’’اُردو حمد کا ارتقاء‘‘ تذکرہ نگار… طاہرؔ سلطانی

’’اُردو حمد کا ارتقاء‘‘
تذکرہ نگار… طاہرؔ سلطانی

طاہرؔ سلطانی کی کتاب ’’ اُردو حمد کا ارتقاء‘‘ ۶۳۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب میں اردو حمد کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔اس کتاب کو ۲۰۰۴ء میں جہانِ حمد پبلی کیشنز کراچی نے شائع کیا۔ مذکورہ تذکرہ کو دنیائے حمد و نعت میں پذیرائی کا شرف حاصل ہوا۔ ممتاز شاعر وادیب پروفیسر منظر ایوبی رقمطراز ہیں۔
فنی اور تکنیکی اعتبار سے طاہر سلطانی کا تذکرہ یقیناً قابلِ توصیف ہے۔ مروّجہ تذکرہ نویسی کے تقریباً تمام اصولوں اور ضابطوں کی پابندی بھی کی ہے اور ہر کلیے کو انہوں نے ملحوظِ خاطر بھی رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حمد نگاروں کے بارے میں ان کی تحریریں روانی ، سادگی ، صفائی اور ہمواری کی آئینہ دار ہیں۔ ہرتذکرہ نگار نہ ان صفات کا حامل ہوسکتا ہے اور نہ دینی طور پر دیدہ ریزی و دماغ سوزی کا متحمل !۔ طاہر سلطانی اس نوع کے آزمائشی مراحل سے بھی کامراں گزرے ہیں۔بحث وتمحیص کے بعد یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ طاہر سلطانی کا زیرِ نظر تذکرہ اپنے گوناگوں اوصاف کے سبب دنیائے شعر و ادب میں انتہائی افادیت کا حامل بھی ٹھہرے گا اور اب تک لکھے جانے والے تذکروں میں اپنی نوعیت کا واحد تذکرۂ حمد گویاں قرار پائے گا۔
نامور محقق ادیب و شاعر خواجہ رضی حیدر فرماتے ہیں:
طاہرؔ سلطانی نے حمد و نعت کے حوالے سے نہایت اہم ، تخلیقی اور تحقیقی کام کیا ہے۔ ان کی کئی کتابیں بلاشبہ منفرد اور قابلِ ذکر ہیں۔ خصوصاً پیشِ نظر کتاب’’اُردو حمد کا ارتقاء‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے موضوع پر سند قرار دی جاسکتی ہے۔ طاہر سلطانی کے ہاں عقیدت و انہماک کی فروانی مثالی ہے۔ وہ حمد و نعت کے حوالے سے رنگ نہیں بلکہ ترنگ کو عام کرتے ہیں ۔ ایسی ترنگ جو ایک عاشقِ صادق کے یہاں ہوتی ہے۔
طاہرؔ سلطانی کی یہ ترنگ ان کی ایمانی حلاوت اور جذبہ کی صداقت سے نہ صرف ہر لمحہ فزوں تر ہورہی ہے بلکہ تخلیقی اور تحقیقی سطح پر دوسروں کے لیے مہمیز کا کام بھی کررہی ہے۔
میں طاہرؔ سلطانی کو ، صاحب کتاب حمد گویانِ اُردو کے اس تذکرہ کی ترتیب پر مباکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس کارِ ایمان و عقیدت پر دنیا و آخرت میں بہتر اجر عطا فرمائے۔
منفرد لب و لہجہ کے شاعر عمدہ نثر نگار نامور پروڈیوسر تاجدار عال کی رائے۔ ملاحظہ کیجیے:
طاہرؔ سلطانی جس ہمّت ، لگن ، استقامت اور بے غرضی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے کام کررہے ہیں۔ اس پر میں انہیں ہمیشہ رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔(تاجدار عادل)
’’اردو حمد کا ارتقاء‘‘ … طاہر سلطانی کا ایک ایسا مہتمم بالشان کارنامہ ہے۔ جو ایک طرف تو حمد اور نعت کے حوالے سے تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے تودوسری طرف ہمیں ایسے صاحبان اخلاص بندگانِ خدا کے طرزِ بندگی سے روشناس کراتا ہے۔ جو زندگی کی اندھیری راتوں میں خوشبو کی شمعیں روشن کرتے رہے اور جو ہمارے معاشروں میں پھیلی ہوئی دلوں کی تاریکی اور بے اطمینانی کو دور کرنے میں اپنے اپنے حصّے کی روشنی پھیلاتے رہے۔
خود بھی اطمینان حاصل کیا اور ہمارے لیے بھی سکون کا سامان فراہم کردیا۔فہرست کے نام دیکھئے آپ یقیناً مجھ سے متفق ہوں گے۔ میری دعا ہے کہ اس موقع پر میں ان سے کہوں طاہر سلطانی خوش باش اور بامراد رہو۔ اور آپ میری آواز میں آواز ملا کر آمین کہہ دیں۔
معروف محقق و ادیب مدیر حمد و نعت شہزاد احمد لکھتے ہیں:
الحمدللہ ! طاہرؔ سلطانی نہ صرف ان خصوصیات سے متصف ہیں بلکہ وہ شعبۂ حمد نگاری میں قابلِ قدر اور اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انشاء اللہ العزیز ’’صاحب کتاب حمد گو شعراء‘‘ کا یہ بے مثال تذکرہ شعبۂ حمد نگاری میں نئی روایات کا امین ٹھہرے گا۔ بلکہ اپنے انفرادی موضوع کی مناسبت اور اوّلیات کے سبب شاہراہ حمد میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔یہی نہیں بلکہ آئندہ آنے

والے وقت میں اس سے بھر پور استفادہ بھی کیا جائے گا۔
اردو حمد کا ارتقاء طاہر سلطانی کا مرتب کردہ یہ نیا تذکرہ صاحب کتاب حمد گویان کے اس تذکرے کو طاہر سلطانی نے وقیع سے وقیع تر بنانے کے لیے حتی المقدور کوشش کی ہے۔
اس حمدیہ تذکرے کی مدد سے آپ حضرات حمد گوئی کی تاریخ اور حمد گوئی کے فروغ و ارتقا سے بخوبی واقف ہوجائیں گے۔’’اُردو حمد کا ارتقاء‘‘ حمدیہ ادب کا خزانہ ہے۔ اس تذکرے میں حمد نگاری کے سلسلے میں ہونے والی تمام کاوشوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔۶۳۲ صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت ۴۰۰ روپے ہے۔کتاب کو جہانِ حمد پبلی کیشنز، کراچی نے شائع کیا۔
٭٭٭٭٭