اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے

غزل قطع بند

اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے

اَنبیا کو بھی اَجل آنی ہے
مگر ایسی کہ فقط آنی ہے
پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حیات
مثلِ سابق وہی جسمانی ہے
روح تو سب کی ہے زندہ ان کا
جسمِ پُرنور بھی روحانی ہے
اوروں     کی روح ہو کتنی ہی لطیف
اُن کے اَجسام کی کب ثانی ہے
پاؤں     جس خاک پہ رکھ دیں     وہ بھی
روح ہے پاک ہے نورانی ہے
اُس کی اَزواج کو جائز ہے نکاح
اُس کا ترکہ بٹے جو فانی ہے
یہ    ہیں        حَیِّ    اَبدی    ان   کو     رضاؔ
صدقِ وعدہ کی قضا مانی ہے
٭…٭…٭…٭…٭…٭