اللہ نے ہنسی دی، اللہ نے خوشی دی اور غم دیا تو دل کو توفیق صبر بھی دی

اسلمؔ فریدی (کراچی)

اللہ نے ہنسی دی، اللہ نے خوشی دی
اور غم دیا تو دل کو توفیق صبر بھی دی

یارب ترے کرم کا اک یہ بھی معجزہ ہے
گلشن کو فصل گل دی اور گل کو تازگی دی

مخلوق اور بھی ہیں ارض و فلک میں لیکن
اشرف ہمیں بنایا اور ہم کو برتری دی

بے کیف تھی یہ دنیا بے لطف تھے نظارے
صد شکر میری آنکھوں کو تونے روشنی دی

انسان کی رگوں میں حدت کہاں سے آئی؟
ہر شخص جانتا ہے کس نے یہ زندگی دی

قلب و نظر کو بخشی اک طاقت کشش بھی
اور تونے اس جہاں کی ہر شے کو دلکشی دی

قندیل حمد جاں میں جس دم چلی فریدیؔ
اللہ نے قلم کو تحریک آگہی دی