’’اُردو کی نعتیہ شاعری‘‘ تذکرہ نگار…ڈاکٹر فرمان فتح پوری

’’اُردو کی نعتیہ شاعری‘‘
تذکرہ نگار…ڈاکٹر فرمان فتح پوری

نامور ادیب و شاعر محقق و ماہر تعلیم ، ڈاکٹر فرمان فتح پوری کا نام اور کام اُردو ادب میں خاص اہمیت کا حامل ہے سو سے زائد کتابیں تصنیف کرچکے ہیں۔ ضعیفی کی طرف مائل ہونے کے باوجود اُن کا قلم بھر پور رعنائی اور قوت و توانائی کے ساتھ رواں دواں ہے۔
ڈاکٹر فرمان فتح پوری اپنی کتابوں میں ’’ پیش لفظ ، دیباچہ پہلی بات۔ ابتدایہ ، عرض مصنف وغیرہ کے بجائے ’’کتاب سے پہلے‘‘ کے عنوان سے اپنی تحریر شامل فرماتے ہیں۔
’’اردو کی نعتیہ شاعری‘‘ میں ڈاکٹر صاحب کا مضمون ، کتاب سے پہلے ۱۵؍ ستمبر ۱۹۷۲ء کو تحریر کیا گیا، گویا ڈاکٹر صاحب نے کتاب ۱۹۷۲ء میں مکمل کرلی تھی۔ طباعت ۱۹۷۴ء کو لاہور میں ہوئی۔ آئیے کتاب کی فہرست مضامین پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
۱۔کتاب سے پہلے (طبع اوّل) ۲۔ کتاب سے پہلے (طبع دوم)
۳۔ نعت ایک صنف سخن کی حیثیت سے:
نعت اور قصیدۂ رسالت، نعت کا مفہوم ، نعت کی ہیئت اور موضوع،
موضوع کی اہمیّت اور ہماری بے اعتنائی۔
۴۔عربی فارسی نعت اور اُردو پر اُس کے اثرات:
حسّان بن ثابت ، کعب بن زہیر ،بوصیری ، سعدی ، امیر خسرو، جامی ، قدسی اور بعض دیگر شعرا
۵۔اُردو میں نعت گوئی کی مقبولیت اور اس کے اسباب و محرکات:
نعت ذریعۂ نجات و کار ثواب ، نعت سے علماء صوفیا کی دلچسپی اور نعتیہ مشاعرے ، میلاد شریف کی محفلیں اور سیرت النبی ﷺ کے جلسے، محفل سماع مسلک طریقت اور صوفیاء کرام۔
۶۔ اُردو میں نعتیہ شاعری کی روایت اور اس کا مبصرانہ جائزہ:
رسمی نعت گوئی اور اس کی مختلف صورتیں ، اُردو میں حقیقی نعت گوئی کے دور کا آغاز ، محسن کاکوروی، کی نعتیہ شاعری اور اس کی خصوصیات ، امیر مینائی ، مولانا حالی اور مولانا ظفر علی خاں کی نعتیہ شاعری،علامہ اقبال کی شاعری اور نعت کے موضوع سے اُس کا رشتہ ، بعض صوفی و عالم شاعر اور اُن کا نعتیہ کلام ،چودھری دلو رام کوثری ایک ہندو عاشقِ رسول ، منظوم تاریخِ اسلام و سیرتِ نبوی کے مختلف مجموعے اور شاہ نامۂ اسلام ، عہدِ حاضر کے چند نعت گو شعرا اور ان کا نعتیہ کلام۔
۷۔تبرکات (عربی فارسی)
شیخ سعدی ، شاہ عبدالعزیز دہلوی،خواجہ نظام الدین اولیاء ، امیر خسرو، عبدالرحمن جامی ، جان محمد قدسی، اسد اللہ خاں غالب، شاہ نیاز احمد بریلوی، علامہ اقبال۔
۸۔ منتخب نعتیں (اُردو)
امیر مینائی ، اسمٰعیل میرٹھی ، علامہ اقبال ، اختر شیرانی ، احسن مارہروی ، اصغر گونڈوی
اختر حیدر آبادی ،ا کبر الہ آبادی ، اکبر وارثی میرٹھی ، اقبال سہیل ، احسان دانش، احمد ندیم قاسمی
محمد اعظم چشتی ، اسیر بدایونی ،اختر (ہری چند)، آزاد (جگن ناتھ)
اختر حسین اختر، اطہر نفیس ، ابراہیم خلیل شیخ، بیدم وارثی، ، بیدل جبلپوری ، بہزاد لکھنوی
بیان میرٹھی ، حفیظ تائب ، ثروت حسین ، عبدالکریم ثمر، جوہر (مولانا محمد علی) ، جوش ملیح آبادی ؎
جگر مراد آبادی، حالی (الطاف حسین)، حسرت موہانی ،حسن رضا خاں بریلوی ، حفیظ جالندھری
حمید صدیقی لکھنوی، عبدالرحمن راسخ دہلوی، رضا بریلوی ( مولانا احمدرضا خاں)
روش صدیقی ، شاہ محمد تقی بریلوی، ساغر نظامی ، سحر انصاری ، شہیدی (کرامت علی)
شہید(غلام امام) ، شفیق کوٹی،شارق ایرانی، شاعر لکھنوی، شہزاد احمد، شوقی(اقبال حسین)
ضیاء القادری بدایونی ، ظفر(مولانا ظفر علی خاں)،ظفر (سراج الدین) ، غلام مصطفی عشقی
عبدالعزیز خالد، عاصی کرنالی ، عارف عبدالمتین، فیض الحسن سہارنپوری، فرمان فتح پوری
کیف ٹونکی ، کوثر دلورام ، قاضی نذر الاسلام ، قیصر وارثی ، منور بدایونی ، ماہر القادری
محشر رسول نگری، منظور حسین شور، مظہر عرفانی، ناظر(خوشی محمد) ، نیّر واسطی، وحشت کلکتوی
وحید ہسوی، یوسف ظفر ۔
کتاب کا دوسرا ایڈیشن ۱۹۹۸ء میں شائع ہوا۔ کتاب کے تیسرے ایڈیشن کی اشاعت و طباعت کا اعزاز ’’ جہانِ حمد پبلی کیشنز‘‘ کو حاصل ہورہا ہے۔انشاء اللہ
ہم ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے شکر گزار ہیں کہ انھوں ہم پر اعتماد کیا اورجہانِ حمد پبلی کیشنز کو یہ سعادت بخشی۔
٭٭٭٭٭