تخلیقی ادب اور نعتیہ ادب کی موجودہ صورتِ حال!

تخلیقی ادب اور نعتیہ ادب
کی موجودہ صورتِ حال
!

عزیزاحسن۔ کراچی

 
معروف مصری ادیب طٰہٰ حسین
نے شرح و بسط کے ساتھ ’’ادب‘‘کی ماہیت پر گفتگو کی ہے۔ انھوںنے بتایا ہے کہ شروع
شروع میں تو انھیں اس مادّے کا استعمال فعل اور اسمِ فاعل کے سوا کسی صورت میں
نہیں ملا۔اُن کے خیال میں پہلے لوگ ادب (ادب سکھانے) اور مؤدّب کے معانی میں
استعمال کرتے تھے اور اس لفظ کا اطلاق شعر اور تاریخ کے راویوں پر کرتے تھے۔ طٰہٰ
حسین کے خیال میں عہد اُموی سے اس لفظ کا اطلاق شعر، تاریخ یا شعرو تاریخ کے ساتھ
ساتھ ملن ساری، خوش خلقی اور نرم خوئی وغیرہ پر ہونے لگا۔ وہ لکھتے ہیں ’’جب لوگ
کہتے ہیں کہ فلاں نے ادب سکھایا تو اس سے دو معنی مراد لیے جاتے ہیں : ایک یہ کہ
اس نے اسے ادب سکھایا اور یہ علم کی وہ نوع ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اور
دوسرا یہ کہ اس نے ادب سکھایا اور یہ وہ اندازِ زندگی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا‘‘٭
۱
اس کے بعد لمبی بحث کے بعد وہ لکھتے ہیں ’’ادب کا صحیح مفہوم تھا پسندیدہ شعرو نثر
اور اس کے متعلقات جو اُن کی تشریح و تفسیر کے کام آئیں اور ان کے فنی جمال کے
مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالیں‘‘٭
۲
دائرہ معارفِ اسلامیہ کے
مصنّفین نے عربی لغت نویسوں کے ہاں اس لفظ کا اشتقاق مادۂ ء۔د۔ب میں پایا جس کے
معنی ہیں حیرت انگیز چیز یا تیاری اور ضیافت۔ اُن کے مطابق پہلی صدی ہجری سے ادب
کا لفظ اس مجموعی علم کے لیے استعمال ہونے لگا جس سے کوئی صاحبِ علم شائستہ اور مہذب
بنتا ہے، یعنی ثقافت ِ دنیوی جس کی بنیاد اوّلاً شعر، فنِ خطابت اور قدیم عرب کی
قبائلی اور تاریخی روایات پر نیز متعلقہ علوم یعنی بلاغت، نحو، لغت اور عروض پر
تھی۔٭
۳
نیازفتح پوری نے ادب کو انگریزی لفظ
literature کے بہترین ترجمے کے طور پر قبول کیا ہے۔٭۴
ڈاکٹرسیّد عبداللہ کی رائے
میں صرف تخلیقی مواد ہی ادب کہلانے کا مستحق ہے، وہ فرماتے ہیں:’’جو ادب تخلیقی
نہیں وہ ادب کے زمرے میں شامل کیسے ہوگا؟‘‘٭
۵ اور ادب کی
تخلیقی شاخوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے شاعری کو اوّلیت دی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ادب
کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ’’ادب وہ فنِ لطیف ہے، جس کے ذریعے ادیب جذبات و
افکار کو اپنے خاص نفسیاتی و شخصیاتی خصائص کے مطابق نہ صرف ظاہر کرتا ہے بلکہ
الفاظ کے واسطے سے زندگی کے داخلی اور خارجی حقائق کی روشنی میں اُن کی ترجمانی و
تنقید بھی کرتا ہے اور اپنے تخیل اور قوتِ مخترعہ سے کام لے کر اظہار و بیان کے
ایسے مسرت بخش حسین اور مؤثر پیرائے اختیار کرتا ہے جن سے سامع و قاری کا جذبہ و
تخیل بھی تقریباً اسی طرح متاثر ہوتا ہے جس طرح خود ادیب کا اپنا تخیل اور جذبہ
متاثر ہوا۔ ‘‘٭
۶
کشاف تنقیدی اصطلاحات کے
مرتب نے ادب کے تین بنیادی مقاصد کا تعین کیا ہے (
۱) جمالیاتی مسرت
بہم پہنچانا۔ (
۲) جمالیاتی مسرت بہم پہنچانے کے دوران میں حیات و کائنات
اور خود فرد کی ذات کے بارے میں اسے ایسی آگہی بخشنا جس سے اس کے قلب و ذہن کو
جلا ملے۔ (معلومات و آگہی میں جو فرق ہے اسے ملحوظ رکھا جائے) (
۳) قارئین
کو کوئی خاص زاویۂ نظر یا طرزِ عمل اختیار یا ردّ کرنے کی ترغیب دینا۔‘‘٭
۷
ادب کی دو شاخیں بڑی معروف
رہی ہیں ایک ’’ادب براے ادب
‘‘ Art for Arts Sake اور دوسری ’’ادب برائے زندگی‘‘ Art for Life Sake اور چوںکہ ادب
برائے ادب میں ذاتی حظ کی کیفیت کو عمومی زندگی سے مشروط نہیں سمجھاجاتا ہے اس لیے
اِس کا اطلاق ہمارے مقاصدِ تحریر پر نہیں ہوسکتا لہٰذا ہم اس کا ذکر بھی نہیں کریں
گے۔ادب برائے زندگی کے تخلیقی مقاصد میں وہ تینوں نکات شامل ہیں جو کشاف تنقیدی
اصطلاحات کے مرتب نے لکھے ہیں اور جو ہم نے اوپر درج کردیے ہیں۔
اب آیئے ذرا چین چلیں جہاں
کا حوالہ حصولِ علم کے طویل فاصلوں کے طے کرنے کی ترغیب کے ضمن میں حدیث نبویﷺ میں
