الٰہی ترا نام کیا خوب ہے کہ ہر جان کو وہ ہی مطلوب ہے

شاہ اسمٰعیل دہلوی

الٰہی ترا نام کیا خوب ہے
کہ ہر جان کو وہ ہی مطلوب ہے

اسی سے ہے ہر دل کو آرام و چین
وہی سب زبانوں کا ہے زیب و زین

زباں کس طرح حمد تیری کرے
کہ ہے تو تو ادراک سے بھی پرے

ہمیں بس یہی تیرا ادراک ہے
کہ بیشک تو ہر عیب سے پاک ہے

تری ذات میں منحصر ہے کمال
تجھی میں ہیں شانِ جمال و جلال

بڑائی میں تیری بیاں کیا کروں
کہ یاں تو بڑے لوگ ہیں سر نگوں

بڑا تو ہی ہے اور سب ہیچ ہیں
خیالات کے سارے وہ پیچ ہیں

تو ہے خالقِ ہر مکین و مکاں
تو ہے بادشاہ زمین و زماں