تب سمجھ میں آئے گا قرآن کا فرمان بھی ہو اگر کچھ معنی و مفہوم کا عرفان بھی

اطیبؔ اعجاز

تب سمجھ میں آئے گا قرآن کا فرمان بھی
ہو اگر کچھ معنی و مفہوم کا عرفان بھی

زندگی پر ہے مسلط موت کا امکان بھی
ہے یہی میری حقیقت اور تری پہچان بھی

تو جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے نہ دے
دست رس میں تیری سب کچھ دین بھی ایمان بھی

تو ہی اول تو ہی آخر چار سو ہے تو ہی تو
تو ہی طہٰ تو ہی یٰسین اور تو ہی فرقان بھی

میں کبھی بے بس نہیں ہوتا کہ میرے ساتھ ہے
فضل تیرا اور ترے محبوب کا فیضان بھی

تو نظارہ توہی ناظر توہی عرفان نظر
میزباں ہے دل میں توہی اور توہی مہمان بھی

زندگی دی ہے تو اس کو بندگی کا ذوق دے
میرے مالک کردے اطیبؔ پر تو یہ احسان بھی