اے خدا تیری عظمت کا کیا ہو بیاں‘ تیرے اک لفظِ کن سے ہے سارا جہاں

حمد
باری تعالیٰ
اے
خدا تیری عظمت کا کیا ہو بیاں‘ تیرے اک لفظِ کن سے ہے سارا جہاں
تو
یہاں تو وہاں‘تو عیاں تو نہاں‘تیرے اک لفظِ کن سے ہے سارا جہاں
تیری
عظمت بتائی نبی نے ہمیں‘تیری وحدانیت پر یقیں ہے ہمیں
سب
کا خالق ہے تو جتنے ہیں انس و جاں‘ تیرے اک لفظِ کن سے ہے سارا جہاں
ہر
نفس میں ثنا تیری کرتا رہوں‘ تیرے احکام پر ہی میں چلتا رہوں
حمد
لکھتا رہوں دم بہ دم میں یہاں’تیرے اک لفظ ِکن سے ہے سارا جہاں
ارض
کعبہ کو بھی ارض طیبہ کو بھی‘ دیکھ لوں آنکھ سے ہے تمنا مری
ہو
عنایت تری میں وہاں دوں اذاں‘ تیرے اک لفظٍ کن سے ہے سارا جہاں
تیری
وحدانیت میرا ایمان ہے‘ میرے پیش نظر صرف قرآن ہے
دے
ہدایت مجھے میں رہوں خوش گماں‘ تیرے اک لفظ ِکن سے ہے سارا جہاں
دل
میں روشن نبی کی ہو قندیل بھی‘ تیری حمد و ثنا کی ہو تکمیل بھی
کلمئہ
حق ہو خوشدلؔ کو بس حرزِ جاں‘تیرے اک لفظِ کن سے ہے سارا جہاں
۰۰۰
فرحت حسین خوشدل