آزا د نظم میں نعتیہ اقدار

ڈاکٹر عزیز احسن

آزا د نظم میں نعتیہ اقدار

عربوں کے تصورِ شعر گوئی میں اظہار کی خوبصورتی ہی کو اولیت حاصل تھی ۔یہی وجہ ہے کہ ہر ایسی بات جو لطیف پیرائے اور حسین تشبیہات کے سہارے کہی جاتی ، اسے وہ شعر ہی سمجھتے تھے۔ قرآنِ کریم کا اسلوبیاتی جمال بھی انہیں اسی لیے شاعری لگتا تھا کہ اس میں فصاحت ،بلاغت ، صداقت اور بیان کی نفاست و نظافت کا معجزاتی آہنگ تھا۔ چنانچہ وہ اس کو کلام الٰہی نہ ماننے کے باوجود اپنے شعری معیارات کی روشنی میں دیکھتے اور اسے شاعری کہتے نہ تھکتے تھے۔
مولانا الطاف حسین حالیؔ نے مقدمہء شعرو شاعری میں عربوں کے شعری معیار کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ ہر اس شخص کو شاعر جانتے تھے جو معمولی آدمیوں سے بڑھ کر کوئی مؤثر اور دلکش تقریر کرتا تھا۔ (مقدمہ ص۳۶)
شاعری میں شعری اوزان اور قوافی کی پابندی کا رجحان عام ہوتا تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے سے ایک کیڑے کے بارے میں یہ سن کر کہ وہ ’’حیرہ کی دو چادروں میں لپٹا ہوا لگتا تھا‘‘’’کانہٗ ملتف فی بردی حیرہ‘‘……بے ساختہ یہ نہ کہہ اٹھتے ’’شعر و رب الکعبہ‘‘… ’’واللہ یہ تو شعر ہے‘‘۔ہوا یہ تھا کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو کسی کیڑے نے کاٹ لیا جس کا نام وہ نہیں جانتے تھے۔چنانچہ اس کیڑے کا نقشہ انہوں نے اس طرح کھینچا کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ حیرہ کی دو چادروں میں لپٹا ہوا ہو۔حیرہ کی چادریں نقش و نگار اور خوبصورتی میں بہت مشہور تھیں۔ (عبدالحلیم ندوی، عربی ادب کی تاریخ‘ ص۱۲۲)
حالی نے محقق طوسی کی کتاب اساس الاقتباس کے حوالے سے بتایا ہے کہ’’ عبری اور سریانی اور قدیم فارسی شعر کے لیے وزن حقیقی ضروری نہ تھا سب سے پہلے وزن کا التزام عرب نے کیا ہے‘‘(ص۳۷)
اردو شاعری نے چوں کہ فارسی کی ڈگر اپنائی تھی اس لیے ایک طویل عرصے تک یہ بھی ردیف و قوافی کی قید میں رہی ۔ گو اس میں بھی وسیع خیال اور طویل بات کہنے کے لیے مثنوی، مسدس، مخمس ، ترجیع بند وغیرہ کی ہیئتیں راہ پاچکی تھیں لیکن پھر بھی اظہار کے لیے ہر صنفِ سخن میں قوافی کا استعمال شعری ہیئت میں خیال کی ادھوری شکل ہی پیش کرسکتا تھا۔ اس بات کو اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ اوزان و بحور اور قافیہ ردیف کی پانبدی کے ساتھ شاعری کرکے کوئی حقیقی شاعر اپنے پیش کردہ شعری مرقع سے بدرجہ ء اتم ، مطمئن نہیں ہوسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ غالب نے کہا تھا:
بقدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
اردو زبان میں نعتیہ شاعری چوں کہ ابتداء سے آج تک ترنم سے پیش کی جانے والی شاعری رہی ہے۔ اس لیے اس کے لیے ردیف و قافیے کی تکرار اور بحر و وزن کا التزام لازمی قرار پایا۔شعراء نے چوں کہ مثنوی اور طویل نظموں کی ابتداء بھی حمد و نعت سے کی اور اپنے دواوین کو بھی حمدو نعت ہی سے شروع کرنے کی روش اپنائی اس لیے اس شاعری کے لیے ہیئتی تجربات کرنے کی راہ اپنانے میں خاصی مدت لگی۔