بھی ملتا ہے۔
ماؤزے تنگ ادب اور فن کو
سیاست کے تابع سمجھتے ہیں۔٭
۸
واضح رہے کہ ان کی سیاست اشتراکیت ہے، جس میں خدا کا وجود تسلیم نہیں کیا جاتا۔۔۔
لیکن اسلامی ادب میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ادب دینی اقدار کے تابع ہے۔
ماؤزے تنگ نے ادبی اور فنی تخلیقات کو ’’مقبولِ عام بنانے‘‘ اور اُن کا ’’معیار
بلند کرنے‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ اُن کے نقطئہ نظر سے عوام کی سب سے بڑی ضرورت ’’زری
میں زیادہ پھول‘‘ نہیں بلکہ ’’سردی میں ایندھن‘‘ ہے لہٰذا وہ اس کی اہمیت کو اجاگر
کرنے کے لیے ادب و فن کو مقبول عام بنانا ضروری جانتے ہیں۔٭
۹ ان کے
نزدیک’’مقبول بنانے سے مراد عوام میں مقبول بنانا ہے اور معیار بلند کرنے کا مطلب
عوام کے لیے معیار بلند کرنا ہے۔‘‘٭
۱۰
اب آیئے ہمارے اسلامی ادب
کی طرف جس میں نعتیہ شاعری سر فہرست ہے اور ہمارا اصل موضوع یہی ہے۔ نعتیہ شاعری
کے حوالے سے ایک سوال تو باربار کیا جانا چاہیے کہ کیا واقعی اردو کی تمام نعتیہ
شاعری ’’ادب‘‘کی تعریف پر پوری اُترتی ہے؟۔۔۔ میرا جواب نفی میں ہے۔ البتہ اس
شاعری کا ایک چھوٹا سا حصہ ادب ہی میں نہیں بلکہ ادبِ عالیہ میں شمار کیے جانے کے
قابل ہے۔ لیکن فی زمانہ تو نعتیہ شاعری بڑی مقدار میں ہورہی ہے۔اتنی بڑی مقدار میں
کہ پوری اردو شاعری پر نعتیہ تخلیقات کا غلبہ ہے اور اسی لیے یہ صدی نعتیہ ادب کے
حوالے سے ’’نعت صدی‘‘ کہے جانے کے قابل ہے۔ اس کے باوجود ادبی معیارات پر پورا
اُترنے والی شاعری کم کیوں ہے۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ شہرت طلب شعرا عوامی
رجحان یعنی سہل و سادہ پسندی کو معیار بنا کر شعر کہہ رہے ہیں اور مگن ہیں۔ ان کے
اشعار کی تشہیر میں بصری میڈیا بھی پیش پیش ہے، جس کا مقصد زیادہ تر کاروباری
ہے۔۔۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ نعت کاغذ پر کم پڑھی جاتی ہے بصری میڈیا پر زیادہ سُنی
جاتی ہے جس میں نیم زنانہ لباس میں ملبوس نعت خواں (یا باریش گویّے) اپنی چھب
دکھلا کر عوامی مقبولیت حاصل کرلیتے ہیں اور تخلیقِ نعت میں بھی اپنی جہالت کا
ثبوت دیتے ہیں اور اسی جہالت کے باعث عوامی مقبولیت حاصل کرلیتے ہیں۔ کتنے افسوس
کی بات ہے کہ ہند و پاکستان میں مجازی محبوب کے لیے مروج لفظ ’’پیا‘‘۔۔۔ حضور علیہ
الصلوٰۃ والسلام کے لیے اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے
لیے استعمال ہونے لگا ہے اور اس پر لکھاری اور نعت خواں بڑافخر محسوس کررہا ہے۔
میں نے سنا ’’میرے حمزہ پیا‘‘۔۔۔ سچ پوچھیے تو میری جان ہی نکل گئی اس گھٹیا سوچ
پر اور ان کے پروموٹرز کی فکری نہج کی پستی کا سوچ سوچ کے۔نعتیہ شاعری میں انگریزی
کے الفاظ استعمال کرنے کی بھی مثالیں سامنے آئیں اور ایسا لگا جیسے کوئی نعت کے
حوالے سے مزاحیہ شاعری پیش کرکے منہ چڑا رہا ہے! فلمی گانوں کی طرز پر بھی نعتیں
لکھی جارہی ہیں اور ان کی تشہیر بھی نعت خوانوں کے ذریعے ہورہی ہے کیا ایسی شاعری
ادب میں  داخل سمجھی جاسکتی ہے؟
اسلوبِ شاعری کا تو یہ حال
ہے اور نفس مضمون اور متن کی استنادی کیفیت ایسی ہوتی جارہی ہے کہ جس کے جی میں جو
آتا ہے لکھ مارتا ہے اور ذرا نہیں سوچتا کہ عقیدت کے یہ الفاظ حضور آقائے ہر
جہاں افصح العرب و العجمﷺ کے حضور پیش ہونے ہیں۔ نعت میں کہیں اللہ کے اختیارات کو
چیلنج کیا جاتا ہے تو کہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ نبوت میں اشارۃً
اپنی پسند کے بزرگوں کو بھی شامل کرنیکی کوشش کی جاتی ہے۔
ایسی صورت میں نعتیہ شاعری
کا معیار کیسے بلند ہوسکتا ہے۔خلوص ہوتو محنت کی طرف بھی آدمی کا رجحان ہوتا ہے
لیکن جب صرف شہرت اور دولت کمانا ہی مقصدِ نعت گوئی بن جائے تو محنت و ریاضت کی
کیا ضرورت ہے؟ میں نے ماؤ زے تنگ کا حوالہ اس بات کا احساس دلانے کے لیے دیا ہے
کہ ’’دہریے‘‘ کو تو اپنے نصب العین اور ادبی اسلوب کا خیال ہے لیکن ہم جو الحمدللہ
سچے دین کے پیروکار ہیں خود اپنے بھول پن یا جہالت کے باعث دوسروں کو ہنسنے کا
