’’اُردو کی نعتیہ شاعری‘‘ تذکرہ نگار … ڈاکٹر طلحہٰ برق رضوی

’’اُردو کی نعتیہ شاعری‘‘
تذکرہ نگار … ڈاکٹر طلحہٰ برق رضوی

ڈاکٹر فرمان فتح پوری اور ڈاکٹر طلحہٰ برق رضوی کی کتابیں ’’ اُردو کی نعتیہ شاعری‘‘ کچھ عرصہ زیر بحث رہیں کہ آیا دونوں کتابوں میں اوّلیت کس کو حاصل ہے؟ دونوں کتابیں ۱۹۷۴ء کو پاکستان اور ہندوستان سے شائع ہوئیں اب یہ فیصلہ کیسے ہو کہ پہلے کون سی کتاب منظر عام پر آئی۔ ڈاکٹر فرمان صاحب کی کتاب پر صرف سنہ درج ہے۔ جبکہ ڈاکٹر طلحہٰ برق رضوی کی کتاب پر سنہ کے ساتھ ماہ جنوری بھی درج ہے۔
دنیائے نعت کے چند قلمکاروں نے طلحہٰ برق رضوی کی کتاب کو اوّلیت کا درجہ دیتے ہوئے یہ دلیل پیش کی ہے کہ ان کی کتاب پر ماہ و سال دونوں درج ہیں۔
ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے مضمون ’’کتاب سے پہلے‘‘ کے اختتام پر ۱۵؍ ستمبر ۱۹۷۲ء درج ہے۔ اس بحث میں الجھے بغیر ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ یہ دونوں عظیم قلمکار ہمارے لیے نہ صرف قابل احترام ہیں بلکہ یہ دونوں عظیم انسان روشنی کا منارہ ہیں۔ ’’اردو کی نعتیہ شاعری‘‘ کے تذکرہ نگار ڈاکٹر طلحہٰ برق رضوی عاشق رسولﷺ ہیں درس و تدریس ان کا اوڑھنا بچھونا رہا ہے۔ ’’اردو کی نعتیہ شاعری‘‘ اُن کے عشق رسول ﷺ کا بین ثبوت ہے۔
چند برس قبل ڈاکٹر طلحہٰ برق رضوی صاحب پاکستان تشریف لائے تھے آپ سے نہ صرف یہ کہ راقم کو ملاقات کا شرف حاصل ہوا بلکہ بزمِ جہانِ حمد کے تحت معروف نعت گو ولی عالم جلالی مرحوم کی رہائش گاہ پر ان کے اعزاز میں نعتیہ مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا۔
مشاعرے میں ڈاکٹر جمیل عظیم آبادی ۔ سہیل غازی پوری۔ حیرت الٰہ آبادی مرحوم۔
تاجدار عادل۔ ڈاکٹر نسیم احمد۔تنویر پھول۔ گہر اعظمی۔ صدیق فتح پوری۔ ذکی عثمانی۔
خادم عظیم آبادی۔ آسی سلطانی اور راقم نے نعتیہ کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔
ڈاکٹر طلحہٰ برق رضوی کی کتاب ’’اُردو کی نعتیہ شاعری‘‘ ہماری پہنچ سے باہر رہی سوہم یہاں پروفیسر شفقت رضوی کی تحریر سے استفادہ کرتے ہیں۔
اُردو کی نعتیہ شاعری کے بارے میں شائع ہونے والی پہلی کتاب ہماری معلومات کے مطابق ڈاکٹر طلحہٰ برق رضوی کی ہے جو نہایت مختصر ہے اور صرف ۹۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کیا ہے ایک مضمون کی شکل ہے۔ آخر میں شفقت رضوی نے ڈاکٹر آفتاب احمد نقوی شہید کے مضمون سے اقتباس پیش کیا ہے۔ کتاب کو نعت کا ایک تفصیلی و جامع جائزہ تو قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن مطالعہ نعت کے حوالے سے مطبوعہ کُتب میں اُسے اوّلیت کا اعزاز حاصل ہے۔
ہم ڈاکٹر آفتاب احمد نقوی شہید اور پروفیسر شفقت رضوی کی تحریروں کے حوالوں سے آگہی حاصل کرتے ہوئے ڈاکٹر طلحہٰ برق رضوی کو دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
٭٭٭٭٭