اے بندہ نواز، کار سازا محتاج ہیں سارے تو ہے داتا

حافظ لدھیانوی (پاکستان)

اے بندہ نواز، کار سازا
محتاج ہیں سارے تو ہے داتا

کیا عقل ہے کیا شعور میرا
ہر ذرّے میں ہے ظہور تیرا

غنچہ میں کلی میں، تیری خوشبو
مشکیں ہیں تجھی سے نافِ آہو

خالق ہے زمین و آسماں کا
مالک ہے متاعِ جسم و جاں کا

انوار ترے ہیں بحر و بر پر
موجیں تری، ترے لعل و گوہر

دیتا ہے جمال آب و گل کو
نغموں سے بھرا ہوا ہے دل کو

دل میرا ہے کائنات تیری
ہر دل میں بسی ہے ذات تیری

روشن ہیں تجھی سے چاند تارے
تونے ہی نقش سب سنوارے

کیا تارے جڑے آسماں میں
کیا پھول کھلائے گلستاں میں

ہر پھول کا مختلف لبادہ
رنگیں ہے کوئی، تو کوئی سادہ

جو پھول کہ شاخ پر کھلا ہے
آئینہ ترے جمال کا ہے

خورشید تجھی سے ہے ضیاء بار
ہر شئے سے عیاں ہیں ترے انوار

آباد جہاں ترے کرم سے
دیتا ہے نجات تو ہی غم سے

تو وجہِ قرار زندگی ہے
تو مرکزِ ذوقِ بندگی ہے

ہے ذات تری جہاں میں یکتا
ہے کون جو ہو شریک تیرا

کیا حمد بیاں ہو مجھ سے تیری
میں کیا ہوں بساط کیا ہے میری