آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے بادلو! ہٹ جائو دے دو راہ جانے کے لئے

آغا حشر کاشمیری

 

آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے
بادلو! ہٹ جائو دے دو راہ جانے کے لئے

اے دعا! ہاں عرض کر عرشِ الٰہی تھام کے
اے خدا! اب پھیر دے رخ گردشِ ایام کے

ڈھونڈتے ہیں اب مداوا سوزشِ غم کے لئے
کر رہے ہیں زخمِ دل فریاد مرہم کے لئے

صلح تھی کل جن سے اب وہ بر سرِ پیکار ہیں
وقت اور تقدیر دونوں در پئے آزار ہیں

رحم کر اپنے نہ آئینِ کرم کو بھول جا
ہم تجھے بھولے ہیں لیکن تو نہ ہم کو بھول جا

اک نظر ہوجائے آقا! اب ہمارے حال پر
ڈال دے پردے ہماری شامتِ اعمال پر

خلق کے راندے ہوئے، دنیا کے ٹھکرائے ہوئے
آئے ہیں اب تیرے در پہ ہاتھ پھلائے ہوئے

خوار ہیں، بدکار ہیں ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں
کچھ بھی ہیں لیکن ترے محبوبؐ کی امت میں ہیں

حق پرستوں کی اگر کی تونے دلجوئی نہیں
طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں