’’اُردو میں حمد گوئی‘‘ تذکرہ نگار… پروفیسر شفقت رضوی

’’اُردو میں حمد گوئی‘‘
تذکرہ نگار… پروفیسر شفقت رضوی

’’اردو میں حمد گوئی‘‘ پروفیسر شفقت رضوی کی یادگار کاوش ہے ۔ ان کی یہ کتاب اُردو ادب میں حمد کے موضوع پر پہلی نثری کتاب ہے۔ کتاب میں ۱۵ صاحب کتاب حمد گو شعرا کا تذکرہ شامل کیا گیا ہے۔ شعرائے کرام کے اسمائے گرامی:
مفتی سرور لاہوری۔ مضطر خیر آبادی۔ مظفر وارثی۔ طفیل دارا۔ حافظ لدھیانوی۔ لطیف اثر۔مسرور بدایونی۔ انوار عزمی۔ شیبا حیدری۔ منصور ملتانی۔ گہر اعظمی۔ جمیل عظیم آبادی۔اجمل نقشبندی۔ طاہر سلطانی۔ کتاب کا فلیپ ممتاز شاعر و ادیب ، محقق خواجہ رضی حیدر نے لکھا ہے وہ فرماتے ہیں۔
’’پروفیسر شفقت رضوی سماجی علوم کے ماہرین میں شمارے ہوتے ہیں۔ اور آپ کی متعدد تصانیف اہل علم کے درمیان معروف و مقبول ہیں۔ انہوں نے متعدد موضوعات پر قلم اُٹھایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت بھی اُن کے حصہ میں رکھی ہے کہ اُردو نثر میں حمدیہ شاعری کے حوالے سے پاکستان میں پہلی تجزیاتی کتاب بھی انہوں نے ہی تصنیف کی ہے۔
’’حمد صنف سخن ہی نہیں ایمان کا حصہ ہے۔‘‘ اس عنوان سے اُن کا تفصیلی مضمون ۱۹۹۸ء میں ’’جہانِ حمد‘‘ کراچی میں شائع ہوا تھا۔ اس مضمون کی پذیرائی نے خصوصی طور پرپروفیسر شفقت رضوی کے قلم کو مزید مہمیز کیا اور اُنہوں نے ’’حمدیہ شاعری‘‘ کے مختلف پہلوئوں پر مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ یہ تمام مضامین ’’جہانِ حمد‘‘ کے ہی مختلف شماروں میں اشاعت پذیر ہوتے رہے اور بحمد اللہ اب ایک کتاب کی صورت میں آپ کے سامنے ہیں۔ پروفیسر شفقت رضوی کا یہ کام یقینا رضائے الٰہی کے حصول کا ایک ذریعہ ہے جس کا اجر و ثواب متعین ہے لیکن جہانِ حمد کے مدیر طاہر سلطانی جو خود نعت گوئی اور نعت خوانی کے حوالے سے معروف ہیں اس اجر و ثواب کے شریک ہیں۔ کیونکہ انہوں نے نہ صرف پروفیسر شفقت رضوی سے یہ مضامین لکھوائے بلکہ وہ اب انہیں کتابی صورت میں بھی شائع کررہے ہیں۔ یہ کتاب حمدیہ شاعری کے تجزیاتی مطالعہ کے ضمن میں ایک اہم ترین اور بنیادی کتاب ثابت ہوگی۔ طاہر سلطانی نے آج سے بیس سال قبل ’’فروغ نعت‘‘ کے ساتھ حمد گوئی کی جو تحریک شروع کی تھی اس تحریک کے نتائج و اثرات آج ظاہر ہورہے ہیں۔
طاہر سلطانی کی ترغیب پر بعض ایسے شعراء اور ادیب ’’ حمدو نعت گوئی‘‘ کی جانب راغب ہوئے جو ایک عمر سے غیر مذہبی تخلیق کے سفر میں تھے۔ آج ان میںسے بیشتر کی تصانیف ’’حمد و نعت‘‘ کے حوالے سے منصۂ شہود پر آچکی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑ ا کام ہے۔ ایک ایسا کام جس کا نفع دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی۔ میں پروفیسر شفقت رضوی اور طاہر سلطانی کو ’’اُردو میں حمد گوئی ‘‘ کی اشاعت پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنے ممدوحین اور قارئین سے اُن کے حق میں دعائے خیر کا ملتمس ہوں۔‘‘قارئین محترم میں صرف اتنا عرض کروں گا’’اردو میں حمدگوئی‘‘ میری نظر میں بہت بڑا اعزاز ہے جو پروفیسر شفقت رضوی کے سرپر تاج بن کر جگمگارہا ہے۔
یہ کتاب ۲۱۶ صفحات پر مشتمل ہے اور اسے ۲۰۰۱ء میں جہان حمد پبلی کیشنز پاکستان کراچی نے شائع کیا۔
٭٭٭٭٭