الٰہی میں ہوں بس خطاوار تیرا مجھے بخش ہے نام غفار تیرا

حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ

الٰہی میں ہوں بس خطاوار تیرا

مجھے بخش ہے نام غفار تیرا

مرضِ لادوا کی دوا کس سے چاہوں

تو شافی ہے میرا میں بیمار تیرا
کہاں جائیں جس کا نہ ہو کوئی تجھ بن

تو مولیٰ ہے میں عبدِبیکار تیرا
نہ پوچھے سوا نیک کاروں کے گر تو

کدھر جائے بندہ گنہگار تیرا
چلا نفس و شیطاں کے احکام پر میں

نہ مانا کوئی حکم زنہار تیرا
خبر لیجیؤ میری اس د م الٰہی

کھلے جب کہ بخشش کا بازار تیرا
ہوں ظلماتِ عصیاں کہاں تیری رحمت

کہاں میں کہاں بحرِ ذخّار تیرا
گنہ میرے حد سے زیادہ ہیں یا رب

مجھے چاہئے رحم بسیار تیرا
نہ ڈر دشمنوں سے رہا مجھ کو جب سے

کہا تونے میں ہوں مدد گار تیرا
الٰہی رہے وقت مرنے کے جاری

بہ تصدیق دل لب پہ اقرار تیرا
نہ کوئی میرا ہے نہ ہوں میں کسی کا

تو میرا میں عاجز دل افگار تیرا
میں ہوں عبد تیرا تو معبود میرا

تو مسجود میں ساجدِ زار تیرا
الٰہی بچا قہر سے اپنے مجھ کو
کہ ہے عفو بخشش کرم کار تیرا
حکومت ہوئی اس کو حاصل جہاں کی

ہوا جو کوئی حکم بردار تیرا
فنا ہوگیا جو تیری دوستی میں

تو ہے یار اس کا وہ ہے یار تیرا
دو عالم خریدار ہوں اس کے بیشک

جو ہو نقدِ جاں سے خریدار تیرا
رہے ہوش اس کو کسی کا نہ اپنا

الٰہی ہوا جو کہ ہشیار تیرا
الٰہی عطا ذرۂ دردِ دل ہو

کہ مرتا ہے بے داد بیمار تیرا
بنا اپنا قیدی کر آزاد مجھ کو

ہے آزاد سب سے گرفتار تیرا
بھکاری ترا جاوے محروم کیوں کر

کہ نت خوانِ بخشش ہے تیار تیرا
ترا خوانِ انعام ہے عام سب پر

ہے شاہ و گدا ہر نمک خوار تیرا
کوئی تجھ سے کچھ، کوئی کچھ چاہتا ہے

میں تجھ سے ہوں یا رب طلب گار تیرا
نہیں دونوں عالم سے کچھ مجھ کو مطلب

تو مطلوب میں ہوں طلب گار تیرا
تو ہے جان و دل سے بھی نزدیک میرے

ولے آہ ملنا ہے دشوار تیرا
ہوں با وصف اس قرب کے دور ایسا

ستاتا ہے پھر ہجرِ خونخوار تیرا
یہ قرب و معیت ہے پھر بعد ایسا

نہیں کھلتا یا رب یہ اسرار تیرا
حجابِ خودی میرا یا رب اٹھا دے

کہ تا دیکھوں بے پردہ دیدار تیرا
ذرا آپ اپنے میں ’’امداد‘‘ آ تو

کہ ہے کون تو کیا ہے گفتار تیرا
تو صیقل کر آئینہ دل نامِ حق سے

کہ تا جلوہ گر اس میں ہو یار تیرا
زباں سے طرف دل کے مشغول ہو تو

وہیں جلوہ فرما ہے دل دار تیرا
اٹھا غم رکھ امید ’’امداد‘‘ حق سے

تجھے غم ہے کیا رب ہے غمخوار تیرا
نہ ڈر فوجِ عصیاں سے گرچہ بہت ہے
کہ ہے رحم حق کا مدد گار تیرا