موقع دے رہے ہیں کہ نہ تو ہمارے اسلامی ادب کی اعلیٰ ترین صنفِ سخن ’’نعت‘‘ کو
ادبی اسلوب میں ڈھال کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی اس شاعری میں پیش کیے
جانے والے خیالات میں استنادی شان ہوتی ہے اور جب شعرا کی اکثریت ایسا کلام پیش
کرتی ہے تو غالب رجحان کو دیکھ کر ’’نعت‘‘ کے موضوع سے سنجیدہ دلچسپی رکھنے والے
شعرا کا دل اُچاٹ ہوجاتا ہے۔نقادانِ ادب تو اس صنف کی طرف آتے ہوئے بھی کتراتے
ہیں یہی وجہ ہے کہ اب تک نعتیہ ادب کی ادبی قدر کا تعین صنف ِادب کی حیثیت سے نہیں
کیا جاسکا اور تاحال یہ بحث چل رہی ہے کہ آیا نعت کوئی صنف سخن ہے بھی کہ
نہیں؟۔۔۔ خیر ایسی صداؤں کی طرف تو کان دھرنے کی ضرورت نہیں کہ جن لوگوں کی طرف
سے اس طرح کی آواز اٹھائی جاتی ہے وہ دینی اعتبار سے کھوکھلے اور شعری ذوق کے
حوالے سے بے بصیرت اور غبی ہیں اور قطعی مخلص نہیں۔ لیکن اپنی کوتاہیوں کی طرف
توجہ نہ کرنے والے مخلصین بھی تو نعت کے نادان بلکہ بے بصیرت دوست ہیں۔
میں نے ’’نعت رنگ‘‘ کے پہلے
شمارے میں ایک صاحب کو مشورہ دیا تھا کہ میرے آقا و مولا حضرت سیّدنا و سندنا
جناب محمد رسول اللہ، صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’’میٹھے نبیﷺ‘‘ کی ترکیب استعمال
نہ کریں کیوںکہ اس میٹھے کے لفظ میں خوبی کم اور ذم کے پہلو زیادہ ہیں۔ لیکن
دیکھتا ہوں کہ اب تک ان کے گروہ میں ’’میٹھے‘‘ کا استعمال نہ صرف جاری ہے بلکہ ان
کے لیے کائنات کی ہر چیز کے ساتھ ساتھ میرے آقا و مولا جناب نبی علیہ السلام کی
ذاتِ پاک بھی میٹھی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ان کے ارادت مند انھیں حضرت جلال الدین
رومیؒ، شیخ سعدی ؒاور فریدالدین عطارؒ کے مقام پر فائز کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
مجھے یہاں ان کے اشعار پیش کرنے سے تو کراہیت آرہی ہے البتہ میٹھے کے لفظ کی ذرا
وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔
عمومی معنی تو میٹھے کے
شیریں ہی ہیں لیکن اس میں یہ معانی بھی شامل ہیں۔٭وہ بیل جو محنت برداشت نہ کرسکے،
چلنے سے جی چرائے۔ ٭میٹھا برس۔۔۔ عورت کی بلوغت کا سال۔جوانی میں بھر جانے کا
زمانہ۔ ٭میٹھا تیلیا (طب)۔۔۔ ایک زہریلی بوٹی کانام۔ ٭میٹھا ٹھگ ۔۔۔ میٹھی میٹھی
باتیں بنا کر ٹھگنے والا یار۔دغا باز، بد دیانت، جھوٹا دوست، بے ایمان دوست، ٹھگوں
کے اس فرقے کا آدمی جو میٹھا تیلیا(ایک زہر) کھلا کر مسافروں کو ہلاک کرتا اور
لوٹ لیتا ہے۔ ٭میٹھا منہ۔۔۔ تلوار یا کسی ہتھیار کی کند دھار، کند شمشیر۔ ٭میٹھا
مہینہ۔۔۔ عورت کے حمل کا آٹھواں مہینہ۔ ٭میٹھی چھری۔۔۔ دشمنِ دوست نما، وہ شخص جو
دوستی کے پیرائے میں دشمنی کرے، وہ شخص جو بظاہر دوست اور بباطن دشمن ہو، ظاہر میں
خوشنما اور اصل میں مضرت رساں۔ ٭میٹھی چھری زہر میں بجھی ۔۔۔ دوستی کے پردے میں
دشمنی، میٹھی چھری، زبانی نرم کلام دل میں دشمنی، دشمن دوست نما۔ ٭میٹھی میٹھی
باتیں کرنا۔۔۔ چاپلوسی کرنا۔ ٭میٹھے کھٹے کو جی چاہنا۔۔۔ مجامعت کی خواہش ہونا، ہم
بستری کی رغبت ہونا۔٭
۱۱
معروف نعت گو حضرت محسن
ؔکاکوروی کے لائق فرزند مولوی نورالحسن نیر نے نوراللغات میں میٹھا کے معنی اور
بھی لکھے ہیں ’’زبان کا میٹھا اور دل کا کھوٹا، لکھنؤ کے مروّجہ معنی میں انھوںنے
بتایا ہے کہ میٹھا ۔۔۔ اس مرد کو کہتے ہیں جو زنانی گفتگو کرتا ہو اور زنانہ لباس
پہنتا ہو۔‘‘٭
۱۲
بے شک میٹھا، میٹھی اور
میٹھے میں کچھ اچھے معنی بھی ہیں لیکن جب اس لفظ کی مختلف شکلوں میں بہت کراہت
آمیز معانی آگئے تو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول ’’راعنا مت کہو انظرنا کہو‘‘
(البقرہ، آیت
۱۰۴)کے تحت اس لفظ سے پرہیز کرنا لازمی ہے۔۔۔ لیکن جناب ۱۹۹۵ء
سے یہ زمانہ آگیا، مَیں نے تو اس لفظ کا استعمال اس گروہ میں بڑھتا ہوا ہی دیکھا
ہے۔
یارب نہ وہ سمجھے ہیں نہ
سمجھیں گے مری بات
دے اور دِل اُن کو جو نہ دے
مجھ کو زباں اور
بہر حال :  مجھے ہے حکم اذان لا الہٰ الا اللہ