آزاد نظم کے ارتقا کے حوالے سے ڈاکٹر حنیف کیفی نے اپنے تحقیقی مقالے میں بتایا ہے کہ چند ناقدین شررؔ کے ڈرامے کو اس کی چند ظاہری خصوصیات کی بنا پر آزاد نظم قراردیتے ہیں۔ لیکن خود حنیف کیفی اسے نظمَ معرا کہتے ہیں۔ انہوں نے تصدق حسین خالدؔ کو آزاد نظم لکھنے والا پہلا شاعر قرار دیا ہے جس نے ۱۹۲۶ء میں باقاعدہ طور پر اس روش کو اپنایا۔ بعد میں آزاد نظم کی ہیئت میں شعر گوئی کو اپنا شعار بنانے والے سنجیدہ شعراء میں ن، م، راشد اور میراجی کا نام آتا ہے(اردو میں نظمِ معرَّا اور آزاد نظم……ڈاکٹر حنیف کیفی۔ص۲۷)
بحرو قافیہ کی قید سے آزاد رہ کر شاعر کے لیے خیال کی رو کو لفظوں میں سمونا قدرے آسان ہے۔ اس لیے نظم آزاد لکھنے والے شعراء کے لئے فکری وسعتوں کو فنی گرفت میں لینے کی سہولت پیدا ہوئی۔ اس تخلیقی تجربے نے نعت میں تازہ کاری کو راہ دی اور آزاد نظم کے ذریعے عصری حسیت نعتیہ شاعری میں بھی جھلکنے لگی۔ نعتیہ شاعری کو ادبی صنف سخن بنانے میں آزاد شاعری لکھنے والوں کا بڑا حصہ( Contribution)ہے۔
نعتیہ شاعری میں نظمِ آزاد کو پہلے پہل کس نے اپنایا ؟اس سوال کا جواب تو باقاعدہ تحقیق کے بعد ہی دیا جاسکتا ہے۔ لیکن میں اپنی معلومات کی حد تک اتناکہہ سکتا ہوں کہ آزاد نظم میں نعتیہ اقدارسمونے کا قابلِ قدر نمونہ ’’قمر ہاشمی‘‘ نے اپنی طویل نظم ’’ مُرسَلِ آخرﷺ‘‘ میں پیش کیا تھا۔ اس طویل نظم کے کئی بندتھے۔ شاعر نے کچھ بند پابند شاعری کی ھیئت میں لکھے تھے اور کچھ نظمِ ٓزاد کی صورت میں رقم کیے تھے۔۔ یہ کتاب ۱۹۸۲ء میں منصہء شہود پر آئی تھی۔ایک نمونہ ملاحظہ ہو:
’’آپﷺ سے سیکھا ہے ہم نے
حب انساں کا سبق
ورنہ دردو داغ محرومی میں
کب تھا سوز دل
آپ ﷺسے پہلے جہاں میں یہ خلش کب عام تھی؟
اہل دنیا نے بہت زخموں کو
پہنچائی ہے ٹھیس
آپ ﷺ کی تکلیف کو سوچا تو
سارے زخم ٹھنڈے پڑ گئے
اہل ِطائف نے بہت پھینکے ہیں پتھر آپﷺپر
اہل زر مکے کے ، لاگو ہو گئے تھے جان کے
آپ ﷺ کے ضبط و تحمل کی نہیں ملتی مثال
آپ ﷺکے اخلاق نے فولاد کو پگھلا دیا‘‘
(مرسل آخرﷺ……ص۷۲)
نظم کی ان چند لائنوں میں شاعر نے حضورِ اکرم ﷺ کی حیاتِ پاک کی تبلیغی سرگرمیوں میں صعو بتیں جھیلنے اور آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کی فتح کا نقشہ پیس کیا ہے۔پابند شاعری میں خیال کی رو کو اس خوبصورتی سے گرفت میں لینا ممکن نہ تھا جس خوبصورتی سے نظمِ آزاد کی ھیئت میں خیال و احساس کی ضوریزی کے امکانات روشن ہوئے۔
ڈاکٹر توصیف تبسم نے آزاد نظم کے پیکر میں نعتیہ اقدار اس طرح سمیٹی ہیں کہ فن کی خوبصورت عمارت کے دریچے سے مفاہیم کا جہانِ بیکراں نظر آنے لگتا ہے:
یہاں سے چلو گے
تو رستے میں اک خشک صحرا پڑے گا
تو پھر کیا کروگے؟
کھجوروں کے اس جھنڈ سے
اس طرف ، وہ بہت دور روشن منارہ
منارے کے پہلو میں وہ سبز گنبد
ابھی تک نظر آرہا ہے!
وہ ہر لحظہ تبدیل ہوتا ہوا اخضری رنگ
نورِ سماوات کا مستقر ہے!
