمید مجید‘‘ (سورہ ہود آیت ۷۳)
’’یقینا اللہ نہایت تعریف والا اور بڑی شان والا ہے۔‘‘
ولہ الحمد فی السموت والارض (سورہ الروم آیت ۱۸)
’’یعنی آسمانوں اور زمینوں میں حمد اسی کے لئے ہے۔‘‘
و سبح بحمد ربک حین تقوم (سورہ الطور آیت ۴۸)
’’اور تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔‘‘
یہاں اٹھنے کا مطلب نیند سے بیدار ہونا، مجلس سے اٹھنا اور نماز کے لئے کھڑے ہونا ہوسکتے ہیں۔ چند احادیث رسول کریمﷺ اس کا ثبوت ہیں۔ قرآن مجید میں ہے
قل ہو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد و لم یکن لہ کفوا احد (سورۂ اخلاص)
’’کہہ دو اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ اس سے کوئی پیداہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔‘‘
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم ملک یوم الدین ایاک نعبد و ایاک نستعین اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضآلین (آمین)
’’تمام عبادتیں اللہ کے لئے ہیں جو تمام عالم کا پالنے والا ہے اور جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے۔ وہ یوم دین (یوم حساب) کا مالک ہے۔
ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد طلب کرتے ہیں اے اللہ ہم کو سیدھے راستے پر چلا۔ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے نعمتیں اتاریں (اپنی نعمتوں سے نوازا) ان پر نہیں کہ جن پر تیرا غضب نازل ہوا۔‘‘
سورۂ فاتحہ جس کو قرآن کریم کی کنجی کہا جاتا ہے وہ اس پاک بے نیاز کی حمد کے اقرار سے شروع ہو تی ہے۔ پہلے حصہ ’’ایاک نعبد‘‘ میں اس کی شان ربوبیت و رحمت اور ایسے یوم حساب کا مالک قرار دیتا ہے کو مسلم کرتے ہوئے دوسرا حصہ ’’و ایاک نستعین‘‘ سے جس میں بندوں کی جانب سے اس رب ا العالمین سے استعانت کی درخواست ہے اور دعائیں کی گئی ہیں۔ یہ تمام آیات قرآنی اس کی حمد و ثنا کے بہترین نمونے ہیں۔