مرا سینہ ہو مدینہ مرے دل
کا آبگینہ
بھی مدینہ ہی بنانا مدَنی
مدینے والے
اس شعر میں شاعر کی کیفیات کے
اخلاص کو تو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا لیکن ادبیت بہر حال زیرِ بحث آنی چاہیے۔
مدَنی۔ مدینہ سے منسوب یا متعلق، شہر کا، شہری، متمدن، مدینے والا(مجازاً) حضورﷺ
مدَنی صبح کا عجب ہے ظہور
قابلِ دید ہے یہ بارشِ
نور(حسرت موہانی)٭
۱۳ (اردو لغت، اردو لغت بورڈ، کراچی)
ان شواہد کے ہوتے ہوئے
’’مدَنی‘‘ کے لفظ کے ساتھ ’’مدینے والے‘‘ لکھنا، فصاحت کے بھی خلاف ہے، لسانیاتی
نقطئہ نظر سے بھی محلِ نظر ہے اور روز مرّہ سے بھی دور ہے۔ کسی بھی شعر میں
’’مدَنی‘‘ کے بعد کسی حقیقی شاعر نے ’’مدینے والے‘‘ کا لاحقہ استعمال نہیں کیا۔
لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ گروہی پراپیگنڈے کے زور پر ’’مدَنی مدینے والے‘‘ اشعار
میڈیا پر لہک لہک کر پڑھے جاتے ہیں اور اہلِ علم سر پیٹ کر رہ جاتے ہیں۔ نعت خوان
’’اللہ کے ذکر‘‘ کو بھی نعت خوانی کے بیک گراؤنڈ میں موسیقی کے بدل کے طور پر
استعمال کرتے ہیں اور علما کی ایک نہیں سنی جاتی۔
اب ذرا دیکھیے۔ ماؤزے تنگ،
ایک دہریہ ہے لیکن عوامی سطح پر اپنے پیغام کا ابلاغ بھی چاہتا ہے اور اس کا معیار
بھی بلند کرنے کا خواہش مند ہے۔۔۔ مَیں حضورﷺ کے علاوہ کائنات میں کسی کو بھی
’’فصیح اللسان‘‘ نہیں سمجھتا،  لیکن اس
حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہر زبان کے اہلِ زبان کچھ نہ
کچھ یعنی ضرورت کی حد تک
فصیح ہوتے ہیں۔اردو کا معیار عربی جیسا نہ سہی لیکن اس زبان کے بھی فصاحت کے
معیارات مقرر ہیں۔ اس لیے نعتیہ شاعری کا شوق رکھنے والوں کو کچھ نہ کچھ فصاحت کا
خیال تو رکھنا چاہیے۔محض بچوں جیسی شاعری کرکے تو آقائے نامدار جناب محمد رسول
اللہﷺ سے منسوب صنفِ سخن کا مذاق ہی اُڑا یا اور اُڑوایا جاسکتاہے، کوئی قابلِ
قبول کارنامہ انجام نہیں دیاجاسکتا۔ صرف نعت خوان کی آواز اور اللہ کے ذکر کا بیک
گراؤنڈ کسی پھسپھسے کلام کو ادبی دا ئروں میں داخل نہیں ہونے دیگا۔ مندرجہ بالا
شعر میں تو ادبی پیروڈی بھی نہیں ہے۔۔۔ ذرا تخلیقی ادب کے مقاصد اور معیارات پر
پھر ایک نظر ڈال لیجیے۔۔۔ آپ کو میرے مؤقف کی صحت کا احساس ہوجائے گا۔۔۔ ادبی
حسن سے عاری، لسانیاتی صداقتوں سے مبرّا، شعری لطافتوں سے دور ۔۔۔ ۔ ایسے ہی اشعار
نعتیہ شاعری کی دنیا میں سنجیدہ شاعروں کے داخلے میں مانع ہیں۔۔۔ اور ایسے نمونے،
نقادانِ ادب کے لیے لائقِ اعتنا نہیں ہیں۔۔۔ اور ہم چلے ہیں نعتیہ شاعری کو ادبی
صنفِ سخن منوانے!۔۔۔ ۔ ع  آپ کی صورت تو
دیکھا چاہیے
یہ مثال تو تھی محض
’’اسلوب‘‘ کی یعنی اس شعر میں مافیہ، متن، نفسِ مضمون یا بھونڈے پن
(Content) قابلِ اعتراض نہیں ہے، صرف
زبان کے مروّجہ استعمال سے دوری، فصاحت سے گریز اور بیان کے بھونڈے پن کا احساس
ہورہا ہے لیکن اب متن کے بے رحمانہ استعمال کی مثال دیکھیے
:
انا بشر زمانہ تم کو سمجھے،
ہم نہ سمجھیںگے
بِنائے کُن فکاں تم وجہِ
تخلیق ِ جہاں تم ہو
!
اللہ تعالیٰ نے تو اپنے
رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اعلان کریں میں اللہ کا بندہ اور رسول ہوں! کلمۂ شہادت
کا ایک جزو بھی ہے [عبدہ‘ و رسولہ‘] پھر قرآن کریم میں صاف اعلان بھی کروادیا گیا
’’قل انما انا بشرمثلکم یوحیٰ الی‘‘ (کہہ دیجیے میں بھی آدمی ہوں جیسے تم(ہاں)
مجھ پر وحی آتی ہے) (حم السجدہ۔آیت
۶)
اس واضح حکمِ الٰہی کا کس
بھونڈے طریقے سے مذاق اُڑایا گیا ہے۔ آپ نے محسوس فرمایا؟۔۔۔ کیا خود قرآن کے
الفاظ کے حوالے سے قرآن کی مخالفت کرنے سے کسی مسلمان کا ایمان سلامت رہ سکتا
ہے۔۔۔؟
اب ذرا سوچیے کیا چین میں،
چین کے رہنما کے کہے ہوئے الفاظ کا حوالہ دے کر کوئی چینی مخالفت کا سوچ بھی سکتا
تھا؟ یا اب بھی سوچ سکتا ہے؟ ۔۔۔ اور ہمارے ہاں ایسی باتیں کرنیوالوں کو سر پر
بٹھایا جاتا ہے جو اپنا مؤقف منوانے کے لیے قرآن و حدیث کے خلاف لکھنے اور اسے
چھپوانے سے بھی خوف نہیں کھاتے!  فاعتبروا،
یا اولی الابصار
!
