المجیب (دعاؤں کا جواب دینے والا)

المجیب

(دعاؤں کا جواب دینے والا)
فاستغفروہ ثُمّ توبو الیہ ان ربی قریب مجیب (ہود: ۶۱)
’’لہٰذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقینا میرا رب قریب ہے اور دعاؤں کا جواب دینے والا ہے‘‘۔
حل کرتا ہے بندوں کے مسائل دن رات
سنتا ہے توجہ سے ہر ایک شخص کی بات
آجاؤ حضور اس کے دعا پیش کرو
بہ حق ہے کہ خالق ہے مجیب الدعوات
(از ’’حمد پارے‘‘)

نعت گوئی حضور سرور کائناتﷺ کی حیات طیبہ میں ہی شروع ہو گئی تھی۔ چنانچہ عربی زبان کے شعراء نے خوب خوب مدحت رسول کریم ﷺ کی اور ایک راہ تمام عالم کو دی چنانچہ دنیا کی ہر زبان میں مدح رسول کریم ہوتی آئی ہے۔ فارسی زبان کے شعراء نے بھی نعت کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ساتھ ہی عربی اور فارسی شعراء نے حمد بھی کہیں اور اسے بابرکت سمجھا اور اپنے دواوین کی زینت بنایا حمدیہ مجموعے یا دواوین شائع ہونے کی روایت نہیں ملتی۔ پھر بھی حمدیہ کلام کی مسلسل ارتقائی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی حمد کی ہی دوسری شکل ’’دعا‘‘ جواللہ تبارک و تعالی جل شانہ جل جلالہ کی بارگاہ میں پیش کی جاتی ہے اور جس کو ہم ’’مناجات‘‘ کہتے ہیں۔ اس کا باب بھی محامد کے بعد کتاب ہذا کا اہم حصہ ہے جس کو و ایاک نستعین کے عنوان سے پیش کیا جارہا ہے۔