اک تو باقی فانی سب، میرے اللہ میرے رب

قاضی رئوف انجمؔ

اک تو باقی فانی سب، میرے اللہ میرے رب
تیری ہر تخلیق عجب،میرے اللہ میرے رب

راز تھا ہر شے پر طاری، جسم سے ہر شے تھی عاری
بس تھی تیری ذات ہی تب،میرے اللہ میرے رب

اللہ، واحد تیری ذات، بے گنتی ہیں تیری صفات
اور الٰہی تیرا لقب، میرے اللہ میرے رب

از اول تا آخر تو، جزو میں کل میں ظاہر تو
توہی تو ہے تب اور اب، میرے اللہ میرے رب

یہ جو چاند ستارے ہیں، تیرے صرف اشارے ہیں
حکمت تیری،روزوشب، میرے اللہ میرے رب

حرف اور الفاظ ترے،قاری اورحفاظ ترے
سب میں ہے ملحوظ ادب، میرے اللہ میرے رب

انجمؔ تیرا بندہ ہے، وہ بھی حسرت رکھتا ہے
دوبارہ پہنچادے عرب، میرے اللہ میرے رب