آج پھر شہرِ نبی کی اتنی یاد آئی کہ بس حاضری کے شوق نے لی ایسی انگڑائی کہ بس

آج پھر شہرِ نبی کی اتنی یاد آئی کہ بس
حاضری کے شوق نے لی ایسی انگڑائی کہ بس

آپ کا اسم گرامی سن کے چوما تھا اِسے
تب سے ہے ناخن میں میرے ایسی رعنائی کہ بس

جب بھی مشکل میں پکارا المدد یامصطفی
مجھ کو حاصل ہوگئی ایسی توانائی کہ بس

دشمنانِ دیں کے لشکر ہوگئے پل میں فرار
ذوالفقارِ حیدری اس طرح لہرائی کہ بس

لب کوئی کھولے نہ کھولے دل سے دے دے بس صدا
آپ کے دربار میں ہے ایسی شنوائی کہ بس

جب معافی مانگنے پہنچا تیری سرکار میں
اپنے جرموں سے مجھے ایسی حیا آئی کہ بس

دفعتاً پھر آنسوئوں کے ہوگئے چشمے رواں
خوف سے یہ روح میری ایسی تھرائی کہ بس

روتے روتے جب میں اپنی جان سے جانے لگا
یک بہ یک پھر اس طرف سے یہ صدا آئی کہ بس

مدحتِ احمد کہاں اور بے ہنر ارسلؔ کہاں
نعت خود سرکار نے اس طرح لکھوائی کہ بس
ارسلان احمد ارسل (لاہور)