اے مالک کل دیکھ یہ بندہ تیرا سو جان سے ہے عاشق و شیدا تیرا

جمیل اختر عظیم آبادی (کراچی)

اے مالک کل دیکھ یہ بندہ تیرا
سو جان سے ہے عاشق و شیدا تیرا
ہر چند کہ مستور ہے نظروں سے مگر
ہر شے سے ہویدا ہے اجالا تیرا

موسیٰ کے لئے طور پہ جلوہ تو ہے
ہم سب کے لئے ایک معما تو ہے
اللہ رے محبوب نوازی تیری
بیباک سر عرش ہویدا تو ہے

یہ ارض و سما ایک اشارہ تیرا
حد کوئی نہ تیری نہ کنارا تیرا
اس گھور اندھیرے میں صداقت کے لئے
ہے شمع کی مانند سہارا تیرا

ٹوٹی ہوئی کشتی کا سہارا تو ہے
طغیانیٔ دریا میں کنارا تو ہے
ہر دورِ مصیبت میں یہ دیکھا ہم نے
حامی و مددگار ہمارا تو ہے