آیتوں کی جب تلاوت کیجیے آپ کی ہر دم زیارت کیجیے

آیتوں کی جب تلاوت کیجیے
آپ کی ہر دم زیارت کیجیے
گر کیا مہجور اس قرآن کو٭۱
پھر نہ آقا سے شکایت کیجیے
جس کی الفت دین کی بنیاد ہے
اُس نبی کی دل سے چاہت کیجیے
اُن کے نامِ پاک پر مر جائیے
موت کو فخرِ شہادت کیجیے
اُستوار عہدِ اِطاعت کیجیے
کامرانی کی وہ صورت کیجیے
ابتدا اسلام کی کیسے ہوئی؟
یاد غُربت کی مَسافت کیجیے
اہلِ حق پر جو اُترتی ہے سَدا
پھر وہی ہم پر سکینت کیجیے٭۲
آپ اور اصحاب کا اُسوہ ہے یہ
دشمنانِ دیں پہ شدّت کیجیے٭۳
رحم ہو آپس میں گویا اِس طرح
گر لڑے کوئی توحیرت کیجیے
باہمی اُلفت رہے کچھ اس قدر
غیرمانے وہ اخوت کیجیے
مزرعِ اسلام کوپھر سینچ کر
قلبِ کافر پر قیامت کیجیے
ہاتھ ہے جن کا مرے اللہ کاہاتھ
ایسے ہاتھوں پر ہی بیعت کیجیے٭۴
فیصلہ کُن انقلاب آنے کو ہے
پیش دعوے پر شہادت کیجیے
اپنے ایماں اور اپنے دین کی
بدنظر سے پھر حفاظت کیجیے
حق پرستی کی سزا کیوں کر ملے؟
آگے بڑھئیے اور جرأت کیجیے
حق نے باطل کو مٹایا جس طرح
پھر اُسے زندہ حقیقت کیجیے

جس کی حُرمت پر فدا یہ جان ہے
اُس نبی کی دل سے عزت کیجیے٭۵
ان کی ہستی پر جو سبقت کیجیے
مُسترد ہے، گو عبادت کیجیے٭۶
صوت پر ان کی ترفّع جُرم ہے
نیکیوں کو یوں نہ غارت کیجیے٭۷
رب کا بھی ارشاد ہے لاتجھروا
کیوں عمل اپنا اکارت کیجیے٭۸
ان کے رب نے کب پکارا نام سے؟
آپ مت ایسی جسارت کیجیے٭۹
جب بُلائیں آپ کو آقا حضور
حاضری میں پھر نہ غفلت کیجیے٭۱۰
جلوۂ صد رنگ ہو پیشِ نگاہ
پھر عطا چشمِ بصیرت کیجیے

==========================
حوالہ جات
٭۱۔ الفرقان/۳۰
٭۲۔ الفتح/۴
٭۳۔ الفتح/۲۹
٭۴۔ الفتح/۱۰
٭۵۔ التوبہ/۱۲۰
٭۶۔ الحجرات/۱
٭۷۔ الحجرات/۲
٭۸۔ الحجرات/۲
٭۹۔ الاحزاب/۱، المائدہ/۴۱۔۶۷
٭۱۰۔ النور/۶۳

 

=================

محمد شکیل اوج (کراچی)