بلند سب سے ہے سب سے سوا ہے یا اللہ کہ تو ورائے حد ارتقاء ہے یا اللہ

محمد ہارون الرشید ارشد

بلند سب سے ہے سب سے سوا ہے یا اللہ
کہ تو ورائے حد ارتقاء ہے یا اللہ

ترا وجود تھا ہر ابتدا سے پہلے بھی
بس ایک تو پس ہر انتہا ہے یا اللہ

ترے کرم سے ہے ممکن بچائو کی صورت
یہ کائنات بہت خوشنما ہے یا اللہ

نہ ماسوا کو پکارا نہ خود کو دی آواز
مری مراد مرا مدعا ہے یا اللہ

میں سوچتا ہوں کہ اب اور تجھ سے کیا مانگوں
تری جناب سے سب کچھ ملا ہے یا اللہ

مکاں سے تابہ سر لامکاں کرم سے ترے
ہر ایک چیز کی نشوونما ہے یا اللہ
کلی میں ، غنچے میں، گل میں، بہار گلشن میں
ترا جمال ہے، تیری ضیاء ہے یا اللہ

سکون دل کو ملا، روح کو قرار ملا
زبان پر تری حمد و ثنا ہے یا اللہ
تری جناب میں سب سجدہ ریز و سجدہ گزار
غلام و خواجہ کا تو آسرا ہے یا اللہ

زمانہ تیرا ہے اے خالق سکوت وکلام
کہ رات گنگ ہے دن بولتا ہے یا اللہ

جو تیرے ذکر میں گزرے وہ لمحہ بھی ہے ابد
ترے بغیر ابد چیز کیا ہے ہے یا اللہ

ہر ایک سانس میں تیری رضا کی منزل ہے
نفس نفس مرا قبلہ نما ہے ہے یا اللہ

کسی کو میں نے پکارا نہیں کبھی ارشد!
زباں و دل پہ مرے یا خدا ہے ہے یا اللہ