اے خدا تجھ کو نبیؐ کا واسطہ دائمی اس روشنی کا واسطہ

رحمن خاور

اے خدا تجھ کو نبیؐ کا واسطہ
دائمی اس روشنی کا واسطہ
حال پر میرے بھی تو کردے کرم
دسترس میں ہے تری ہر چشمِ نم
حال ابتر ہے زمانے کا مرے
رخ بدل دے تو فسانے کا مرے
میری جانب کر کوئی چشمِ عطا
کون ہے اتنا سخی تیرے سوا
اے خدا اے عاشق خیرالانامؐ
میں توجہ چاہتا ہوں صبح و شام
کرتا ہے تو اپنے سب بندوں سے پیار
اور مجھ پر زندگی ہے اپنی بار
میں طلب گارِ عنایت ہوں ترا
گویا کہ ہر ایک ساعت ہوں ترا
میرے بچوں اور مجھ پر لطف کر
کردے غم کی شب کو خوشیوں کی سحر
تیرا خاور بندۂ بے دام ہے
روز و شب تجھ سے ہی اس کو کام ہے