الہ جب بھی تھا جب اس جہاں میں کچھ بھی نہ تھا زمین کچھ بھی نہ تھی آسماں میںکچھ بھی نہ تھا

الہ جب بھی تھا جب اس جہاں میں کچھ بھی نہ تھا
زمین کچھ بھی نہ تھی آسماں میںکچھ بھی نہ تھا
لطیف جھونکے ہوا کے، نہ تھی ہوائے سموم
یہ بات سچ ہے بہار و خزاں میں کچھ بھی نہ تھا
’’الاول‘‘ بھی تو اللہ کا ہے اسم صفت
تھے حرف اول و آخر زماں میں کچھ بھی نہ تھا
وہ کائنات کہاں تھی جو آج ہے موجود
نہ کن کہا تھا خدا نے جہاں میں کچھ بھی نہ تھا
وہ وقت اب کہاں ابرار اب تو سب کچھ ہے
نہ حرف و لفظ تھے پیدا زباں میںکچھ بھی نہ تھا
لبوں پہ نعرۂ تکبیر اب نکلتا ہے
وہ وقت بھی تو تھا صوت و اذاں میں کچھ بھی نہ تھا

ژ
(یہ حمد تمام اسماء الحسنی پر صفت توشیح میں کہی گئی کتاب مالک یوم الدین سے لی گئی ہے)