اُن کا تصور اور یہ رعنائیِ خیال

اُن کا تصور اور یہ رعنائیِ خیال
دل اور ذہن محو پذیرائیِ خیال

مرکز ہوں اک وہی مِرے ذوقِ خیال کے
یکتا ہیں وہ، تو چاہیے یکتائیِ خیال

ممکن نہیں کہ وصف بیاں اُن کے ہو سکیں
محدود کس قدر ہے یہ پہنائیِ خیال

بے حرف و صوت بھی یہاں ممکن ہے التجا
کافی ہے عرضِ حال کو گویائیِ خیال

ہر ذرہ بارگاہِ نبی ﷺ کا ، چراغِ ذہن
خاکِ مدینہ ، سرمہء بینائیِ خیال

بے جان اپنی سوچ ہے ، بے روح اپنا ذوق
درکار ہے ہمیں بھی مسیحائیِ خیال

ملتی ہے صرف اُن کی توجہ کے نُور سے
تنہائیوں میں انجمن آرائیِ خیال

اُن ﷺ کے بغیر رنگ نہ ہو کائنات میں
ہے اُن ﷺ کے دم سے زینت و زیبائیِ خیال

اوروں کے در پہ جانے کا سوچوں میں کیوں نصیر
مجھ کو نہیں قبول یہ رسوائیِ خیال
(سید نصیر الدین نصیر)