تجھے پسند ہوں ایسے میرے مشاغل کر حیات میری ہے طوفاں تو اس کو ساحل کر

رجب عمر

تجھے پسند ہوں ایسے میرے مشاغل کر
حیات میری ہے طوفاں تو اس کو ساحل کر

تری طلب میں رہوں ڈھونڈتا پھروں تجھ کو
تو اپنے چاہنے والوں میں مجھ کو شامل کر

سنا ہے اب بھی ہیں اصحاب فیل حرکت میں
خدایا ان پہ ابابیل پھر سے نازل کر

بہت کٹھن ہے رہ مستقیم پہ چلنا
تو اپنے فضل سے آساں مرے مراحل کر

الجھنا خطروں سے بس میں نہیں ہے اب میرے
تو اپنے لطف سے ان کو خدایا باطل کر