فضا میںفرشتوں کی پرواز کی سرسراہٹ
عجب نغمہء سرمدی ہے!
کہ جیسے یہاں
وقت بھی سانس روکے ہوئے چل رہا ہو!
یہ تصویر دل میں سجالو!
ان انوار سے اپنے سینے کو بھرلو!
یہاں سے چلو گے
تو رستے میں اک دشتِ ظلمت پڑے گا
تو پھر کیا کروگے! (مُراجعت)
یہاں نظمِ آزاد کے صوتی نظام میں فکری آفاق کی وسعتوں کا ادراک ہوتا ہے۔ پابند شاعری میں یہ وسعت پیدا کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا۔کیوں کہ وہاں قافیے اور ردیف کا التزام فکری رو اور شعورکی پرواز میں مانع ہوتا ہے۔
عارف عبدالمتین نے بھی فکری سطح کی بلندیوں کو چھونے کی کوشش کی ہے اور آزاد نظم کے صوتی نظام اور چھوٹے بڑے مصرعوں کی فنی جمالیات سے قصرِ شاعری تعمیر کرکے نعتیہ اقدار اجاگر کی ہیں:
وہ نور جس کو ازل سے انساں کی آنکھ ترسی
وہ نور جس کا وجود محسوس ہو رہا تھا
مگر جو نظروں کی زد سے باہر کہیں نہاں تھا
تری بصیرت کے صاف منشور سے جو گزرا
تو سات رنگوں میں ڈھل کر ابھرا
دھنک کی صورت
نگاہ کے راستے سے انساں کے دل میں اترا
(نور، منشور اور دھنک)
عارف عبدالمتین نے منشور کو حضورِ اکرم ﷺ کی بصیرت سے تعبیر کیا ہے۔نورِ وحدت جب نبیء کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی ذاتِ اقدس کے منشور سے گزرکر مخلوق تک پہنچا تب اللہ کی وحدت اس کی مخلوقات کی کثرت میں لونی عکس دکھانے لگی۔نظم کے اس چھوٹے سے ٹکڑے میںشاعر نے ازلی حقیقت کی تفہیم کی زمانی وسعت کو حضورِ اکرم ﷺ کے نورِ بصیرت یعنی نورِ رسالت سے ہم رشتہ کرکے دیکھا ہے۔شاعری میں سائنسی اصطلاح ’’ منشور ‘‘ کا استعمال بھی ندرت لیے ہوئے ہے۔ منشور کو انگریزی میں PRISM کہتے ہیں۔
سعید وارثی نے ہجرت کے سفر کی تلمیحاتی شان اجاگر کرتے ہوئے حضورِ اکرم ﷺ کے ان الفاظ کی روشنی میں تخلیقی سفر طے کیا ہے جن الفاظ کو خالقِ کائنات نے بھی قرآنِ کریم میں حوالے کے طور پر محفوظ فرمادیا ہے ۔ یعنی ’’لا تحزن‘ان اللہ معنا‘‘۔
ایک نظم کی چند لائنیں دیکھیے:
’’وہ ذات جس کے بھروسے پہ
گھر سے نکلے تھے
وہ ذات اپنی محافظ
وہ ذات اپنی کفیل
اٹھو کہ۔۔۔رحمتِ عالمؐ کے ساتھ ہو تم بھی
ڈرو نہیں کہ خدا ساتھ ساتھ ہے اپنے‘‘ [لا تحزن ان اللہ معنا]
نظم کی ان لائنوں میںنبیء کریم علیہ الصلوٰہ والتسلیم اور صدیقِ کائنات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مکالمے کا نور نظم کی لفظیات میں جھلکنے لگتا ہے اورشاعر کی تخلیقی رسائی کی داد دینی پڑتی ہے۔
اسی طرح سعید وارثی نے اپنی نظم ’’دشتِ طلب‘‘ میں حضورِ اکرم کی عنایات کے دائرے کی وسعتوں کا ادراک سمونے کی کوشش کی ہے:
