بول اپنے ہاتھ اٹھا اے کردگار معصیت سے مجھ کو مجھ رکھ شرمسار

شیخ وجیہ الدین وجدی

بول اپنے ہاتھ اٹھا اے کردگار
معصیت سے مجھ کو مجھ رکھ شرمسار

تجھ سوا ہم اے خدا کہاں جائیں
تو نہیں چاہا تو ہم کس کے کہائیں

اس خودی میں ہے تجھے مستی حلال
جس میں ہیں عکس صفاتِ ذوالجلال

بندگی میں حق کی باندھ اپنی کمر
تاکہ ہو فربہ ولے با کروفر

نفس ہے فرعون اسے کر سیر مت
تانہ ہو مغرور وہ کافر صفت

گرچہ روئے یا پکارے زار زار
وہ نہ ہو آخر مسلماں ہوشیار

تن کو تو فربہ نہ کر بکرے مثال
تاکہ نہ ہو جاوے خوں تیرا حلال

خوابِ غفلت ہے یہ دنیا سربسر
اس میں تو غافل نہ ہو اے بے خبر

گر رہا یک شہر میں ساری عمر
جو رہے ہر آس کو جاتا بھول کر

خواب میں جب شہر دوسرا دیکھتا
بوچھتا شہر قدیمی ہے میرا

شہر کا اپنے نہیں کرتا خیال
خواب میں ایسا ہے ہر ہر کا خیال

روح ایسا ہے مقام اپنے کو بھول
کیا عجب اس خواب میں گرہو ملول