اے کہ ہیں ترے اشارے دونوں نابود اور بود اے کہ تیری ذات مطلق لا حدوث و بے حدود

پنڈت گوپی ناتھ امنؔ لکھنوی

اے کہ ہیں ترے اشارے دونوں نابود اور بود
اے کہ تیری ذات مطلق لا حدوث و بے حدود
اے تیرے حرفِ اول سے ہے عالم کا وجود
سب میں ہے سب سے جدا ہے تیری قدرت کا نمود
ذرّہ ہے خورشید انور تیرے نورِ پاک کا
راہ میں تیری قدم پڑتا نہیں ادراک کا
تیری قدرت ہے وہ عقدہ جو کبھی کھلتا نہیں
عقل اور فہم کا دخل اس جگہ اصلا نہیں
ہے خرد عاجز رسائی کا اسے یارا نہیں
کون ہے جو راہ میں تیری جبیں فرسا نہیں
جانتے ہیں رند دل سے منبع مستی تجھے
فلسفی سمجھے ہوئے ہیں مرکز ہستی تجھے
عرصۂ ہستی میں جو کچھ ہے تماشہ ہے ترا
جلوہ گاہ دہر میں جو کچھ ہے جلوہ ہے ترا
رنج وغم عیش ومسرت سب یہ ایما ہے ترا
صد مبارک ہے وہ سر جس سر میں سودا ہے ترا
جو ترا ساجد ہے ہر عالم میں وہ مسجود ہے
قابلِ تعظیم ہے دل جس کا تو معبود ہے
تیری قدرت کے نمونے ہیں یہ سب دشت وجبل
جلوہ دکھلاتے ہیں تیرا چاند سورج برمحل
آفریں ہے صنعتوں پہ تیری صناعِ ازل
نقش لاثانی ترے‘ نقاش ہے تو بے بدل
دیکھتے ہی دیکھتے سب دیدے حیران ہوگئے
حل عقدہ کے جو شائق تھے پشیماں ہوگئے
کہتے ہیں سب تجھ سے ہے پھر کہتے ہیں سب تو ہی تو
عابد وزاہد کے دل میں ہے تری ہی آرزو
رند تو ہی‘ تو ہی ساقی‘ تو ہی مینا و سبو
ہے کہیں شکلِ خزاں میں خود کہیں جوشِ نمو
کچھ پتہ بتلاتے ہیں سالک تری سرکارکا
گو مگو مضمون ہے یارا نہیں گفتار کا