جب کبھی دشت طلب، شہر اسیران وفا
ابر کرم کو ترسا
اے سمندر کے سکوں تو بھی گواہی دے گا
کہ سرابوں کو نہ تھا
تشنہ لبی کا شکوہ
اس طرح ان کی عنایات کا
بادل برسا
(دشت طلب۔۔۔ سعید وارثی)
ظہورِ نورِ نبوت کی بہجت، حیرت، رفعت ،اور اس ظہور کے مقصد کو تخلیقی زبان میں لکھنے کی کوشش میں سرشار صدیقی نے فنی اقدار کی جانکاری کا ثبوت بھی دیا ہے اور اپنی تخلیقی دانش کو ابدی سچائیوں سے بھی ہم کنار کردیا ہے۔ایک نظم کی چند لائنیں ملاحظہ ہو ں:
یہ دن وہ ہے
جس کے واسطے خالقِ جہاں نے
عدم کو نقشِ وجود بخشا
نفی کو اثبات
اور اخفا کو اعتبارِ نمود بخشا
جو غیب تھا
اس کو حکم ’’کُن‘‘ سے شہود بخشا
رکوع کو سرفرازیاں دیں
قیام کو استقامتِ عبدیت عطا کی
جبیں کو ذوقِ سجود بخشا
یہ دن وہ دن ہے
کہ وجہِ تخلیقِ دوجہاں کا ورود ہوگا
ورود ہوگا
تو ہم سے بے راہ و کم عقیدہ
گناہگاروں کا ذکر ہی کیا
کہ انبیاء انؐ کے خیر مقدم کو
صف بہ صف ایستادہ ہوں گے
اور ان کے لب پر درود ہوگا
سلام ہوگا
سلام اُنؐ پر
درود اُنؐ پر
فدا ہمارا وجود اُنؐ پر [ظہور]
شرف الدین شامی نے مدینہ منورہ میں حاضری اور حضوری کی کیفیات کو نظمِ آزاد کے پیکر میں سمونے کی کوشش کی ہے۔وہ لکھتے ہیں:
عبودیت نشاں سجدہ گہہِ ختم الرسلؐ ہے
دوسرے کلمے کی نصف آخر
شہادت کی امیں محرابِ نوریں
زبانِ حال سے یہ کہہ رہی ہے
کہ تاحینِ ابد سارا زمانہ آپؐ کا ہے
نسلِ فردا، مقتدی ہے
(مصلائے نبویؐ پر)
مسجدِ نبوی میں شرف الدین شامی کی موجودگی نے اس کے احساسات میں جو تموج پیدا کیا اس کا والہانہ اظہار ایک تخلیقی معجزے کی صورت آزاد نظم کی لائنوں میں ڈھل گیا ہے۔ملاحظہ ہو:
مرے اطراف
عہدِ رحمت للعالمینی کی
ہوائیں چل رہیں ہیں
اور مناظر جاگتے ہیں
یوں کہ جیسے
عہدِ ماضی کے سب اکنافِ مدینہ
حال کی مسجد میں شامل ہوگئے ہیں
آنے والے اور سب کے سب زمانے
اسی دھارے میں آکر مل گئے ہیں
(باز آمد)
رحمۃ ٌ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ بابرکت ہی کائنات میں وہ واحد ذات ہے جس کی وساطت سے خالقِ کائنات کی رضا کے باب کھلتے ہیں۔ مسلمانوں پر زوال و ادبار کی نحوست کا عکس پڑتے ہوئے دیکھ کر ظہور نظر نے حضورِ اکرم ﷺ سے دعا کی درخواست کی ہے۔وہ کہتے ہیں:
تمام دنیائوں ، سب جہانوں میں آپ ﷺ سے بڑھ کر
کوئی پیارا نہیں خدا کا
کوئی دلارا نہیں خدا کا
خدا سے کہیے!
خدارا، اپنے بزرگ و برتر خدا سے کہیے!
کہ ہم کو پھر سے آپ ﷺ کے دین پہ
آپ ﷺ کے نقش پا پہ چلنے کی استقامت دے
استقامت دے
حوصلہ دے!