نعتیہ شاعری کی یہی بے
قاعدگیاں تھیں جن کے باعث میں نے پہلے پہل یعنی
۱۹۸۱ء میں اپنے مرتب
کردہ نعتیہ مجموعے ’’جواہرالنعت‘‘ کے مقدمے میں چند گزارشات پیش کی تھیں اور
۱۹۹۵ء
میں ’’نعت رنگ‘‘ میں ’’نعت نبی میں زبان و بیان کی بے احتیاطیاں‘‘ کے عنوان سے کچھ
باتیں کرنے کی جسارت کی تھی۔ لیکن میری آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔نعت کے ادبی
معیارات اور اس کے مافیہ کو مسلسل بگاڑا جارہا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں دو کام
کرنے ضروری تھے (
۱) شعر گوئی کے صائب طریق کی طرف شعرا کی رہنمائی۔ (۲) نعتیہ
شاعری کے مافیہ، نفسِ مضمون یا متن کی طرف خصوصی توجہ کرنے کی اپیل اور اسی لیے
میں نے ابتدا میں اپنا تنقیدی منہاج ’’مقنن تنقید‘‘ یا
Legislative
Criticism رکھا تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ طریقِ کار ادب
کے اجتماعی نظام میں اب فرسودہ ہوچکا ہے اور اس کا ذکر اب بھی محض تاریخی حقائق
بیان کرنے اور ابتدائی نقادانِ ادب کی سادہ لوحی ظاہر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
چناںچہ اس طریق کار کے بارے میں وزیر آغا صاحب کی ایک تحریر کا اقتباس نقل کرتا
ہوں
:
’’مغرب میں جدید تنقید کا
آغاز سترھویں صدی میں ہوا۔ اس سے قبل (بالخصوص سولھویں صدی کے انگلستان اور یورپ
میں) تنقیدکی وہ قسم رائج تھی جسے جارج وانسٹن نے مقنن تنقید کا نام دیا ہے اور جس
کا اردو ادب میں (تذکروں کی حد تک) انیسویں صدی تک بہت شہرہ تھا بلکہ اب بھی بعض
کونوں کھدروں میں اس کی کارفرمائی نظر آجاتی ہے۔اس تنقید میں ناقد کا روئے سخن
ہمیشہ شاعر کی طرف ہوتا تھا۔ مزاجاً یہ تنقید درسی مزاج کی حامل تھی جس کا کام
مبتدی کو شعر کہنے کی تربیت دینا اور شعری مقتضیات کے باب میں اسے ’’راہِ راست‘‘
دکھانا تھا۔‘‘٭
۱۴
یہ جاننے کے باوجود کہ میرا
طریقِ تنقید انتہائی فرسودہ اور آسانی سے قبول کیے جانے کے لائق نہیں ہے مَیں نے
یہ طریق کار اس لیے اپنایا کہ مجھے اپنے موضوع سے والہانہ عقیدت تھی، ہے اور ان
شاء اللہ رہے گی۔ موضوع یعنی ’’نعت سرورِ کائناتﷺ‘‘ لیکن جہاں میں نے تنقیدی
مضامین میں مقنن تنقیدی منہاج اپنایا وہیں انفرادی شعری مجموعوں یا شعری نمونوں
میں صائب اور قابلِ ستائش ہیئت، مواد اور اسلوب
(form,
content and style)  دیکھ کر اُن اشعار کی تحسین میں مختلف پیرایہ ہائے تنقید اور طریقِ تنقید
اپنائے ۔۔۔ مثلاً ساختیاتی طریقِ تنقید،جمالیاتی تنقید، کہیں کہیں نفسیاتی طریقِ
تنقید اور شعری لطافتوں کی پردہ کشا ئی کرنے، فنی اسلوب کے محاسن ظاہر کرنے اور
سراہنے کے لیے تأثراتی تنقید کا سہارا بھی لیا۔میرے تنقیدی منہاج کو سراہنے والوں
میں مغربی ادب کے پارکھ اور بے شمار مغربی افسانوی تحریروں کے مترجم حضرت احمد
صغیر صدیقی نے مجھے عمومی ادب کی تنقید پر اُبھارا، لیکن مَیں خود کو تاحال گیسوئے
’’نعت‘‘ سنوارنے سے فارغ نہیں پاتا۔۔۔ اور میری تمنا بھی یہی ہے کہ نعت نگار شعرا
کچھ، جی ہاں کچھ ’’ذمّے دار‘‘ بن جائیں۔
مقنن تنقید کے مظاہر ہمارے
ادب میں بہت زیادہ موجود ہیں۔ عندلیب شادانی صاحب نے تو اپنے عہد کی غزل کے
لسانیاتی اور شعرا کے بیان کردہ احوال کی ایسی گرفت کی ہے کہ تقریباً ( ان منتخب
شعروں کی حد تک تو) انھیں اپنی تنقید کی زمین میں گاڑ ہی دیا ہے۔ چوںکہ وہ تنقید
میرے خیال میں شعرا کے لیے بالعموم اور نعت گو شعرا کے لیے بالخصوص توجہ طلب اور عبرت
پکڑنے کے لائق ہے، اس لیے صرف ایک مثال یہاں نقل کرتا ہوں۔اس تنقید کے لہجے پر نہ
جائیے صرف اس کا مقصد پیش نظر رکھیے کہ شعر کے نفسِ مضمون کی بے سر وپا ’’بنت‘‘ نے
کیسی مضحک صورت حال پیدا کردی۔
وہ دل کو توڑ کے بیٹھے تھے
مطمئن کہ انھیں
شکست شیشۂ دل کی صدا نے
لوٹ لیا
(جگرؔ مرادآبادی)
اب اس پر مقنن تنقید کا
نمونہ ملاحظہ ہو
:
’’عام قاعدہ یہی ہے کہ جب
کوئی شے ٹوٹتی ہے تو فوراً ہی اس میں سے آواز بھی نکلتی ہے۔ مگر یہ عاشق کا دل
بھی عجب چیز ہے کہ ٹوٹنے کے گھنٹہ بھر بعد صدا دیتا ہے۔ جگر ؔ صاحب کے محبوب نے
جگرؔ صاحب کا دل توڑ ڈالا۔اس کام سے فارغ ہونے کے بعد منھ دھویا، کنگھی کی، بال
سنوارے،سرمہ لگایا، پان کی گلوری بناکر منھ میں رکھی اور گاؤ تکیہ کے سہارے آرام
و اطمینان کے ساتھ تخت پر بیٹھ گیا۔پیک تھوکنے کے لیے فرش پر سے اُگال دان اُٹھانا
چاہتا تھا کہ یکایک ایک دھماکے کی آواز ہوئی۔غریب کا جی دہل گیا۔ اُگال دان ہاتھ
سے چھوٹ کر گرپڑا اور فرش کی چاندنی پیک کی چھینٹوں سے جامہ دار میں تبدیل ہوگئی۔
خواصیں دوڑپڑیں کہ ’’ہے ہے، کیا ہوا؟‘‘ بی صاحبہ کو سنبھالا۔تحقیقات کی گئی تو
معلوم ہوا کہ یہ جگرؔ صاحب کا دل تھا جسے توڑنے کے بعد بی صاحبہ اطمینان سے بیٹھ
گئی تھیں اور جس نے ٹوٹنے کے پورے
۵۷ منٹ ۱۱
سکنڈ بعد آواز دی۔‘‘  ٭
۱۵
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ
بیان کی ذراسی چوک نے جگرؔ جیسے مقبول اور پسندیدہ شاعر کے شعر کا کیسا حلیہ بگاڑا
ہے؟ اب آیئے نعت کا ایک شعر تنقیدی نقطئہ نظر سے دیکھتے ہیں
:
کیا خبر کیا سزا مجھ کو
ملتی میرے آقا نے عزت بچالی
میری فردِ عمل مجھ سے لے کر
کالی کملی میں اپنی چھپالی
!
