بندہ عاجز کرے کیونکر ادا حق ثنا یا الٰہی حمد کی توفیق کر مجھ کو عطا

سید انوار ظہوری

بندہ عاجز کرے کیونکر ادا حق ثنا
یا الٰہی حمد کی توفیق کر مجھ کو عطا

وضع ہو سکتے نہیں تجھ کو سمجھنے کے اصول
تیری قدرت کا احاطہ کر نہیں سکتیں عقول

تو فروکش ہے دلوں میں سب کی شہِ رگ سے قریب
ہے کسے تیری صفات و ذات کا عرفاں نصیب

تو جہاں ظاہر وہاں انوار تیرے بے نقاب
تو جہاں باطن وہاں جلوے حجاب اندر حجاب

پتھروں میں بھی غذا کیڑوں کو پہنچاتا ہے تو
ہم نے دیکھے تیری رزاقی کے منظر چار سو

چیونٹیوں کی بھی دم رفتار سنتا ہے صدا
بن سنائے بھی سمجھتا ہے دلوں کا مدعا

دی ہے مخلوقات کو بہر عبادت زندگی
جملہ موجودات کو بخشا ہے ذوق بندگی

مہرباں جس وقت ہوجاتا ہے تو رب جلیل
آتش نمرود ہو جاتی ہے گلزار خلیل
موسمی تبدیلیاں، فرق مزاج ماہ و سال
سب زوال آمادہ آخر، صرف اک تو لازوال

ظلمت شب میں جلاتا ہے تو شمع ماہتاب
آسماںمیں جڑ دیئے تو نے ستارے بے حساب

یہ مناظر، یہ مظاہر، یہ زمیں، یہ آسماں
ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں تیری عظمت کے نشاں

خاک سے بدلا ہمیں اک جگمگاتی ذات میں
شکر تیرا کر دیا اشرف جو مخلوقات میں

عام ہر سو عالم اضداد کی نیرنگیاں
کتنے ہی رنگوں ے ابھری ہے یہ تصویر جہاں

صورتیں دیں کیسی کیسی تونے مخلوقات کو
ان گنت شکلوں میں ڈھالا جملہ موجودات کو

سوچنے کو قوتیں بحشیں، سمجھنے کو دماغ
کردیئے روشن حصار فکر میں تونے چراغ

ذکر کرتے ہیں ملک، تسبیح پڑھتے ہیں طیور
نام لیتے ہیں ترا صبح و مسا غلمان و حور

بندش وقت و مکاں سے ایک تو آزاد ہے
یہ بھی خلاقی تری، وہ بھی تری ایجاد ہے

ایک مطلع میں تری پوری غزل کے خال وخد
مصرع اولیٰ ازل ہے مصرع ثانی ابد