حضورِ اکرم ﷺ کی عظمتوں، رفعتوں اور رسالت کی آفاقی حقیقت کو تسلیم کرنے کے ثمرات گنانے کی کوشش میں بھی شبنم رومانی نے تخلیقی جوہر کشید کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذرا ملاحظہ ہوں ان کی نظم ’’حرفِ نسبت‘‘کی چند لائنیں:
جس نے دیکھا انہیںﷺ
اس کی بینائی کے واہمے دُھل گئے
اس پہ آفاق کے سب ورق کھل گئے
جس نے مانا انہیں
اپنے پیکر میں شہر یقیں ہوگیا
جس نے جانا انہیں ﷺ
جہل بھی اس کا علم آفریں ہو گیا
جس نے چاہا انہیں ﷺ
اس کی چاہت بقا کی نگارش بنی
اس پہ دن رات پھولوں کی بارش ہوئی
جس نے چاہا انہیں ﷺ
اس کو چاہا گیا
اس کی دہلیز تک ہر دوراہا گیا
جاذب قریشی نے بھی آزاد نظم کے میڈیم کو فکری اپج اور تخلیقی نہج دیتے ہوئے حضورِم اکرم ﷺ کی مدح کی ہے۔ ان کی نظم ’’لوحِ جاں ‘‘ کی چند سطریں دیکھیئے:
تیری آواز تھی روشنی کا سفر
برف پگھلی تو سورج چمکنے لگا
تونے صحرا کی اڑتی ہوئی ریت کے درمیاں
بے چراغاں زمینوں پہ گھر رکھ دئیے
تیری چھائوں میں زخمی بدن آگئے
تو نے دریا میں پیاسے شجر رکھ دئیے
محمود شام نے اپنی نظم میں قرآنی حکم ’’قل العفو‘‘ کی معنوی تنویر کو عملی اظہار کی تمنا کے ساتھ رقم کرکے نعتیہ اقدار کی پاسداری کی ہے:
اس ﷺ کا پیغام
قل العفو کہ سب بانٹ کے کھائیں، پہنیں
کوئی بھوکا نہ رہے، کوئی برہنہ بھی نہ ہو
ایک بھائی سے کسی بھائی کو ایذا نہ ملے
آج میں سوچتا ہوں، دیکھتا ہوں، سوچتا ہوں
روشنی پاس ہے، ہم پھر بھی ہیں ظلمت کے اسیر
ہم ترا نام تو لیتے ہیں مگر تیرا پیام
ٍ کس قدر پیار سے طاقوں پہ سجا رکھا ہے (شام۔۔۔ محمود شام)
محمد فیروز شاہ نے اپنی نظم ’’شفیق آقاﷺ‘‘ میں نظمِ آزاد کی ھیئت کو نعتیہ اقدار سے جگمگادیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
شفیق آقا ﷺ
سبھی زمانوں پہ تیری رحمت کے ابر پارے
تمام رستوں پہ تیرے لفظوں کے دیپ روشن
ہر ایک لمحے میں تیرے لہجے کا لوچ نکھرے
تجھی سے نسبت بشارتوں کا جواز ٹھہری
تری شبوں کا گداز نور سحر کا ضامن
تری دعائیں
اداس لمحوں میں زرد بچوں کو گود لیتی شفیق مائیں
اطہر نفیس نے بھی اپنی تخلیقی دانش کو فن پارے کی تشکیل میں بھرپور طریقے سے استعمال کیا ہے اور نعتیہ آہنگ میں انفرادیت کا جوہر شامل کرنے کی کوشش کی ہے:
سلام اس ﷺ پر
جو بے نوائوں کا آسرا ہے
جو سارے عالم کی ابتداء ہے
جو سب زمانوں کی انتہا ہے
سلام اس ﷺ پر
جو راہ حق پہ بلارہا ہے کہ رہنما ہے
جو سب کو حق سے ملارہا ہے، کہ حق نما ہے (کہ حق نما ہے۔۔۔ اطہر نفیس)
وضاحت نسیم نے اپنی آزاد نظم کو نعتیہ خوشبو میں بساتے ہوئے ’’اذنِ سفر‘‘ کی بہجت سے لفظوں کو اجالا ہے۔ وہ کہتی ہیں:
آسماں رنگوں کی آمیزش بدلتا جارہا ہے
پہاڑوں کے بہت سے سلسلوں کے بیچ لمبے راستے پر
ہوا نے ہلکی بارش سے وہ چھڑکائو کیا ہے
کہ ذہن و دل ابھی سے
خوش بوئے خاک مدینہ سے معطر ہوگئے ہیں
ابھی تو وہ مقام آیا نہیں ہے
جہاں میرے نبی ﷺ کا جسم اطہر
سراپا نور و نکہت بن کے صدیوں سے ابھی تک