اس شعرسے میدانِ حشر کا
تصور اُبھرتا ہے۔ حشر میں شاعر اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تخیلاتی، تصوراتی
سطح اور ایک مفروضے کے طور پر ایک ہی جگہ موجود د کھایا گیا ہے۔ شاعر اپنے اعمال
کی سیاہ کاری سے خوف زدہ ہے۔ حضورﷺ سے عرض کرتا ہے کہ مجھے بڑا ڈر لگ رہا ہے۔
حضورﷺ اس کی فردِ عمل لے کر اپنی کالی کملی میں چھپا لیتے ہیں۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ
کیا یہ منظر اصلی ہے؟ قطعی نہیں۔۔۔ تو تصوراتی ہے؟۔۔۔ جی ہاں! اس تصور میں دینی
صداقت موجود ہے؟ بالکل نہیں! قیامت میں حضور علیہ السلام کا شاعر کے لیے شفاعت
کرنے کا تصور تو موجود ہے لیکن شفاعت کا یہ طریقہ، جو شاعر نے اپنے تصور میں بٹھا
لیا ہے قطعی ممکن نہیں۔ وہاں حضور ﷺ کا کالی کملی اوڑھے رہنا بھی محلِ نظر ہے کیوںکہ
کسی روایتمیں ایسا نہیں ہے۔ پھر کیا اعمال نامہ ملنے کے بعد اُس کو اللہ کی نظر سے
چھپا لینا ممکن ہوگا؟۔۔۔ قطعی نہیں۔ اللہ سے تو زمین کی تہوں میں بھی کچھ نہیں
چھپتاتو حشر میں کوئی چیز کیسے چھپ سکتی ہے؟۔۔۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ
حضورﷺ کی شفاعت کا تصور شاعر نے عوامی سطح پر بصری بنایا ہے یا متشکل اور
visualize  کیا ہے۔ پھر کیا میرے آقا علیہ السلام کا یہ منصب ہے کہ وہ
کسی اُمتی کے گناہوں کو ڈھانپ لیں۔ ہاں وہ اللہ کی بارگاہ میں اُمتیوںکی شفاعت
فرمائیں گے، یہ ایک دینی حقیقت ہے۔ اس لیے امید شفاعت رکھنا اور چیز ہے، اس کو اس
انداز سے بیان کرنا کہ سننے والا اسے واقعہ سمجھے بالکل مناسب نہیں۔ نعت گو شعرا
کا فرض ہے کہ وہ بھولے بھالے عوام کے ذہنوں میں اللہ ربّ العزت کی قدرتوں اور
حضورﷺ کی شفاعت کا بالکل صحیح صحیح تصور بٹھا نے کی کوشش کریں۔اپنے اچھے خیال کو
سطحی تصور اور عوامی خیال سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ بات مسلم ہے کہ
عوام شعر کو الفاظ کے حوالے ہی سے اپنے حیطۂ ادراک میں لاتے ہیں اسی طرح
perceive
کرتے ہیں جو الفاظ کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔
بات عندلیب شادانی کی مضحک
تنقید کی ہورہی تھی جو ادبی اور عوامی سطح پر انتہائی مقبول شاعر جگر ؔمراد آبادی
کے شعر کے ملفوظی پیکر کی روشنی میں تھی۔آج نعت کی دنیا میں جگر ؔ یا اُن کے حلقے
کے کسی پست شاعر کا بھی ہم پلّہ شاعر مشکل سے ملے گا؟ استثنائی صورتیں الگ ہیں
لیکن وہ بہت تھوڑی ہیں اور فنی پختگی سے مملو اشعار اگر موجود بھی ہیںتو نا اہل
شعرا کی بہتات نے انھیں چھپا دیا ہے یا نعت خوانوں کی کم علمی نے انھیں ان اشعار
کے انتخاب سے روک رکھا ہے یا ذرائع ابلاغ پر حاوی گروپوں نے صرف اپنے معیار کے
شعرا کا انتخاب ضروری سمجھ رکھا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ نعت گوئی یا نعت خوانی کے لیے
کلام کا انتخاب کرنے میں اُن کا مقصد صرف اپنے گروہی شعرا اور نعت خوانوں کی تشہیر
ہے ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت، آپ کا پیغام اور تعلیمات عام کرنا یا
آپ کی ذات سے منسوب صنفِ سخن(نعت)کے معیارات کا خیال رکھنا ان کے مقاصد میں سرے
سے شامل ہی نہیں ہے۔
اکادمی ادبیات پاکستان،
اسلام آباد، کی ایک تقریب میں علامہ سروؔ سہارن پوری نے بڑے دُکھ سے فرمایا تھا
کہ دنیا دار شعرا وزارتِ مذہبی اُمور سے اپنی کتابوں پر انعام حاصل کرنے کے لیے
ایسے ایسے جتن کرتے ہیں کہ بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ اس کے برعکس جب میں نے ڈاکٹر
محمد حمید اللہ مرحوم و مغفور کے حوالے سے جناب ظفراسحاق انصاری کی ایک تحریر پڑھی
تو مجھے احساس ہوا کہ اخلاص کسے کہتے ہیں۔ جناب ظفراسحاق انصاری، پیرس(فرانس) میں
ڈاکٹرمحمدحمیداللہ مرحوم سے ملنے گئے۔ وہ لکھتے ہیں ’’ڈاکٹر صاحب(حمیداللہ) کو
