تجھ کو سوچوں تو ہی سنائی دے اللہ تیرے علاوہ کچھ نہ دکھائی دے اللہ

اقبال آذر

تجھ کو سوچوں تو ہی سنائی دے اللہ
تیرے علاوہ کچھ نہ دکھائی دے اللہ

تو ہی تو ہر سمت نظر آئے مجھ کو
میری نظر کو اتنی رسائی دے اللہ

مال و زر کی زنجیروں میں جکڑا ہوں
ایسی قید سے مجھ کو رہائی دے اللہ

امن و سکون سے جس میں رہیں تیرے بندے
دینی ہو تو ایسی خدائی دے اللہ

بھٹکے ہوئوں کو راہ دکھا سیدھی سچی
بگڑے ہوئوں کو نیک کمائی دے اللہ

موم بنا احساس کی شدت کر پیدا
سنگ دلوں کو پیڑ پرائی دے اللہ

آذرؔ کو ہر چیز عطا کی ہے تونے
کچھ توفیق مدح سرائی دے اللہ