دو عالم پر کرم فرمارہا ہے (اذن سفر۔۔۔وضاحت نسیم)
ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی نے کائنات کی ماوارئی حقیقتوں کے مفاہیم کے ادراک کو صدقہء وجودِ با جود حضرت محمد مصطفیٰ ْﷺ ہی کو جاناہے اور اس احساسِ سپاس کو نظمانے کی کوشش کی ہے:
عرش
کرسی اور مکاں
کائنات
کتنے بڑے ہیں۔۔۔یہ لفظ
اور ان کے مفاہیم۔۔۔ ہمارا اور کائنات کا مقدر ہیں
ہم ہیں۔۔۔ یہ لفظ بھی ایسے ہی ہیں
مگر ان کا کوئی مفہوم نہ ہوتا
یہ لفظ۔۔۔ موتی سے خالی صدف کی طرح ہوتے
اگر محمد ﷺ نہ ہوتے
محمد ﷺ۔۔۔ ان سب لفظوں کا مفہوم ہیں
سلام ان ﷺ پر ۔۔۔ درود ان ﷺ پر (ڈاکٹر سید ابوالخیر کشفی)
فکر ِ انسانی کے سمندر میں انقلابات کی امواج کا سرچشمہ کیا ہے ؟ اس حقیقت کو جان کر اس کے اظہار کے لیے احمد صغیر صدیقی نے نبیء اکرم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی ذاتِ والا صفات کی مدح کرنے کی کوشش کی ہے:
اور یہ خوش بو بکھرتی رہی قریہ قریہ
اور افق تا بہ افق
سیل صدا، موج صبا بن کے بڑھا
اس ﷺ کے ہونٹوں سے کھلے لفظ
شعائوں جیسے
جاگتی، بولتی ، زندہ سوچیں
ذہن انساں میں اٹھانے لگیں طوفان نئے
ایسے طوفان
کہ بت سارے زمیں بوس ہوئے(احمد صغیر صدیقی)
حضور رسالت مآب ﷺ کی دنیا میں آمد سے قبل انسان کی فکری بے چینی اور آپ ﷺ کی آمد سے انسانیت کو حاصل ہونے والے ثمرات کے تخلیقی انداز میں اشارے کرنے کی مؤثر کوشش نے تحسین فراقی کی نظم ’’میلادِ حضورﷺ‘‘ کی ان لائنوں کو لائقِ حوالہ بنادیا ہے:
برہنہ پا قافلے بیابان بے اماں میں
بھٹک رہے تھے، بھٹک رہے تھے
نہ کوئی چشمہ، نہ کوئی سایہ نہ کوئی زاد سفر رہا تھا
بشر کہ مرمر کے جی رہا تھا، بشر کہ جی جی کے مر رہا تھا
عجیب آشوب حشر آثار چھا رہا تھا
بشر خود اپنی ہی آگ میں کسمسا رہا تھا۔۔۔ کہ دفعتاً پو پھٹی
کہ شہر بطحا کی ریگ در ریگ سرزمیں پر
بسیط فاراں کی چوٹیوں سے
طلوع مہر منیرو انور کے ساتھ ہی تابشوں کے سیل ہزار پہلو نکل کے لپکے(میلاد حضور ﷺ ۔۔۔ تحسین فراقی)
امجد اسلام امجد نے اپنے اداس لمحوں کو حضورِ اکرم ﷺ کے نام کی خوشبو سے بہجت آشنا کرنے اور سفر کو آسان بنانے کا وسیلہ قرار دیا ہے۔ احساس کی شدت اور اظہار کی طرفگی نے ان کی آزاد نظم کو دیارِ فن اور ملکِ تقدیس میں دور تک روشنی پھیلانے کا میڈیم بنادیا ہے۔
اداسی کے سفر میں جب ہوا رک رک کے چلتی ہے
سواد ہجر میں ہر آرزو چپ چاپ جلتی ہے
کسی نادیدہ غم کا کہر میں لپٹا ہوا سایہ
زمیں تا آسماں پھیلا ہوا محسوس ہوتا ہے
گزرتا وقت بھی ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے
تو ایسے میں تری خوشبو
محمد مصطفی ﷺ صل علیٰ کے نام کی خوشبو
دل وحشت زدہ کے ہاتھ پر یوں ہاتھ رکھتی ہے
تھکن کا کوہ غم ہٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے
سفر کا راستہ کٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے
(امجد اسلام امجد)
