اپنے تو ہے ہر غم کی دوا شہرِ نبی میں

اپنے تو ہے ہر غم کی دوا
شہرِ نبی میں
لے جائے کبھی ہم کو خدا
شہرِ نبی میں
تا عمر وہ بھولا نہیں پھر
شہرِ نبی کو
اِک پل بھی اگر کوئی رہا
شہرِ نبی میں
جو اور کہیں جا کے ملی ہے
نہ ملے گی
تسکین وہ ہوتی ہے عطا شہرِ
نبی میں
سو بار فدا ایسی قضا پر
میرا جینا
آجائے اگر مجھ کو قضا شہرِ
نبی میں
آنے کو ترستا ہے کوئی بے
سر و ساماں
لے جا مرا پیغام صبا شہرِ
نبی میں
یہ شہر ہے جس سے کوئی خالی
نہیں آتا
بن مانگے بھی ہوتا ہے عطا
شہرِ نبی میں
اشعار میں اپنے سبھی آقا
کوسنائوں
نعتیں میں پڑھوں جا کے ضیاؔ
شہرِ نبی میں
سیّد ضیاء محی الدین گیلانی
(ہڑپہ
)