آسماں والے مجھے اس لئے تو زر دینا کہ مجھے سہل ہو ہر دستِ تہی بھر دینا

ہوش نعمانی۔ رام پور

آسماں والے مجھے اس لئے تو زر دینا
کہ مجھے سہل ہو ہر دستِ تہی بھر دینا

اے خدا میں جو حقارت سے کسی کو دیکھوں
تو مری آنکھ کو محرومِ نظر کردینا

جب غرور اترے مرے ذہن کی انگنائی میں
میرے مالک تو مجھے موت کا بستر دینا

جس سے ہوکر میں ترے رحم و کرم تک پہنچوں
آسماں والے مجھے ایسا کوئی در دینا

مجھ کو شہرت کی تمنا ہے نہ دولت کی طلب
اپنی رحمت سے تو دامن کو مرے بھر دینا

جسم اور جاں کا سفر ختم ہو جس دن یا رب!
ہوشؔ کو اس کے گناہوں کا نہ دفتر دینا