الٰہی میں بندہ خطاوار ہوں جو کچھ تو سزا دے سزاوار ہوں

حکیم مولوی نجم الغنی خان

الٰہی میں بندہ خطاوار ہوں
جو کچھ تو سزا دے سزاوار ہوں

وہ دل دے جو شیدا کسی کا نہ ہو
ترا ہوکے اصلّا کسی کا نہ ہو

تجھے سمجھے دن رات حاجت روا
تجھی سے کہے جو کہے مدعا

زمانے کے جھگڑے بھلاتے رہے
تری روز و شب لو لگائے رہے

گوارا رہے تنگدستی مجھے
مبارک میری فاقہ مستی مجھے

مگراے خداوند عرش بریں
نہ دکھلا امیروں کی چین جبیں

میں بندہ ترا ہوں تو پروردگار
تجھے فکر میری مجھے تجھ سے کار

رہ دین میں دے استقامت مجھے
تنزل نہ ہو تا قیامت مجھے