انھیں کے نقشِ قدم آسماں میں چمکے ہیں زہے نصیب کہ وہ دو جہاں میں چمکے ہیں

انھیں کے نقشِ قدم آسماں میں چمکے ہیں
زہے نصیب کہ وہ دو جہاں میں چمکے ہیں
چلے تھے شام کی جانب حضور مکہ سے
قدم قدم پہ مگر کارواں میں چمکے ہیں
یہ امتیاز تھا ان کا تمام نبیوں میں
نبی مکاں کے سوا لامکاں میں چمکے ہیں
جہاں جلال تھا چہرے پہ کافروں کے سبب
وہیں بلال کے صبح اذاں میں چمکے ہیں
کبھی تو حیدر کرار کو بلا بھیجا
کبھی تو رات میں ان کے مکاں میں چمکے ہیں
کبھی تو آگ لگائی ہے جنگ خندق میں
کبھی تو بدر کی تیغ وسناں میں چمکے ہیں
یہی ہے جعفری نعتِ رسول کا اعجاز
غموں کے پھول بھی بادِ خزاں میں چمکے ہیں