بہت اونچی ہے سرکار اپنے رب کی بلا تفریق وہ سنتا ہے سب کی

دلشاد ؔتبسم (کراچی)

بہت اونچی ہے سرکار اپنے رب کی
بلا تفریق وہ سنتا ہے سب کی

معاً بخشا اسے اپنا بنایا
معافی جب کبھی جس نے طلب کی

اسی سے گڑگڑا کر کیوں نہ مانگیں
مرادیں کرتا ہے پوری جو سب کی

سوائے زہدو تقویٰ اس کے آگے
حقیقت کچھ نہیں نام و نسب کی

خدا کے قرب کی خواہش اگر ہے
کریں ہم پیروی شاہِ عرب کی

چڑھے پروان صنف حمد یزداں
کریں بڑھ چڑھ کے ہم خدمت ادب کی

شفا دلشادؔ اسی کے در سے ہوگی
رکھی ہے لاج جس نے ہر مطب کی