بنے ہیں آسماں، دنیا سجی آقا کے صدقے میں ملی ہم کو خدا کی آگہی آقا کے صدقے میں

بنے ہیں آسماں، دنیا سجی آقا کے صدقے میں
ملی ہم کو خدا کی آگہی آقا کے صدقے میں

زمیں تا آسماں روشن ہوا نورِ شہِ دیں سے
یہ رونق دیکھتے ہیں ہم سبھی آقا کے صدقے میں

زمانہ قعرِ ظلمت میں گھرا تھا آپ سے پہلے
مگر ہر سمت ہے اب روشنی آقا کے صدقے میں

مدینہ ہے کہ ٹکڑا خلد کا ہم نے بھی دیکھا ہے
ہمیں دنیا میں ہی جنت ملی آقا کے صدقے میں

نہ آتے آپ گر دنیا میں پھر ہم بھی کہاں ہوتے
خدا نے دی ہے ہم کو زندگی آقا کے صدقے میں

شہِ دیں کی اطاعت ہی خدا کی بھی اطاعت ہے
ملا قرآں سے پیغام جلی آقا کے صدقے میں

عبادت اصل میں کیا ہے، بتایا آپ نے ہم کو
ہماری بندگی ہے بندگی آقا کے صدقے میں

خدا کا شکر ہے اے دِلؔ ہماری خوش نصیبی ہے
کہ دولت دین کی ہم کو ملی آقا کے صدقے میں
امان خاں دِل (نیویارک)