اے خدا اے مالکِ کون و مکاں رحم کرنے والا ہے تو مہرباں

مہدی ؔ پر تاپ گڑھی

اے خدا اے مالکِ کون و مکاں
رحم کرنے والا ہے تو مہرباں
غنچہ و گل میں ہے تیرا ہی ظہور
نور سے تیرے ہی روشن ہے شعور
گنگناتی بوند میں تو آشکار
ماہ و انجم ہیں ترے آئینہ دار
نکہتِ گل ہو کہ روئے کہکشاں
تو کرے ہے عطر و بار و ضو فشاں
تو ہماری آنکھ سے مستور ہے
کون کہتا ہے تو ہم سے دور ہے
تیرے در پہ آئے ہم خانہ خراب
کھول دے ہم پر بھی تو رحمت کے باب
ہم کو نسبت ہے حضور پاک سے
تیرے پیارے سے شہِ لو لاک سے
ہم پہ برسا لطف و رحمت کا سحاب
کر عطا اپنی عنایت کے گلاب
اے خدا قعرِ مذلّت سے نکال
کر دے ہر زخمِ نہاں کا اندمال
باریِ برحق کے رستے پر چلا
ہم کو گمراہی کی لعنت سے بچا
راہِ احمد چھوڑ کے بھٹکے بہت
زندگی میں کھائے ہیں جھٹکے بہت
وادیٔ غفلت میں آکر کھو گئے
چھوڑ کر در تیرا رسوا ہوگئے
دیکھتے ہیں خود کو ذلت میں پڑے
ہاتھ ملتے ہیں تاسف سے کھڑے