صبیح رحمانی نے نعتیہ اقدار کو اس طرح اپنایا ہے کہ ان کا فن ہر زاویئے سے ’’نبی نبی ﷺ‘‘ کی پکار کی علامت بن گیا ہے۔ آزاد نظم میں بھی ان کا تخلیقی رویہَّ حرفِ مدحت کی رفعتوں کا امین بن کر ابھرتا ہے:
مجھے یقیں ہے
وہ سن رہے ہیں نگاہ خاموش کی صدائیں
دکھوں سے بوجھل مری نوائیں
وہ جانتے ہیں
ہزار ہا درد و غم کی شمعیں
فسردہ سینوں میں جل رہی ہیں
یہ جسم وجاں جو شکست خوردہ ہیں سوچتے ہیں
غم والم کی جو دھوپ پھیلی ہوئی ہے اس میں
کرم کے بادل سروں پہ اک سائباں بنانے
دیار رحمت سے کیوں نہیں اٹھ سکے ابھی تک
مجھے یقیں ہے
اور اس یقیں پر حیات امروز کا تسلسل
حیات فردا کی خوش دلی کی طرف رواں ہے
یہ دور جبروستم بہت جلد دور ہوگا
محبتوں کا ظہور ہوگا
کرم نبی کا ضرور ہوگا (دھوپ میں تلاش سائباں۔۔۔صبیح رحمانی)
نعتیہ شاعری میں موضوعات کی بے کرانی کا اندازہ لگانا نا ممکن ہے۔ اس بے نہایت کائنات میں توصیفِ پیمبر علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اپنے احساسات کی کہکشاں کا لا متناہی سلسلہ اس طور ظاہر ہوتا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ حمیرا راحت نے آزاد نظم میں اپنے نسائی جذبات کی رنگ آمیزی سے نعتیہ اقدار کا موضوعاتی دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کی ہے۔ذرا ان کی دو نظموں کی چند لائنیں ملاحظہ کیجیے:
سڑک کی کیا حقیقت ہے
اک ایسا بے حس و بے جان سا رستا
کہ جو ہر اک مسافر کو ملا دیتا ہے منزل سے
بس اس سے بڑھ کے اس کی کیا فضیلت ہے
مگر میں جب مدینہ میں تھی
تو سونے سے پہلے رات کو
ہوٹل کی کھڑکی سے
سڑک کو دیکھتی اور سوچتی
یہ ایک سیدھی سی سڑک جو میرے آقا کے
درِ اقدس پہ جاکر ختم ہوتی ہے
یہ ہے خوش بخت کتنی!!!
……………پھر اک دن یوں ہوا
میں سوچ میں گم تھی
مجھے ایسا لگا جیسے
کہ اس سیدھی سڑک کی دونوں آنکھیں
آنسوؤں سے بھر گئی ہوں
وہ اک نادیدہ غم سے ہوکے بوجھل کہہ رہے ہو
میں کہاں خوش بخت ہوں بی بی
مرے دکھ کو کسی نے آج تک جانا نہیں
میں کیسے سمجھائوں
کہ میں تم سب کو لے جاتی ہوں ان کے در پہ
لیکن خود کبھی در تک نہیں پہنچی(سڑک)
اس نظم میں شاعرہ نے سڑک کی علامت کو نسائی المیے سے جوڑ کر دیکھا ہے کیوں کہ حضورِ اکرم ﷺ کے روضہء پاک تک مستورات کی بھی رسائی نہیں ہوتی ہے۔ وہ نہیں جانتیں کہ مواجہہ شریف کیسا ہے ؟………پھر اس دکھ کا اظہار ایک ایسی نظم میں ہوا جس میں ایک تلخ حقیقت کا اظہار شاعرہ کے احتجاج میں ڈھل گیا۔ ملاحظہ ہو ایک نظم جس کا عنوان ہے ’’خطا‘‘:
’’تمہاری حد یہیں تک ہے‘‘
وہ عورت جس کے چہرے پر
فقط آنکھیں ہی دکھتی تھیں
بہت مغرور لہجے میں مجھے سمجھا رہی تھی
کیوں؟
نہ جانے کیسے
وہ اک لفظ جس کا وِرد
ساری زندگی کرتی رہی تھی
اس گھڑی بھی لب پہ میرے آگیا
اور اس نے مجھ کو گھور کر دیکھا
کہا کچھ بھی نہیں لیکن
نگاہیں صاف کہتی تھیں کہ
کیا لاعلم ہو اس بات سے
تم ایک عورت ہو؟
کوئی عورت درِ آقا کو
اندر جاکے چھوسکتی
نہ اس کو دیکھ سکتی ہے
دعا کے حرف اشکوں میں بھگو کر
روضہء اقدس پہ رکھ دے
یہ نہیں ممکن
میں شُرطی ہوں مگر…… میں بھی نہیں

