بلاوا عرش سے ہوا ہے جب مرے حضور کا تو سامنا ہو اہے نور سے نبی کے نور کا

بلاوا عرش سے ہوا ہے جب مرے حضور کا
تو سامنا ہو اہے نور سے نبی کے نور کا

ہے کیف میرے ذہن میں درود آںحضور کا
دماغ عرش پر ملا مجھے مرے سرور کا

اذاں ہوئی ہے جب ‘ ہمیں نبی قریب جاں ملے
تصور اپنے ذہن میں کہاں ہے ان سے دور کا

نہیں ہے کچھ تو اک کھجور دیجیے روزہ دار کو
مرے نبی کے پاس کیا ہے مرتبہ کھجور کا

حد سفر وہیں تلک رہی ہے جبرئیل کی
سفر جہاں سے پیش رب ہوا مرے حضور کا

رسول سب خطائیں اپنی رب سے بخشوائیں گے
اسی لیے ہے انتظار عرصۂ نشور کا

اے سبز گنبد نبی گواہ ہے عرش کا مکیں
ملا ہے میری چشم دل کو نور کوہ طور کا

نبی کا کیا مقام ہے یہ جاننے کے واسطے
اکھڑ کے رہ گیاہے دم شعور کے شعور کا

مجھے مئے طہور شاکر آپ خود پلائیں گے
گواہ ہوگا رب دوجہاں مرے سرور کا
شاکر اد یبی (بھیونڈی۔بھارت)