انھی دنوں حکومت پاکستان نے دس لاکھ روپے کا ایوارڈ دیا تھا، جو سیرتِ پاک پر اُن
کی علمی خدمات کا اعتراف تھا۔ انھوں نے یہ پوری رقم ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، اسلام
آباد کے نذر کردی۔میں نے اس خبر کی تصدیق چاہی۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ’’آپ نے
صحیح سنا‘‘۔ پھر کچھ توقف کے بعد وہ گویا ہوئے ’’اگر میں یہاں لے لیتا تو پھر وہاں
کیا ملتا؟‘‘۔۔۔ اٹھارہ برس کے بعد بھی یہ جملہ میری سماعت کے لیے تروتازہ ہے اور
اس کی تازگی میں شاید کبھی فرق نہ آئے۔ یہ جملہ بتارہا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کون تھے،
کیسے تھے؟‘‘٭
۱۶
نعت پر لکھتے ہوئے یہ احساس
شدید ہوتا جاتا ہے کہ بیش تر نعتیہ کلام میں شعرا کے احوال، الفاظ اور شعروں کے
متون میں صداقت کا عنصر روزبروز کم ہی ہوتا جاتا ہے۔ قادرالکلام شعرا کے ہاں کلام
میں چستی اور قافیے اور ردیف کی صحت کے ساتھ بندش تو نظر آتی ہے لیکن فنی خلوص
اور عشقِ رسولﷺ کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔ اس موقع پر مجھے اقبال کا دینی خلوص یاد
آگیا۔ رموزِ بیخودی میں فرماتے ہیں
:
اے بصیریؒ را ردا بخشندۂ
بربط سلما مرا بخشندۂ
آپ نے بصیری کو چادر اور
مجھے بربط سلما عطا فرمائی ہے۔
ذوقِ حق دہ ایں خطا اندیش
را
اینکہ نشناسد متاع خویش را
اس گناہ سوچنے والے کو ذوقِ
حق عطا کیجیے کیوںکہ یہ اپنی متاع سے آشنا نہیں ہے۔
گر دلم آئینۂ بے جو ہر
است
ور بحر فم غیر قرآں مضمر
است
اگرچہ میرے دل کا آئینہ بے
جوہر ہے تاہم اگر میرے حروف میں (مفاہیم) قرآن کے علاوہ کچھ اور چھپا ہوا ہے۔
اے فروغت صبح اعصار و دہور
چشم تو بینندۂ ما فی
الصدور
آپ کے نور کی وجہ سے
زمانوں کی سحر ہوتی ہے۔آپ کی نگاہ دلوں کے راز سے آگاہ ہے۔ دلوں میں چھپے بھیدوں
کو دیکھ لیتی ہے۔
پردۂ ناموس فکرم چاک کن
ایں خیاباں را ز خارم پاک
کن
آپ میرے افکار کی ناموس کے
پردے کو پھاڑ دیجیے۔اس کیاری کو میرے وجود کے کانٹے سے پاک فرما دیجیے۔
تنگ کن رخت حیات اندر برم
اہلِ ملت را نگہدار از شرم
:میرے جسم پر زندگی کا لباس
تنگ فرما دیجیے۔ میری ملت کے لوگوں کو میرے وجود کے شر سے محفوظ فرما دیجیے۔
سبز کشت نا بسامانم مکن
بہرہ گیر از ابر نیسانم مکن
میری (فکر کی) کھیتی کو سر
سبز نہ ہونے دیجیے۔ ابرِ بہار سے مجھے بارش کا ایک قطرہ بھی عطا نہ کیجیے۔
خشک گرداں بادہ در انگور من
زہر ریز اندر مئے کافور من
میرے انگور کے اندر والی
شراب کو انگور ہی میں خشک کردیجیے۔ میری کافوری شراب میں زہر ملا دیجیے۔
روزِ محشر خوار و رسوا کن
مرا
بے نصیب از بوسۂ پا کن مرا
مجھے قیامت کے دن ذلیل و
خوار فرمایئے اور مجھے اپنے پائے مبارک کا بوسہ لینے سے محروم فرما دیجیے۔
گر در اسرارِ قرآں سفتہ ام
با مسلماناں اگر حق گفتہ ام
(ہاں) اگر میں نے قرآن سے
موتی چنے ہیں اور مسلمانوں سے حق کی بات کی ہے۔
اے کہ از احسان تو ناکس، کس
است
یک دعایت مزد گفتارم بس است
اے وہ ہستی جس کے احسان سے
نالائق، لائق بن گئے۔ (میرے لیے دعا فرمایئے) آپ کی ایک دعا ہی میری شاعری کی
مزدوری ہوگی۔
عرض کن پیش خدائے عزوجل
عشق من گردد ہم آغوش عمل ٭۱۷
آپ اللہ عزو جل سے (میری
طرف سے) عرض کردیجیے کہ میرا عشق، عمل کے سانچے میں ڈھل جائے۔
آج کون سا بڑے سے بڑا
پرہیز گار شاعر ہے جو حضورﷺ سے ایسی باتیں کرسکے کہ اگر میری شاعری میں خلوص اور
پیغام قرآن کے علاوہ کچھ ہو تو آپ مجھے سخت ترین سزا دیجیے اور اگر مَیں نے حق
کے ابلاغ کی سعی کی ہے تو مجھے اپنے رب سے دعا کرکے عملی مسلمان بنوا دیجیے؟
اقبال جیسا عاشقِ رسولﷺ
شاعری کے معاملے میں بھی رعایتیں طلب نہیں کرتا ہے اور اپنے خلوص اور اسلام کے
پیغام کی راست ترسیل کی کوشش پر بھی بھروسا اور اعتماد رکھتے ہوئے خود حضورﷺ سے
طلبِ سزا یا جزا کا خواست گار ہوتا ہے۔ یہ معاملہ وفا کا یا