اس کی سنہری سبز آنکھوں میں
عجب غم ناک سی گہری نمی جاگی
جو میرے سامنے دیوار تھی
میں اس پہ اپنے ہاتھ رکھ کر رو پڑی
آقا……مرے آقا
میں عورت ہوں
مگر اس میں مری اپنی خطا کیا ہے؟

آزاد نظم کا جوہر‘ ان ثانوی تخلیقات میں بھی کھلتا ہے جو دیگر زبانوں کی شاہکار نعتوں کے منظوم تراجم کی صورت میں سامنے آئی ہیں۔ ڈاکٹر شان الحق حقی نے گوئٹے کی نعتیہ نظم ’’نغمہء محمدی ﷺ‘‘ کا ترجمہ بھی نظمِ آزاد کی ھیئت میں کیا تھا۔ اس کی چند لائنیں دیکھیے:
وہ پاکیزہ چشمہ جو اوجِ فلک سے چٹانوں پہ اترا
سحابوں سے اوپر بلند آسمانوں پہ جولاں ملائک
کی چشمِ نگہداشت کے سائے سائے
چٹانوں کی آغوش میں عہدِ برنائی تک جوئے جولاں بنا
چٹانوں سے نیچے اترتے اترتے
وہ کتنے ہی صد رنگ، انگھڑ خزف ریزے
آغوشِ شفقت میں اپنی سمیٹے
بہت سے سسکتے ہوئے، رینگتے، سست، کم مایہ سوتوں کو
چونکاتا، للکارتا، ساتھ لیتا ہوا، خوش خراماں چلا
بے نمو وادیاں لہلہانے لگیں
پھول ہی پھول چاروں طرف کھل اٹھے
جس طرف اس کا رخ پھر گیا
اس کے فیضِ قدم سے بہار آگئی (’’SONG OF MUHAMMAD …نغمہء محمدی ﷺ‘‘ گوئٹے۔ مترجم شان الحق حقی )

آزاد نظم کے یہ چند ایک نعتیہ مرقعے پیش کرنے سے ظاہر ہوا کہ جو فنی رچاؤ اور پرکشش بیانیہ ان نظموں کی صورت میں تخلیق ہوا ہے …… وہ مضامین کے تنوع اور احساس کی اس قدرشدت کے ساتھ پابند شاعری میں تخلیق کرنا دشوار تھا۔
ڈی ایچ لارنس نے کہا تھا ’’آزاد نظم ، پابند نظم سے زیادہ مشکل ہے اور مکمل طور پر آزاد بھی نہیں ہے‘‘……(اردو میں نظمِ معرا اور آزاد نظم، ص۱۴)
میں نے اس مقالے میں آزاد نظم کے جتنے نمونے پیش کیے ہیں ان کی قرا ء ت سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ نظمِ آزاد مکمل آزاد نہیں ہے بلکہ اس میں بعض صورتوں میں نظم کے دو ایک مصرعے کسی ایک بحر کا وزن رکھتے ہیں بعض جگہ ہر مصرع یا نظم کی ہر لائن، الگ الگ وزن رکھتی ہے جس کو کسی نہ کسی بحر کے متعینہ پیمانے سے ناپا جاسکتا ہے۔
نعتیہ شاعری میں نظمِ آزاد کی ھیئت کا استعمال ، تخلیقی سطح پر اس مقدس صنف کے ادبی منظر نامے کی وسعتوں کی علامت ہے۔اسی لیے میں نے آج کے لیے اس موضوع کو اپنی گفتگو کا محور بنانے کی کوشش کی ہے۔
موضوع بہت اہم اور بڑا وسیع ہے۔لیکن وقت کی تنگ دامنی اس پر سیر حاصل گفتگو کرنے اور موضوع کے مختلف ابعاد کی طرف دھیان دینے میں مانع ہے۔ اس لیے انہی معروضات پر اکتفا کرتا ہوں۔ہوسکتا ہے بتوفیقِ الٰہی کبھی اس عنوان پر اپنی تفصیلی رائے پیش کرسکوں!

’’حلقہء اربابِ ذوق ‘‘……کا اختصاصی نصب العین ’’فروغِ ادب‘‘ ہے ۔ رمضان شریف میں اس حلقے کے ذمہ داران نے نعتیہ موضوع پر گفتگو کا در وا کیا۔اس پر حلقے کے تمام اراکین میرے شکریے کے مستحق ہیں۔ اللہ انہیں خوش رکھے( آمین)!
والسلام مع الاکرام
عزیزؔ احسن
اتوار:۷؍رمضان المبارک ۱۴۳۵ھ؁
مطابق:۶ ؍جولائی ۲۰۱۴ء
نوٹ: یہ مضمون حلقہء اربابِ ذوق کی تنقیدی نشست میں ۶؍جولائی ۲۰۱۴ء؁ کو آرٹس کونسل پاکستان[کراچی] میں پڑھا گیا۔