بھرے جو جھولیاں سب کی وہ میرا ہی تو مولا ہے جو جانے بولیاں سب کی وہ میرا ہی تو مولا ہے

حافظؔ غلام غوث (کراچی)

بھرے جو جھولیاں سب کی وہ میرا ہی تو مولا ہے
جو جانے بولیاں سب کی وہ میرا ہی تو مولا ہے

دلوں کا حال جانے وہ زباں سمجھے وہ پتھر کی
سنے خاموشیاں سب کی وہ میرا ہی تو مولا ہے

وہی تو ایک سجدے سے غلاموں کو کرے آزاد
جو کھولے بیڑیاں سب کی وہ میرا ہی تو مولا ہے

لگن جس میں ہے سچی وہ اسے شفاف کرتا ہے
مٹائے دوریاں سب کی وہ میرا ہی تو مولا ہے

اسی کی ہم پناہوں میں سدا محفوظ رہتے ہیں
بچائے ہستیاں سب کی وہ میرا ہی تومولا ہے

وہ جو طوفان میں اکثر لگاتا ہے کنارے پر
شکستہ کشتیاں سب کی وہ میرا ہی تو مولا ہے

مداوا وہ ہی کرتا ہے غم و آلام سے حافظؔ
سنے جو سسکیاں سب کی وہ میرا ہی تو مولا ہے