Total
Commitment ہے۔ نعتیہ شاعری کرنے والوں کو ایسی ہی ریاضت
اور ایسے ہی فنی، فکری اور عملی خلوص کی ضرورت ہے۔ چناںچہ میں عرض کروںگا کہ اگر
آپ کے کلام میں فنی خامیاں ہیں اور فکری کج رَوی ہے تو آپ کو فوری توجہ کرنے کی
ضرورت ہے ۔ یاد رکھیے اگر آپ کی وفا کم زور اور
Commitment  بودا، تو آپ لاکھوں کتابیں لکھ کر بھی حشر میں اللہ اور اُس
کے سچے رسولﷺ کے سامنے شرمندہ ہوںگے اور دنیا میں کوئی اہلِ نظر، اہلِ علم اور
دانندۂ فن آپ کو منھ نہیں لگائے گا۔ اپنے حلقے میں آپ جتنی چاہیں قبولیت حاصل
کرلیں ۔ ادب کا حلقہ آپ کو شاعر تسلیم نہیں کرے گا۔
میری درخواست ہے کہ ہر نعت
گو شاعر میری نصیحت کو گوشِ نیوش سے سُن لے ورنہ زمانہ گزر جائے گا، نہ آپ دنیا
میں زندہ رہیں گے، نہ آپ کو پُر خلوص مشورہ دینے والے۔ رہے نام اللہ کا! نعت پر
نگاہِ انتقاد ڈالنے والوں نے مقدور بھر یہ کوشش بھی کی ہے کہ ایک طرف تو خامیوں سے
آگاہ کیا ہے اور دوسری طرف ان نقادوں کی نظر میں جو کلام شعری و شرعی اسقام سے
امکان بھر مبرا تھا، اس کا انتخاب کرکے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ع
دیکھ! اس طرح سے کہتے ہیں
سخنور نعتیں٭٭
چناںچہ نعت گوئی کا شوق
رکھنے والوں کو گاہے بگاہے مستند شعرا اور دردمند دل رکھنے والے ادیبوں کے نعتیہ
انتخاب زیر مطالعہ رکھنے سے بھی فائدہ ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں نقادانِ فن نے جن
شعرا کے کلام پر اچھی رائے دی ہو اُسے بھی دیکھ لیا کیجیے۔۔ لیکن اس احتیاط کے
ساتھ کہ کہیں خود نقاد صاحب
مروّت کے بوجھ تلے تو نہیں
دب گئے ہیں یا تنقید نگار ستائشِ باہمی کی انجمن میں تو نہیں گھر گئے؟۔۔۔ اچھاکلام
اپنے آپ کو خود منوا لیتا ہے
:
کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار
کی ہے
حضرت احسان دانش اپنے
شاگردوں کو مشورہ دیا کرتے تھے کہ صرف شاعری کا مطالعہ کافی نہیں ہے، اچھا اور
ستھرا شعر کہنے کے لیے نثری ادب بھی پڑھنا ضروری ہے۔نعت کی تخلیق کے لیے تو نثری
ادب کی شرط کے ساتھ ساتھ دینی ادب کی شرط بھی لگانی ضروری ہے۔ موضوع بہت وسیع،
معاملات انتہائی گمبھیر اور دردِ دل بے پایاں ہے اس لیے کہاں تک لکھوں شکیبؔ جلالی
کے ایک شعر پر بات ختم کرتا ہوں
:
غم دل حیطۂ تحریر میں آتا
ہی نہیں
جو کناروں میں سمٹ جائے وہ
دریا ہی نہیں
حوالے /حواشی
٭۱۔
صدیق کلیم، نئی تنقید، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد۔
۲۰۰۷ء، ص۲۹۰
٭۲۔
ایضاً، ص
۲۹۱
٭۳۔
دائرۂ معارفِ اسلامیہ، دانش گاہ پنجاب، لاہور۔ جلد
۲، ص ۲۳۰
٭۴۔
ابو الاعجازحفیظ صدیقی، کشاف تنقیدی اصطلاحات، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، ص
۸
٭۵۔ڈاکٹر
سیّد عبداللہ، اشاراتِ تنقید، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ص
۲۳۸
٭۶۔
ایضاً، ص
۲۳۶
٭۷۔کشاف
تنقیدی اصطلاحات، ص
۸
٭۸۔
جدید تنقید، ص
۲۷۵
٭۹۔
ایضاً ص
۲۶۹
٭۱۰۔
ایضاً ص
۲۷۰
٭۱۱۔
اردو لغت، اردو لغت بورڈ، کراچی
٭۱۲۔
نوراللغات، مؤلفہ مولوی نور الحسن نیر
٭۱۳۔
اردو لغت
٭۱۴۔تنقید
اور جدیداردو تنقید، ڈاکٹر وزیر آغا، انجمن ترقی ارد پاکستان، کراچی، ص
۲۶
٭۱۵۔عندلیبؔ
شادانی، دور حاضر اور غزل گوئی، شیخ غلام علی اینڈ سنز ناشران و تاجران کتب،
لاہور، طبع اوّل
۱۹۵۱ء، ص۳۰۵
٭۱۶۔
ظفر اسحاق انصاری،(مترجم : خورشید احمد ندیم) ’’ڈاکٹر محمد حمیداللہ: مشاہدات و تا
ثرات، مشمولہ فکر و نظر، شمارہ
۴، ۱، جلد ۴۰۔۴۱،
اپریل /ستمبر
۲۰۰۳ء، ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونی
ورسٹی، اسلام آباد
٭۱۷۔
اقبال، رموز بیخودی، کلیات فارسی، شیخ محمد بشیر اینڈ سنز، لاہور، ص
۴۸۷
٭٭
جس کو دعویٰ ہو سخن کا یہ سنا دے اس کو ’’دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا ذوقؔ
‘‘
{٭}